پاکستان اور طالبان : جہانگیر اشرف

افغانستان میں امریکی افواج کے انخلاء کو ایک طبقہ طالبان اور پاکستان کی فتح قرار دے رہا ہے جبکہ ایک طبقہ ایسا بھی موجود ہے جس کی رائے ہے کہ طالبان دراصل امریکہ کی پیدوار ہیں جس کو امریکہ ، ایشیاء میں اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتا آ رہا ہے۔

اس بات میں تو ذرا بھر بھی شک نہیں کہ طالبان کی بنیاد پاکستان ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے امریکہ کی ایماء پر رکھی جبکہ اس عمل میں پاکستان کو امریکہ نواز خلیجی ریاستوں کی بھی بھرپورحمایت حاصل تھی۔ یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ طالبان اور دیگر مذہبی شدت پسند تنظیموں کی وجہ سے مسلم ممالک پر سامراجی قوت امریکہ کا تسلط مضبوط ہوا ہے جبکہ چار ملین مسلمان ہلاک ہوئے ہیں. کئی ٹریلین کا معاشی نقصان ہوا ہے.

9/11 اور طالبان کی شدت پسند پالیسیوں نے امریکہ کو افغانستان پر حملہ کا جواز فراہم کیا۔ امریکہ نے گوانتاناموبے میں طالبان پر انسانیت سوز ظلم کیے اور بیس سال افغانستان میں رہ کر اور تقریبا تین ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود وہ طالبان کو شکست نہ دے سکا۔ اب جب کہ امریکہ واپس جا رہا تو افغانستان میں امریکہ اور بھارت کے سہارے کھڑی افغان حکومت ڈگمگاتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور طالبان کی تیزی سے پیش قدمی جاری ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چند مہینوں میں طالبان پورے ملک پر قابض ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ہو گیا تو کیا افغانستان اور پاکستان میں امن قائم ہو جائے گا؟ اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔

پاکستان کا مفاد اس بات پر منحصر ہے کہ ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) اور بھارت نواز شدت پسند کے ٹھکانوں کو ختم کرئے اور پاکستان مخالف عناصر کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرے اس کے علاوہ خانہ جنگی سے بچنے کے لیے طالبان ، شمالی اتحاد کے لیے عام معافی کا اعلان کریں اور تمام افغان اکائیوں سے ملکر ملکی آئین اور حکومت تشکیل دیں . اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ ساری دنیا کے امن کے لیے اچھا شگون ہو گا۔ اگر طالبان اس کے برعکس طاقت اور شدت پسندی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو وہ افغانستان کو ایک بار پھر خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیں گے۔ پاکستان کی نہایت کمزور معیشت پر مزید پانچ سے چھ لاکھ مہاجرین کا بوجھ پڑ جائے گا۔ ان مہاجرین کے ساتھ پاکستان مخالف عناصر بھی پاکستان میں داخل ہو کر پاکستان کو مشرف دور کی طرح دہشتگردی کی آماجگاہ بنا دیں گے۔

افغانستان کی 39 ملین آبادی میں 42 فیصد پختون، 27 فیصد تاجک، 9 فیصد ہزارہ، 4 فیصد ازبک، 4 فیصد بلوچ، 3 فیصد ہمک, 2 فیصد ترک نسل کے لوگ آباد ہیں۔ طالبان پختون نسل ہیں مگر انکو ساری پختون قوم کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ پختونوں کی ایک بڑی تعداد طالبان کے نظریات کی حامی نہیں ہے۔ اگر طالبان مفاہمت کا راستہ اختیار نہیں کرتے اور بندوق کی طاقت پر حکومت چلنے کی کوشش کریں گے تو ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ ایک اقلیتی گروپ کا قبضہ تصور کیا جائے گا۔ دیگر علاقائی اور نسلی اکائیاں طالبان مخالف ممالک کی مدد سے مزاحمت کرتی رہیں گی۔ جس سے پچھلے چالیس سالوں سے حالت جنگ میں رہنے والا افغانستان مزید تباہی اور بربادی کا شکار ہو جائے گا۔ اس دفعہ افغانستان کو معاشی امداد دینے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی میسر نہیں ہوں گے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو شدت پسندی کا راستہ اختیار کرنے سے روکے گی اور دیگر افغان گروپوں کے ساتھ مفاہمت کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر مزید ایک د ہائیوں تک خون خرابہ اور معاشی بدحالی افغانیوں اور پاکستانیوں کا مقدر بنی رہے گی۔

Leave a Reply