تو میرا کاروبار کیسے چلے گا ؟ : آغا سہیل

بچپن کی ایک خوبصورت دوپہر یاد آتی ھے. میں اور میرا دوست بلو ،جو، باربر، نہیں تھا. ریلوے لائن کے اس طرف میدان میں کھیل رہے تھے کہ ڈگڈگی بجاتا مداری تماشا کرنے آگیا. لو جی بچوں کی عید ہوگئی. مداری ڈگڈگی بجاتا ہوا بچوں کا کوئی تیس چالیس فٹ کا دائرہ بنوا رہا تھا . جب دائرہ بن گیا تومداری ڈگڈگی بجاتا بجاتا اب بچوں میں سے تماشے کے لیے ایک بچہ جمورا تلاش کرنے لگا . آخر کار اس کی نگاہ انتخاب نے بلو کا انتخاب کیا اور اس نے بلو کو بچہ جمورا بنا ڈالا . بلو خوش ہوگیا اور یہ سمجھا کہ شاید اسے وزیر اعلیٰ بنایا جا رہا ھے . بلو خوشی خوشی دائرے کی دوسری طرف مداری کے سامنے بیٹھ گیا. میں اسے سپورٹ کرنے کے لیے اس کی دائیں طرف قریب ہی بیٹھ گیا، تماشا شروع ، کبھی بندر ناچے، کبھی سسرال جائے، کبھی بکرا کرتب دیکھتا رہا، مداری کبھی بچے جمورے کے ناک سے روپیہ نکالے، کبھی کان سے کبوتر ،سب بچے جمورے پر ہنستے اور مذاق کرتے، جس سے بلو کو سخت غصہ آرہا تھا اور مجھ سے بھی اپنے دوست کی سر عام بے عزتی برداشت نہیں ہو رہی تھی. میں نے بلو کو اشارہ کیا کہ چلو چلیں بلو بولا ” رک، مداری کی….”

اب مداری نے اعلان کیا سب لوگ پیسے نکال لیں کیونکہ آخری اور بڑا تماشا ہونے والا ھے. مداری نے دور سے بندر کو حکم دیا کہ بچے جمورے کی جھولی میں بیٹھ جا ، بندر بلو کی جھولی میں ابھی آیا ہی تھا ، کہ بلو نے بندر کو منہ سے پکڑا اور دوڑ لگا دی ، اس کے پیچھے میں نے بھی دوڑ لگا دی . مداری اپنا چولا ، سامان اور بکرا لے کر ہمارے پیچھے دوڑا . اب بلو اور بندر آگے آگے، میں اس کے پیچھےپیچھے . مداری ہمارے پیچھے پیچھے . مداری کے پیچھے بچے جو بندر کے اغوا کوتماشا سمجھ رہے تھے . یہ ریس ریلوے لائن پر آگئی. بلو نے ریلوے لائن پار کی اور اس کے پیچھے میں نے اور اتنے میں ہی اچانک ریل گاڑی آگئی. مداری لوگ کیونکہ ہم سے بہت پیچھے تھے. اب ان کو ریل لائن کے اس طرف کھڑے ہو کر گاڑی کے گز ر جانے کا انتظار کر نا پڑا .

ہماری موج ہوگئی، اتنے میں ہم لوگ بندر سمیت بلو کے گھر کی چھت پر فاتحانہ لافٹر دے رہےتھے . مشن کمپلیٹ ہوچکا تھا. ہم نے اوپر سے دیکھا کہ مداری ہمیں دیوانہ وار ڈھونڈ رہا ھے . وہ بھی گلی گلی سے واقف تھا . دن ڈوب گیا تو میں نے بلو سے کہا ” اس بندرکو کھانا کھلاو کہیں رات کو مر نہ جائے یار” لیکن سوال یہ تھا کہ کھلایا کیا جائے.

یاد آیا کہ کل ہی تو مس نے پڑھایا تھا کہ monkey likes banana . آؤ کیلے لاتے ہیں. ہم ایک درجن کیلے لائے، آدھے ہم نے کھائے، آدھے اس بندر کو کھلائے جس نے کیلے یوں کھائےجیسے زندگی بھر کا بھوکا ہو . ” رات بہت ہوگئی ھے میں چلتا ہوں، کل ملاقات ہوگی” . یہ کہہ کر میں اپنے گھر کی طرف چل دیا. لو جی، اب صبح میں جب بلو کی طرف گیا تو پتہ چلا کہ بلو نے صبح صبح بندر ، جیدے بندری کو دو ہزار میں فروخت کر دیا ھے . اور جیدے بندری نے وہی بندر اسی مداری کو قسم کھاتے ہوئے یہ کہہ کر واپس فروخت کر دیا کہ” جتنے کا لیا ھے اتنے کا ہی تم کو دے رہا ہوں ، مبلغ پانچ ہزار فقط ” . مداری جیدے بندری سے یہ کہہ کر بندر واپس لے گیا کہ میرے باپ کی توبہ اگر آئندہ اس محلے سے کسی کو بچہ جمورا بناؤ ں .

تو پھر میرا کاروبار کیسے چلے گا ؟ ” جیدے بندری نے دل میں کہا.

Leave a Reply