بحران : عامر انور

گرمی کی شدت اور تمازت سے لائن میں کھڑے لوگوں کے چہرے پسینے میں شرابور ہورہے تھے۔ سورج زمین پر آگ دہکا رہا تھا۔ ہر کوئی اپنے رومال، صافیوں اور چھوٹے تولئے سے چہرے گردن اور بازؤں سے پسینے کو صاف کررہا تھا۔ پورے شہر میں آٹے کا بحران شدید تر ہوچکا تھا۔ کیا امیر کیا غریب سب ہی حکومت کے مقرر کردہ اسٹالز پر لمبی لمبی قطاروں میں آٹے کے حصول کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ ان کی اس حالت پر اقبال کا شعر صادق آرہا تھا کہ
اک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز۔

دوسری لائن میں خواتین بھی بےچارگی کی تصویر بنی اپنی اپنی باریوں کی منتظر تھی کہ کب ان کا نمبر آئے اور اس مشقت سے ان کی جان خلاصی ہو۔ کچھ خواتین اپنے مخصوص لہجے میں حکومت کو کوس رہی تھی تو کچھ جھولی اٹھا اٹھا کر بددعائیں دے رہی تھی ۔ لیکن وہ یہ جانتی نہیں تھی کہ ان دعاؤں کی قبولیت کا انحصار ان بڑوں کے موڈ سے جڑا تھا جو اس ملک میں حکومتوں کو بناتے اور گراتے ہیں۔ ان کے دانے پورے تھے اس لئے راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا تھا۔

ان بحرانوں میں ان لوگوں کی دولت کا اضافہ مقصود ہوتا ہے جو ان سیاسی پارٹیوں کو سارا سال پالتے ہیں۔ ان کے جلسے جلوسوں سے لے کر کارنر میٹنگ تک سب ان بڑے کاروباری کارٹل کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ ان کا سیاست میں پیسے لگانا دراصل ایک منفعت بخش سرمایہ کاری ہے جو کہ کئی گنا منافع کے ساتھ وصول کی جاتی ہے۔ اس منافع کی وصولی انہیں عوام سے ہوتی ہے جو ان قطاروں میں کھڑے اپنی جان کو ہلکان کررہے ہوتے ہیں ۔

مردوں کی قطار میں چند نوجوان مشتعل ہوکر حکومت کے خلاف نعرہ زن ہوئے تو انہیں قطار میں کھڑے کچھ جوشیلے نوجوانوں نے ان کو للکارا کہ خبردار اگر حکومت یا ان کے محبوب حاکم کو گالی نکالی گئی۔ دونوں طرف تکرار شروع ہوئی اور بات تو تکار سے ہوتی ہوئی مارپیٹ پر جاپہنچی۔ اس صورتحال میں چند خواتین نے باقاعدہ بین ڈالنا شروع کردیا ۔ ایک بھگدڑ سی مچ گئی۔ شرفاء اپنی جان بچانے کو ادھر اُدھر کھسک گئے ۔ شعلہ اگلتی گرمی نے غصیلے جذبات کو گویا پر لگادیئے ۔ ہر طرف ہالا کار مچ گئی۔ گریبان پر ہاتھ پڑے ، چہروں پر تھپڑ برسے کہیں ایک دوسرے کے بال کھینچے گئے تو خواتین اپنے اپنے مردوں کو مخالف گروہ پر پتھراؤ کی صورت میں کمک فراہم کرتی نظر آرہی تھی۔ اس دوران کسی امن پسند نے پولیس ہیلپ لائن پر فون کردیا ۔ کچھ لمحوں میں پولیس موبائل اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ موقع پر پہنچ گئی ۔ شرپسند کچھ ادھر کو بھاگے کچھ ادھر کو ۔ کچھ زخمی نوجوان سڑک پر لیٹے آہ و بکا کررہے تھے۔ ہجوم منتشر ہوا۔ ہوٹر بجاتی ایمبولینسوں کے شور میں باقی چیخیں دب گئی۔ زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔ اگلے آدھے گھنٹے میں سارا منظر بدل چکا تھا۔ وہی قطاریں ، عوام اور ان کے جسموں سے بہتا پسینہ۔ کچھ فلاحی تنظیموں نے ٹھنڈے پانی کے کولر رکھ دیئے ۔ کچھ نوجوان آگے بڑھے انہوں نے لائن میں کھڑے مرد و خواتین کو پانی پلانا شروع کردیا ۔ کچھ لوگ ان کو دعائیں دینے لگے ۔ قطار در قطار لوگ اپنی اپنی باری پر مقررہ پیسہ ادا کرتے اور آٹا لے کر آسمان کی طرف شکر کے جذبات سے دیکھتے۔ ان اوپر اٹھتی آنکھوں میں تشکر کے ساتھ ایک بےبسی بھی ہوتی۔ نجانے یہ بحران کے ذمہ دار لوگ ان خاموش بددعاؤں کا شکار کیوں نہیں ہوتے۔

