میری ڈائری کا ور ق تحریر عافیہ رائے

شاہ دولہ کے چوہے !!

پاکستانی معاشرے کی فرسودیت، جہالت ، جو بھی نام دے لیں مگر ان حقائق سے چشم پوشی اب
گھناؤنے جرم کی داستان بن چکی ہے۔
اس فرسودیت
نے نجانے کتنے ایسے بچوں کا مستقبل تباہ و برباد کردیا جنکی نشوونما
نارمل ماحول میں ہوتی تو وہی بچے جنکو اب شاہ دولہ کے چوہے بنا کر چولے پہنائے جاتے ہیں ان میں سے اکثر کے گلے میں میڈل ہوتے۔
کمال جہالت ہے
ان والدین کی جو اپنی ہونہار اولادوں کو سڑکوں اور چوراہوں پر شاہ دولہ کے نام پر بھیک مانگنے کیلئے پیشہ وروں کے حوالے کر دیتے ہیں،
جنھوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے
ایک گھناونا کھیل رچا رکھا ہے،
سادہ لوح لوگ جو اولاد کی نعمت سے محروم جا بجا دھکے کھا رہے ہوتے ہیں انھیں شاہ دولہ کی نذر اپنی پہلی اولاد کر دینے کے بعد
تندرست اولاد کے
پیدا ہونے کی نوید سنا کر ان کا پہلا ہونے والا بچہ شاہ دولہ کا چوہا بنا دیا جاتا ہے،
اور کہا جاتا ہے کہ منت ماننے کے بعد ہونے والی اولاد ذہنی معذوری لیکر پیدا ہوتی ہے،
حالانکہ ایسا ہرگز کچھ نہیں ان باقاعدہ تندرست بچوں کو لوہے کے شکنجے پہنا کر
ان کی دماغی
نشوونما روکی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ بچے ظاہری طور پر یوں ابنارمل
ہو جاتے ہیں
اور پھر ان سے متعلق طرح طرح کی روایات منسلک کر دی گئیں ہیں
جن کا دور دور
حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ مذہب کے نام پر انسانیت کی تذلیل کا دھندہ کرنے والوں کی کہانی ہے،
آج بھی شاہ دولہ کے مزار پر 10 ہزار شاہ کے چوہے موجود ہیں جن کی کمائی
ہٹے کٹے نوجوان کھا رہے ہیں۔
حکومت وقت اور گزر جانیوالی حکومتیں ان مسائل کو کسی ایجنڈے میں شامل نہئں کرتی
حالانکہ یہ پہلی فرصت میں نوٹس لینے والا امر ہے ،
پاکستان کا مستقبل تابناک بنانیوالوں کو شاہ دولہ کا چوہا بنا کر گداگری کی لعنت کو ناسور بنا دیا اس معاشرے کا۔
ان مافیاز کو بے نقاب کر کے اور
سخت قانون لاگو کر کے اس ناسور کو کاٹ کر پھینکنا ہوگا۔

Leave a Reply