کھلے بٹنوں والا شخص کون؟ : کاشف بشیر خان

یہ 1988 کی بات ہے ساہیوال سے میرے تایا زاد نثار بھائی لاہور آئے ہوئےتھے۔نثار بھائی کے ریلوے میں ٹھیکے تھے اور وہ جب لاہور آتے تو مجھے ساتھ لے جاتے۔انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے دھرمپورہ میں واقع ریلوے کی نئی سوسایٹی جو کہ نہر کے بالمقابل تھی، میں جانا ہے۔جب ہم دونوں وہاں پہنچے تو ہماری ملاقات اس وقت کے چیف کمرشل مینیجر خواجہ محمد ارشد سے ہوئی۔نثار بھائی نے جب ان سے پوچھا کہ خواجہ صفدر صاحب کا کیا حال ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ٹھیک ہیں۔خواجہ صفدر ان دنوں رکن اسمبلی تھے اور اس سے پہلے جنرل ضیاالحق کی بنائی مجلس شوریٰ کے چیرمین۔تب مجھے پتہ چلا کہ خواجہ ارشد۔خواجہ صفدر کے حقیقی چھوٹے بھائی ہیں۔اس دور میں پہلی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہونے والے یوسف رضا گیلانی ریلوے کے وفاقی وزیر تھے۔مجھے آج بھی خواجہ ارشد کا وہ جملہ یاد ہے جب انہوں نے کہا کہ”اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ریلوے کا وزیر ایسے شخص کو بنایا گیا ہے جو ریلوے کی میٹنگز میں شرٹ کے آدھے بٹن کھول کربیٹھتا ہے اور اس نے بدمعاشوں کی طرح گلے میں سونے کی چین پہنی ہوتی ہے”۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جس طریقے سے ریلوے اسٹیشنوں پر ٹھیکے دئیے جا رہے ہیں وہ ریلوے کو تباہ کردیں گے۔ریلوے میں اسٹیشنوں پر ریڑھیوں اور سٹالز کی پیسے لیکر بھرمار اسی زمانے میں ہوئی تھی جسکے بعد ریلوے کی تباہی ہونا شروع ہوئی تھی۔وہ ہی یوسف رضا گیلانی بعد میں میگا کرپشن میں پابند سلاسل بھی رہا اور اب ووٹ خرید کر سینٹ میں پہنچ چکا ہے۔۔۔

Leave a Reply