میری ڈائری کا ورق تحریر : عافیہ رائے

میری ڈائری کا ورق تحریر : عافیہ رائے

شوگران کی سیر؛

چونکہ ابھی تک میں نے برف باری اور برف والے علاقوں کی سیر نہیں کی تھی تو اس وجہ سے میں بہت نروس اور ایکسائٹڈ بھی تھا ۔
جیسے ہی ہم ہری پور سے شوگران کیلئے نکلے تو دل ہی دل میں وہاں کے نظارے آنکھوں کے سامنے سمٹ آئے ، ایبٹ آباد سے ہوتے ہوئے مانسہرہ اور پھر مانسہرہ سے بالاکوٹ تک کا سفر کیسے ہوا پتہ ہی نہیں چلا ،
بالاکوٹ میں ایک جگہ پر تھوڑی دیر کیلیے رکے تو بالاکوٹ کی خوبصورتی نے بھی ہمیں جکڑ لیا ، دل تو بہت تھا کہ بالاکوٹ میں ہی ایک دو گھنٹے گزاریں لیکن ہماری منزل کہی اور تھی ۔ سو بالاکوٹ سے ہوتے ہوئے شوگران کی طرف نکل گئے ، شوگران تک تو روڈ اچھی لیکن پہاڑوں کے بیچ ہونے کیوجہ سے گاڑی کم رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی ۔
شوگران پہنچ کر ہم نے وہاں تھوڑی دیر کیلیے ریسٹ کیا ۔ شوگران ٹاپ تک جانے کیلئے جیپ والے کے ساتھ بیٹھ گئے ، روڈ خراب ہونے کیوجہ سے دل میں ایک انجانے سے خوف نے جگہ گھیر لی تھی لیکن جیسے ہی سامنے برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کو دیکھتے تو حوصلے بلند ہونے لگتے ۔ شوگران ٹاپ سے آگے ” سری ” آتی ہے وہاں تک جانے کیلئے جیپ کا سہارا لینا پڑتا ہے لیکن ہمارے گروپ نے ہائیکنگ کا فیصلہ کر لیا سو چل پڑے ۔ ہائیکنگ لفظ بولنے اور سننے میں جتنا مشکل لگتا ہے بلکل اسی طرح ہائیکنگ کرنا مشکل بھی ہے ، راستے میں ہمارے بہت سارے دوست کیچڑ کا شکار ہوئے اور اپنے کپڑے بھی گندے کر ڈالے ۔
بلکل اس طرح ہمارے کچھ دوستوں نے راستے ہی میں ناغہ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور انکی ہمت جواب دے گئی ۔
لیکن مجھ سمیت دو دوستوں نے اوپر تک جانے کا فیصلہ کر لیا تھا کیونکہ برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑ بار بار ہمیں اپنے طرف کھینچ رہے تھے اور ہم بھی کھینچتے ہی چلے گئے ۔
اوپر پہنچ کر برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں اور انتہائی سخت قسم کی سردی اور خشک ہوا نے ہمارا استقبال کیا ۔
بذات خود مجھے اتنی زیادہ سردی کا احساس نہیں ہوا کیونکہ میں ان نظاروں میں ایک مخصوص وقت تک کھو سا گیا تھا ۔
پتہ نہیں کیوں ان پہاڑوں کو دیکھ کر مجھے کوہ قاف کی پریاں یاد انے لگیں۔
خیر دل پر پتھر رکھ کر وہاں سے واپسی کی نیت باندھ لی اور ہماری نیت باندھنے کے ساتھ ہی برف باری شروع ہو گئی۔
زندگی میں پہلی بار اپنی آنکھوں سے برف باری کو دیکھنا ، ان برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو چھونا اور ساتھ میں خوشی کیوجہ سے منہ سے عجیب قسم کی آوازیں نکالنے میں بھی ایک الگ سا سرور تھا ۔
ہم نے واپسی پر وہ ساتھ ، آٹھ کلومیٹر کیسے طے کر لئے پتہ ہی نہیں چلا ۔
جو لوگ سیر کے شوقین ہیں ، انکے دلوں کو تسکین پہنچانے کیلئے شوگران ایک زبردست پکنک پوائنٹ ہے ۔

Leave a Reply