سینٹ الیکشن کا معرکہ : سیف اللہ سیف

الیکشن کمیشن نے 3مارچ کو سینٹ انتخابات کا اعلان کر رکھا ہے جب سے الیکشن کی تاریخ مقرر کی گئی تب سے ہی سیاسی بیانات میں شدت آ گئی ہے، ایک سیاسی پارٹی ہارس ٹریڈنگ کی بات کر رہی ہے تو دوسری پارٹی یہ کہ رہی ہے کے اراکین اسمبلی اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے دلچسپ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب پنجاب سے تمام پارٹیوں کے سینٹرز بلا مقابلا منتخب ہو گۓ نہ پیسہ چلا اور نہ ہی دھاندلی کی کوئی رٹ سنی گئی بلکہ ہر پارٹی خوش دکھائی دی اور یہ پہلا مرحلہ خوشگوار انداز میں اپنے اختتام کو پہنچا، مگر اس سارے عمل کے پیچھے ایسی کون سی شخصیت یا سوچ تھی جس کی بدولت خوش اسلوبی سے یہ معاملات طے پاۓ. وہ شخصیت اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی تھے جن کی مفاہمت کی سیاست کی وجہ سے کئی قومی سطح کے معاملات بہترین انداز میں حل ہوۓ. چوہدری برادران نے ہمیشہ سیاست میں ڈائیلاگ کو اہمیت دی حکومت کی اتحادی جماعت ہونے کی حیثیت سے ان پر متعدد بار یہ الزامات لگے کہ وہ تحریک انصاف کے اراکین کو توڑ کر اپنے ساتھ شامل کر لیں گے، مگر ایسا نہ ہوا. شاید ق لیگ اب ایسی سیاست کرنا نہیں چاہتی اسی لۓ چوہدری برادران نے وزیر اعظم صاحب سے سینٹ کی ایک نشست مانگ لی اور بدلے میں باقی اراکین اسمبلی کو راضی کر کے پنجاب سے بلامقابلا تمام سینیڑز منتخب کرا لۓ

سینٹ الیکشنز میں سب کی نظریں سپریم کورٹ پر تھی کہ کیا سب سے بڑی عدالت اوپن یا سیکرٹ بیلٹنگ پر کیا فیصلہ دے گی مگر عدالت نے کل چار ایک سے فیصلہ دیا اور یہ راۓ دی کے الیکشنز اوپن بیلٹ سے ہوں گے جب کے جسٹس یحیی آفریدی نے اختلافی نوٹ دیا . اب سپریم کورٹ نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ اپنے راۓ دی اور بال دوبارہ الیکشن کمیشن کی کورٹ میں ڈال دی .

ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ کرنے کے لۓ تمام سیاسی جماعتوں کو اقدامات کرنے ہوں گے . اگر ایسا نہ کیا گیا اور کوئی بہتر قانون سازی نہ کی گئی تو یہ دھندہ مزید مضبوط ہو گا اور عوام کے ووٹ لینے والے ہی عوام کی ووٹ کو بیچیں گے اور دوبارہ عوام کو ہی نوچیں گے

سینٹ کا اصل مقابلہ صرف ایک سیٹ پر ہے اور وہ اسلام آباد کی سیٹ عبدالحفیظ شیخ بمقابلہ یوسف رضا گیلانی ہے دونوں امیدوار مضبوط ہیں مگر عبدالحفیظ شیخ کے جیتنے کے امکانا ت زیادہ ہیں.

Leave a Reply