تبدیل شدہ دنیا کی سیاست تحریر : روشن لعل

تبدیل شدہ دنیا کی سیاست تحریر : روشن لعل

بین الاقوامی منظر نامہ میں گزشتہ ہفتے کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن کو دیکھتے ہوئے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ کوئی بھی ملک جن معاملات کو بنیاد بنا کر جارحانہ یا مفاہمانہ خارجہ پالیسی اختیار کرتا ہے،کیا وہ معاملات ہی اس ملک کی خارجہ پالیسی کا اصل محرک ہوتے ہیں یا درپردہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔

جن واقعات کا یہاں حوالہ دیا گیا ہے وہ دنیا کے کچھ اہم سربراہان مملکت کی مختلف باہمی ملاقاتوں سے متعلق ہیں۔ان دو مختلف ملاقاتوں کاایک مرکزی کردار امریکی صدر جو بائیڈن جبکہ دیگر دو کردار روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ترکی کے صدر طیب اردوان ہیں۔ پیوٹن اور بائیڈن کے درمیان ملاقات جی سیون ملکوں کے سربراہاں کی کانفرنس کے موقع پرجنیوا میں ہوئی جبکہ اردوان اور جو بائیڈن ناٹو کے رکن ملکوں کی برسلز میں منعقدہ میٹنگ کے دوران ملے۔

ان تینوں سربراہان مملکت کی علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کو اس تناؤ کے خاتمہ کا محرک تو تصور نہیں کیا جارہا جو امریکہ، روس اورترکی، امریکہ کے درمیان موجود ہے مگر یہ خیال ضرور کیا جارہا ہے کہ اگر تناؤ ختم نہ ہو سکا تو کم از کم اس میں اضافہ بھی نہیں ہوگا۔ جب امریکہ کی روس اور ترکی کے ساتھ تناؤ کی بات ہوئی ہے تو ضروری ہے کہ یہ ذکر بھی کیا جائے کہ روس اور ترکی کے امریکہ کے ساتھ تناؤ کی وجوہات کیا ہے اور اب اس تناؤ کو کم یا ختم کرنے کے لیے ان ممالک نے لچکدار رویہ کیوں اختیار کیا۔

جہاں تک روس اور امریکہ کے درمیان تناؤ کا تعلق ہے تو یہ وہ ورثہ ہے جو امریکہ کے پاس تو پہلے سے موجود تھا مگر روس کو اس مرحوم سوویت یونین کا وارث ہونے کی وجہ سے ملا جو سوویت یونین سرد جنگ کے دور میں امریکہ کا سب سے بڑا دشمن اور حریف سمجھا جاتا تھا۔ دو ملکوں کے تعلقات کے لیے اگر جنگ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، جنگ کی بجائے اگر تناؤ کا لفظ استعمال ہو تو اس سے یہ اخذ کیا جاتا ہے وہ ایک دوسرے کے دشمن تو نہیں مگر ایک دوسرے سے ناراض ضرور ہیں۔

اگر سوویت یونین کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والے روس اور امریکہ کے تعلقات کی بات کی جائے تویہ دونوں ملک کبھی بھی تناؤ کے ماحول سے باہر نہیں آسکے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان دشمنی اور سرد جنگ تو اس وجہ سے تھی کہ دونوں اپنے اپنے طور پر ایک دوسرے کی ضد سمجھے جانے والے معاشی نظاموں اشتراکیت اور سرمایہ داری کے علمبردارتھے مگر روس اور امریکہ کے درمیان تناؤ کیوں ہے جبکہ ان دونوں ملکوں میں سرمایہ دارانہ نظام معیشت رائج ہے۔

اس سوال کا سادہ ترین جواب یہ ہے کہ سوویت یونین اور امریکہ کی دشمنی کی وجہ اگر متضاد معاشی نظام تھے تو امریکہ اور روس کے درمیان تناؤ کی وجہ ان دونوں ملکوں کے اپنے اپنے معاشی مفادات ہیں۔ اس بات سے مراد یہ ہے کہ اگر دو ملکوں میں یکساں معاشی نظام رائج ہو تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ ان کے تمام تر معاشی مفادات بھی مشترکہ ہو گئے ہیں۔ روس اور امریکہ کے درمیان تناؤ کی وجہ ان کے معاشی مفادات ہیں یہ مفادات جہاں ٹکراتے ہیں وہاں ایک دوسرے کے لیے ان کی خارجہ پالیسی جارحانہ ہوجاتی ہے اور جہاں معاشی مفادات مشترکہ ہوں وہاں خارجہ تعلقات میں تناؤ کی بجائے لچک نظر آنے لگتی ہے۔

