isi blog adeel hashmi

(مارخور ) کیا آئی ایس آئی ملک دشمن ادارہ ہے ؟ تحریر :سید عدیل ہاشمی

ایک محب وطن پاکستانی ہوتے ہوۓ جب بھی پاکستان پر کوئی بھی دشمن چاہے وہ اندرونی ہو یا بیرونی ہو انگلی اٹھاتا ہے تو دل کرتا ہے کہ اُس انگلی کو توڑ دوں۔
پاک افواج اور آئی ایس آئی… کیا ہم اُن کے وقار پر انگلی اٹھا سکتے ہیں جبکہ دنیا اُن کو مانتی ہو۔ دنیا کہتی ہے کہ پاکستانی افواج دنیا کی بہترین فوج اور آئی ایس آئی دنیا کا بہترین منظم ادارہ ہے۔

جب دشمن بیرونی طور پر ہمارے خلاف کچھ نہیں کر پاتا تو وہ پھر اندرونی طور پر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ملک میں انتشار پیدا کرنے کے مواقع ڈھونڈتا ہے۔

آئیے ایک نگاہ زمینی حقائق پر ڈالتے ہیں۔

اس وقت جب دنیا میں فلسطین اسرائیل تنازعے نے سر اٹھایا ہوا ہے۔ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پرتشدد کاروائیوں کے نتیجے میں بہت سے مسلمان شہید اور بے گھر کر دیے گئے ہیں، جب سفارتی سطح پر جس طرح ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسرائیلی اینکر کو منہ توڑ جواب دیے وہیں وزیر اطلاعات جناب چودھری فواد نے ہارڈ ٹاک میں پاکستان کا موقف جس جارحانہ طور پر پیش کیا تو یہ سب دشمنوں کو کیسے ہضم ہو سکتا تھا۔ ایسے میں لازمی طور پر دشمن ممالک نے اندرون طور پر کچھ ایسی منصوبہ سازی کی کہ جس سے پاکستان کو دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی کرنے والا ملک دکھایا جا سکے۔

جب ملک کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہو تو کچھ سوال ذہن میں اٹھتے ہیں۔

کیا ائی ایس آئی ملک دشمن ادارہ ہے کہ ایک ایسے وقت جب ملک آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنسا ہو اور دوسری طرف ایف اے ٹی ایف کی تلوار سر پر ٹنگی ہو۔ تو کیا ہم اُس سے ایسی حماقت کا تصور بھی کر سکتے ہیں کہ ایک ایسے نام نہاد صحافی اسد علی طور جس کا کسی نے کبھی نام بھی نا سنا ہو اُس پر تشدد کر کے ہیرو بنا دے۔ادارے کبھی بھی ایسے کچے کام کرتے ہی نہیں ہیں۔

پھر ہم نے دیکھا کہ حامد میر عاصمہ شیرازی ۔ منیزے جہانگیر نے اداروں کے خلاف کتنی نازیبا لہجے میں گھٹیا زبان کا استعمال کر کے ملک دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع فراہم کیا کہ پاکستان کس منہ سے انسانی حقوق کی بات کرتا ہے اسکے یہاں تو خود صحافیوں کو بولنے کی آزادی نہیں دی جاتی۔

ہم سب نے ماضی میں بھی حامد میر ، ابصار عالم ، عمر چیمہ، عاصمہ شیرازی، جیسے لفافہ صحافیوں کو ہمیشہ پاک افواج کے خلاف زہر اگلتے دیکھا ہے۔

جس ملک میں سب کچھ بکتا ہو تو کون نہیں جانتا کہ پاکستانی میڈیا کو کیسے پلاٹ پرمٹ اور نوٹوں کے لفافوں کے ذریعے صحافیوں کو خریدا جاتا رہا ہے۔

ہم حکومتِ وقت سے چاہے لاکھ اختلافات رکھیں، ہم اداروں پر بھی تنقید کریں مگر یاد رہے کہ جب جو بھی حد کراس کرے گا تو پھر لازم ہے کہ اداروں کو کھل کر ان کے خلاف کارواٸی کرنا پڑے گی کیونکہ ملکی وقار اور اسکی سالمیت کے خلاف کام کرنے والوں کو کبھی بھی رعایت نہیں دی جا سکتی۔

Leave a Reply