خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے : تحریر آصف جانف

اکثر اوقات “عوام” کو آئین اور قانون توڑنے کے طعنے دیے جاتے ہیں کہ جی عوام آئین اور قانون کی پاسداری نہیں کرتی، یہ ہے وہ ہے۔
آج میں ایک بات کلیئر بتانا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہمارے مُلک کا پورا نظام آئین اور قانون کی خلاف ورزی پر چل رہا ہے۔ یہ آئین اور قانون تو فقط نام تک محدود ہیں۔
تو جب ہمارے اِدارے، ہماری عدالتیں، ہماری پولیس وغیرہ وغیرہ سب کے سب آئین کو جُوتے کی نوک پر رکھ کر چل رہے ہیں تو پھر عوام سے کیا شکوہ؟
کیا کوئی سرکاری بابو بتا سکتا ہے کہ سرکار آئین کو دیکھ کر چل رہی ہے؟
سرکار کی طرف سے قانون اور آئین کو توڑنے کی کئی مثالیں موجود ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔
آپ تو پڑھے لِکھے اور عُہدوں پر فائز ہیں (وزیرِ اعظم سے لے کر تمام چھوٹے بڑے سرکاری بابووں کی بات کر رہا ہوں)
تو جناب آپ نے کونسی کسر چھوڑ رکھی ہے مُلکی وقار کو پامال کرنے میں اور مُلک کو بدنام اور ناکام کرنے میں؟
کیا آپ حقیقی معنوں میں اِنصاف والے ہیں؟ کیا آپ رشوت خور نہیں؟ کیا آپ نے نوٹوں کو قلم پر فوقیت نہیں دی؟ کیا آپ نے امیر اور غریب کا فرق نہیں نِکالا؟ کیا آپ نے میرٹ کی دھجیاں نہیں اُڑائیں؟ کیا آپ نے رعایا کے پیسوں کا غلط استعمال نہیں کِیا؟ کیا آپ نے رعایا کو مُفت تعلیم سے محروم نہیں رکھا؟ کیا آپ نے مذہبی شدت پسندی کو فروغ نہیں دیا؟ کیا آپ نے امن اور اِنسانی حقوق کی پامالی میں کردار نہیں ادا کِیا؟ کیا آپ نے آئین کو محض ایک کاغذ کا ٹُکڑہ نہیں کہا؟
سرکاری بابو آپ مُجھے بتائیں کہ آپ نے کیا کیا غلط نہیں کِیا؟
عوام جو کُچھ بھی کرتی ہے آپ کو دیکھ کر ہی کرتی ہے۔ آپ سُدھر جائیں تو عوام ضرور سُدھرے گی۔ نہ آپ کے خلاف بولے گی، نہ رشوت دے سکے گی اور نہ آپ سے نفرت کرے گی وغیرہ وغیرہ۔
اِس مُلک میں عوام جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ آپ کو دیکھ کر ہی کر رہی ہے۔ آپ ٹھیک ہو جائیں عوام ٹھیک ہو جائے گی۔

Leave a Reply