اگر امریکہ اور ترکی کے باہمی تعلقات کی بات کی جائے تو یہ دونوں ملک ایک ایسے عسکری پلیٹ فارم پر اتحادی ہیں جس کے اتحاد کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ اگر اس اتحاد میں شامل کسی ایک ملک پر حملہ ہو گا تو دیگر تمام اتحادی اسے اپنے اوپر حملہ تصور کریں گے۔ طیب اردوان کی حکومت قائم ہونے سے پہلے قبرص کے تنازعہ کے علاوہ ترکی اور امریکہ اکثر ایک ہی صفحے پر نظر آتے رہے۔ اردوان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ترکی اور امریکہ کے تعلقات کا گراف اوپر نیچے ہونا شروع ہوا۔

واضح رہے کہ ترکی شاید دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جو 1949 میں ناٹو کا حصہ بنا اور اس نے 1949 میں ہی اس نے اسرائیل کو بھی تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد 1969 میں جب مسجداقصیٰ پراسرائیلی حملے کی مذمت میں مسلم ملکوں کی تنظیم او آئی اسی بنی تو ترکی اس میں بھی شامل ہو گیا۔ یہ تو محض اتفاق ہے کہ ترکی خطہ عرب میں موجود نہیں ہے ورنہ وہ شاید 1945 میں بننے والی عرب لیگ میں بھی سمو چکا ہوتا۔ ترکی ناٹو کا حصہ ہونے کے باوجودہزار کوششیں کر کے بھی یورپی یونین کا حصہ نہیں بن سکا۔

سرد جنگ کے دور میں ناٹو میں شامل ہونے کے ناطے ترکی امریکی پالیسیوں کی پیروی کرتا رہا لیکن سرد جنگ کے خاتمے اور خاص طور پر اردوان کا عہد اقتدار شروع ہونے کے بعد ترکی کبھی امریکہ اور کبھی روس کے قریب نظر آیا۔ اس دوران ترک صدر اردوان کوکبھی تو امریکی آشیر باد سے داعش کے پشت پناہ کے طور پر شام کی خانہ جنگی کاذمہ دار تصور کیا گیا اور کبھی روس کے تعاون سے داعش کی سرکوبی کرنے میں مصروف سمجھا گیا۔

اردوان کے دور حکومت میں ترکی نے اسرائیل کے خلاف نعرے تو بہت لگائے مگر کبھی بھی اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کی بات نہہیں کی۔ یہی اردوان جو حالیہ اسرائیل عرب تنازعہ میں جو بائیڈن کے حمایت سے فلسطینیوں پر ظلم کرنے والے اسرائیلیوں کا مخالف نظر آرہا تھا اسی اردوان نے بیلجئم کے شہر برسلزمیں نہ صرف جوبائیڈن سے ملاقات کے دوران اس کا ہاتھ چوما بلکہ اسےمزید تعاون کا عندیہ بھی دیا۔

اب یہ بات ذہن سے محو نہیں ہونی چاہیے کہ یہ وہی جو بائیڈن ہے جس نے فلسطینیوں پر کیے گئے نیتن یاہو کے مظالم کو اسرائیل کی اپنے دفاع میں کی گئی کاروائی قرار دیا تھااور یہ وہی اردوان ہے جس نے مسلم امہ کے قائد ہونے کا تاثر دیتے ہوئے اسرائیل کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی۔

یہ وہ اردوان بھی ہے جس کے ساتھ ہمارے وزیر اعظم نے یہ طے کیا تھا کہ وہ ترکی اور ملائشیا کے تعاون سے مسلم امہ کی رہنمائی کے لیے کردار ادا کریں گے۔ ویسے عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران پاکستان نے تو ولاد میر پیوٹن سے بھی اس سوچ کے تحت کچھ خاص قسم کی امیدیں وابستہ کر لیں تھیں کہ اگر امریکہ نہ سہی تو روس ہی سہی۔

حالیہ دنوں میں پیوٹن کی بائیڈن اور بائیڈن کی اردوان سے ملاقات کے بعد یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ امریکہ، ترکی اور روس،امریکہ کے درمیان سرد مہری کی برف پگھل چکی ہے مگر یہ ضرور سوچا جا سکتا ہے اس تبدیل شدہ دنیا میں کوئی بھی ملک کسی بھی دوسرے ملک کا نہ تومستقل دوست ہو سکتا ہے اور نہ دشمن رہ سکتا ہے۔

پاکستان کو بھی اس تبدیل شدہ دنیا کی سیاسی معروضات کو سمجھ کر اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرنے چاہیے کیونکہ فی الحال اس دنیا میں مذہب، امہ، قومیت اور علاقائیت کے نام پرملکوں کے اتحاد بننے اور کامیاب ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

Leave a Reply