بھٹو بھٹو تھا : جہانگیر اشرف

5 جولائی کی رات ایسی تاریک رات تھی جس کے بعد میرے ملک میں سحر نہ ہو سکی۔ آ ج تک میرا ملک ‘مارشل لائی’ تاریکیوں سے نہ نکل سکا۔ شدت پسندی ہمارے اجتماعی مزاج کا حصہ بن گئی۔ مارشل لائی فورس شکلیں بدل بدل کر جمہوریت کا خون چوس رہی ہے۔ منصف بھی مارشل لائی اختیارات کے حامل ہیں. وہ عوامی نمائندوں کی تذلیل کریں یا نا اہل کریں، کس کی مجال ہے کہ سر اٹھا سکے۔

قائد اعظم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اس ملک میں جمہوریت اور عوامی راج کا استعارہ تھا۔ وہ ایسا مہتاب تھا کہ جس کی روشنی نے میرے ملک کےکونے کونے کو منور کیا۔ جس نے بچے بچے کو اپنے حقوق کا شعور دیا۔ لیکن ظلمتوں کے سوداگروں نے مارشل لائی اندھیرے سے سارے ملک کو تاریک کر دیا. آ ج چالیس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ہم اس اندھیرے سے نہیں نکل سکے۔ ماؤں نے ہزاروں لاشیں ا ٹھائیں، کتنے بچے مارشل لائی فسادیوں کی نذر ہوگئے۔ خیبر سے کراچی تک، کوئٹہ سے لاہور تک ہر گلی ہر کوچہ مارشل لائی مخلوق کے شر کی وجہ سے مقتل کا نقشہ پیش کرتا رہا۔ مذہبی منافرت، فرقہ پرستی، صوبائیت اور لسانیت کا زہر ہر پاکستانی کی رگوں میں اتار دیا گیا۔ اندھیروں، غربت اور جہالت کو اس قوم کے مقدر میں لکھ دیا گیا۔

اب بھی کچھ قوتیں گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر پاکستانی عوام کے حقوق پر شب خون مارے بیٹھی ہے۔لیکن پاکستان کے عوام پہلے سے زیادہ سیاسی اور جمہوری شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ پاکستانی عوام سے زیادہ دنیا میں شاید ہی کسی دوسری قوم نے جمہوریت اور عوام کے حقوق کے لیے اتنی قربانی دی ہو۔ بے شک یہ رات طویل ہے لیکن ہر تاریکی کے بعد روشنی ہے اور بقول مجروح سلطانپوری

ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے

Leave a Reply