ہم اپنے خواب کیوں بیچیں : افتخار بھٹہ

5جولائی 1977 کچھ جماعتوں کے ہاں جمہوری آمر سے جان چھڑانے کا دن ہے مگر پیپلز پارٹی اسکو جمہوریت کا قتل قرار دیتی ہے کیونکہ اس دن مذاکرات کی ناکامی کابہانہ بناکر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کا تختہ الٹ دیا گیا ۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والوں کو ٹکٹکی لگا کر کو ڑے لگائے اور جیلوں میں ڈالا گیا ۔ جنرل ضیا کی چرب زبانی سے متاثر ہوکر جمہوریت اور دین کا نام لینے والی جماعتیں جنرل ضیاء کے جمہوریت پسند وں کے خلاف ظلم وستم میں شریک کار بنیں ۔

غیر جما عتی بلدیاتی نظام کے گملوں میں اگائے گئے دکانداروں کے پودے آج قدآور درخت بن کر مختلف جماعتوں میں، جنرل ضیاء کے آسیب کے طور پر اقتدار کے ایوانوں مین منڈلا رہے ہیں ۔ان کیلئے اقتدار میں شمولیت سب سے اہم ہے۔ وہ ہی شوگر ، ڈرگز اور عوام مخالف مافیاز ہیں ۔جنرل ضیاءکےمارشل لاء نے نظریاتی سرحدوں کا نیا بیانیہ دیا اور جہاد افغانستان کا ایندھن بننے کیلئے نوجوان نسل کو جھونک دیا گیا ۔

اس آمریت کے خلاف جہوریت نوازقوتوں نے جس قدر مزاحمت کی ، یہ پاکستان کی تاریخ کا سنہری باب ہے ۔یہ درست ہےکہ ضیاء آمریت نے فر قہ واریت ،نسلی عصبیت، مذہبی جنونیت ،افغاُن و کشمیر جہاد ،سمگلنگ ، کالے دھن اور برداری ازم کو فروغ دیا جو کالے ناگ بن کر سماج کو ڈس رہے ہیں۔ہاں، ترقی پسند قوتیں بحالی کے عمل سے گزر رہی ہیں ۔ہمارے کچھ انقلابی قوم پرست لیڈر ، لیڈر شپ کی حقیقت جاننے کے بعد نوازشریف اور مریم کے بیانیے میں انقلاب تلاش کر رہے ہیں۔

ضیاء الحق کا دور گھٹن اور سختی کا زمانہ تھا اس نے انتہائی مکاری سے فرد واحد سے لیکرثقافت اور مذہبی اخلاقیات اور ثقافت کو استعمال کرکے پارلیمانی جمہوریت کو بد نام کر نے اور غیرسیاسی بنانے کی سازش کی اور کس ترکیب سے سماج کوبنیاد پرستی کی لت لگا کر ہیروئن کا عادی اور ہاتھوں میں کلاشنکوف پکڑادی ۔ناجائز صدارت کو جائزقرار دلوانے کےلیے متنازعہ سوالا ت کا سہارا تک لیا گیا ۔

ہائے کیا وقت تھا جو بیت گیا
اب جوسوچوُُں تو آنکھ بھر آوے

Leave a Reply