تِری مورتی مندر، سیدپور چکوال کا سفر ، حصہ اول: ظاہر محمود

ساون کا مہینہ تھا- پیشی ویلا تھا- احتشام نذیر کی کال موصول ہوئی- موصوف بڈھیال ہائی سکول میں میرے سینئیر رہے- یاد دلایا کہ آج ہم نے سیدپور جانا تھا- ایم فل کی کلاس ہو رہی تھی- سوچا کلاسز تو ہوتی ہی رہتی ہیں، ایسے مواقع بار بار نہیں ملتے- ہاں کی اور تیار ہونے لگا- تھوڑی ہی دیر میں ہم سیدپور کی طرف رواں دواں تھے- سیدپور ایک چھوٹا سا گاؤں ہے- جہلم روڈ پہ خانپور سے کوئی بارہ چودہ کلومیٹر تکیہ شاہ مراد کے آس پاس واقع ہے- کٹاس اور سیدپور کے بیچ ایک خوبصورت اور بلند و بانگ پہاڑی حائل ہے- وہیں احتشام نذیر کے ننھیال بھی ہیں- سو انہیں وہاں ایک مندر کی بابت خوب جانکاری تھی- سیدپور کسی زمانے میں ایک چھوٹا سا پررونق شہر ہوا کرتا تھا- یہ ایک پہاڑی پر واقع ہے- آس پاس چھوٹی موٹی وادیاں، چراگاہیں، پہاڑیاں اور جنگل ہیں- پُر پیچ سڑک وہاں تک لے جاتی ہے- رستہ اس قدر عمودی ڈھلوان سا ہے کہ ہنڈا بائیک کی تو بس ہو جاتی ہے- خیر ہم سیدپور پہنچے اور احتشام کے ننھیال سے ایک صاحب ہمیں اس مندر کی اندرونی عمارت دکھانے کے لیے لے گئے- معلوم ہوا کہ اب وہ پرانا مندر کسی کی رہائش گاہ بن چکا ہے-

مندر کا طرزِ تعمیر بڑا حیران کن ہے- عجب مخمصے کا شکار کر دیتا ہے- وِشنو کی مورتی دور سے بنی ہوئی نظر آتی ہے- بالائی حصہ جین مت کی تعمیرات سے مَیل کھاتا ہے- ایک چُھرا چوٹی پہ نصب ہے- کہیں پیتل یا تانبے کا استعمال نظر نہیں آتا- مندر کی عمارت بارشی پانی کے باعث کالی ہوئی پڑی ہے- وہاں کے باسیوں کا اصرار تھا کہ اس مندر پر مٹی کے گارے یا چونے سے پلستر کیا گیا ہے جسے ہم نے ہاتھ لگا کے دیکھا تو من و عن تسلیم کر لیا- یہ مندر اپنی نوعیت کا منفرد مندر اس لیے ہے کہ ایسا طرزِ تعمیر پاکستان کے دیگر مندروں میں شاذو نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے- تین اطراف سے تین تین درے داخلے کے لیے بنے ہوئے ہیں- تعمیراتی سجاوٹ کے لیے وِشنو کے تاج کو بڑی باریک بینی سے تراشا گیا ہوا ہے- کہا جاتا ہے کہ اس کی تین اطراف اس لیے ہیں کہ اسے پرانے وقتوں میں تین گلیاں لگتی تھیں- ایک طرف تین دروں کے عین درمیان میں گنیش کی چھ ہاتھوں والی مورتی بنی ہوئی ہے جو کافی حد تک منہدم ہو چکی ہے- مندر کو چکوال کے مشہور پورس پتھر سے تعمیر کیا گیا- پورس پتھر کا استعمال مغلیہ دور سے پہلے کی عمارات اور ہندو شاہی دور کے بعد کی عمارات میں عام نظر آتا ہے سو یہ قیاس بھی کیا جا سکتا ہے کہ یہ مندر کم از کم مغلیہ دور کے آس پاس کا ہے- ہماری بے بسی قابلِ دید تھی کہ نہ اس مندر کا نام کہیں لکھا تھا اور نہ ہی تاریخ- یہ مندر کسی زمانے میں اس علاقے کی معروف عبادت گاہ تھی، جسے گردو نواح کی سب سے بلند جگہ پر تعمیر کیا گیا- اسے تِری مورتی کا نام 2015ء میں شاہد شبیر نے دیا جو ایسی جگہوں کی دریافتِ نو کا بڑا ذوق رکھتے ہیں- انہیں مندروں کے فنِ تعمیر پہ کافی عبور حاصل ہے- چونکہ مندر کے اندر مورتیاں رکھنے کے لیے تین استھان تھے جبکہ عمومی طرز کے مندروں میں ایسا کم کم ملتا ہے، اسی لیے شاہد شبیر نے اسے تِری مورتی مندر قرار دے دیا- یہ تین مورتی استھان کافی بڑے اور زمین سے کوئی آٹھ فٹ بلندی تک تھے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس عبادت گاہ کی اپنے زمانے میں کیا حیثیت ہو سکتی ہے- مندر کا اندرونی حصہ سیاہ کالا ہو چکا ہے- مقامی لوگوں کے مطابق جب اس علاقے سے سب ہندو چلے گئے تو ایک صاحب بچے جنہوں نے اپنی بقا کی خاطر اسلام قبول کر لیا اور اسی مندر کے اندر رہائش پذیر ہو گئے- عوام الناس میں شیخ صاحب کے نام سے معروف ہوئے- وہ قبلہ کوئی ایسے ناہنجار واقع ہوئے کہ سابقہ ہندو ہونے کے باوجود مندر کے اندر کھانا پکاتے رہے، سو دھوئیں نے اندرونی حصے کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا.

اس سفرنامے کا اگلا حصہ پڑھنے کیلیے یہاں کلک کریں

Leave a Reply