پیارے پالتو (2) تحریر :‌ظفر اقبال

پیارے پالتو (2) تحریر :‌ظفر اقبال

بلی: اس کے بھاگوں عام طور پر چھینکا ٹوٹا ہے، مگر یہ پھر بھی چوہوں کی تلاش میں ماری ماری پھرتی ہے۔
بیشک اس نے حج بھی کیا ہوا ہو نو سو چوہے کھا کہ،
پالتو جانوروں میں غالبا بلی سب سے مقبول جانور ہے،
ایک عورت نے چند روز کے لئے ملک سے باہر جانا تھا وہ اپنے خاوند کو کہہ کر گئی کہ اس کی ماں کا اور بلی کا خاص خیال رکھے۔
چند دن بعد وہ بلی مر گئی،
اس کے خاوند نے بتایا کہ بلی مر گئی، وہ کیسے؟
پوچھنے پر اس
نے بتایا کہ بلی چھت پر کھیل رہی تھی گر کر زخمی ہوئی اور مر گئی۔
بیوی ناراض ہوئی کہ اتنے بڑت صدمے کی خبر یوں دیتے ہیں ؛ ب
پہلے تم بتاتے کہ زخمی ہوگئی دو تین دن بعد بتاتے کہ مر گئی۔
چند دن بعد اس خاتون کا فون آیا کہ میری ماں ( جو کہ مر چکی تھی) کیسی ہے تو اس نے کہا چھت پہ کھیل رہی ہے۔
پالتو بلیوں کی بہت ناز برداری کی جاتی ہے ،
انھیں صاف رکھا جاتا ہے،
ایک شخص کہیں جا رہا تھا اس نے دیکھا کہ ایک آدمی بلی کو صابن مل مل کے نہلا رہا تھا اس نے کہا یہ تم کیا کر رہے ہو اس طرح تو یہ سردی سے مر جائے گی مگر وہ آدمی اپنے کام میں لگا رہا کچھ دیر بعد مڑ کے دیکھا تو بلی مری پڑی تھی ،اور وہ شخص غمزدہ بیٹھا تھا
اس نے کہا میں نے تمھیں کہا تھا نہ دھو مر جائے گی ؛
وہ بولا دھونے سے نہیں نچوڑنے سے مری ہے۔
بلی کو شیر کی خالہ بھی کہا جاتا ہے،ایک بار اس نے شیر کو سارے گر سکھا دیئے ایکدن شیر کو بھوک لگی وہ آگے بڑھا تو بلی درخت پر چڑھ گئی ، شیر نے کہا تم نے مجھے یہ گر نہیں سکھایا؟
تو وہ بولی یہ گر سکھاتی تو آج اپنی جان کیسے بچاتی۔

Leave a Reply