آٹے کے بڑھتے ہوئے بحران نے عوام کو شدید مشتعل کردیا تھا۔ اپوزیشن اس ساری صورتحال کا سیاسی فائدہ اٹھانے کو تیار تھی۔ ان کی جوشیلی تقاریر عوام کے غم و غصہ کو ہوا دے رہی تھی ۔ عوام کم ہی جانتے تھے کہ اپوزیشن کے سرکردہ لوگ بھی اس بحران میں اپنی مایہ کو بھی بڑھارہے ہوتے اور ساتھ ساتھ سیاسی فائدہ بھی سمیٹ رہے ہوتے۔ حکومتی ایوانوں میں اس بڑھتی بےچینی سے زلزلہ برپا ہونے کو تھا۔ مشیروں وزیروں کو طلب کیا گیا ۔ اس بحران کو ختم کرنے کے لئے تجاویز مانگی گئی۔ درحقیقت پیغام یہ تھا کہ اب بس۔ معاملات نارمل کئے جائیں تاکہ عوام کی دادرسی کا شور کرکے اپوزیشن کی سیاست کو دفن کیا جاسکے ۔ حساب کتاب لگا کر بتایا گیا کہ اگر اب سے بھی معاملات حل کئے جائیں تو کم از کم تین ہفتے درکار ہیں آٹے کی سپلائی کو بحال کرنے کے لئے ۔

حاکم وقت نے خفگی کا اظہار کیا کہ یہاں ایک ایک پل گذارنا مشکل ہے تو یہ پندرہ بیس دن اس عوامی اشتعال کے آگے کھڑا ہونا ممکن نہیں۔ اس کا فوری سدباب کیا جائے۔

اگلے دو دن مین اسٹریم میڈیا اور قومی اخبارات میں ایک ہی خبر نمایاں تھی۔ یورپ کی ایک غیرمعروف جنونی تنظیم کی طرف سے مسلمانوں کو یورپ سے نکالنے اور ان کی اذانوں پر پابندی لگوانے کے خلاف ایک مذہبی تنظیم نے ملک گیر احتجاج کی کال دے دی۔ ملک کی معروف شاہراہوں پر دھرنے دے دیئے گئے اور ایک قرارداد پیش کی گئی کہ حکومت وقت فی الفور ہورہی یونین پر دباؤ ڈالے کہ اس تنظیم کو فی الفور بین کیا جائے اور ان کے سرکردہ لوگوں کو گرفتار کیا جائے تاکہ یورپ میں بسنے والے مسلمانوں کا تحفظ کیا جاسکے ۔ اگلے دس دن گہما گہمی میں گذر گئے۔ سیاسی ٹاک شور اور اخبارات کے صفحات پر مسلم بھائی چارے پر آرٹیکل لکھے جانے لگے۔ اس ملک کو اسلام کا قلعہ قرار دے کر اسلامی دنیا کی قیادت سنبھالنے کے مشورے دیئے جانے لگے۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم کا اجلاس بلانے اور اس معاملے کو ہر سطح پر اٹھانے کا عزم دہرایا گیا ۔ دین کی سربلندی کے لئے جان کو قربان کرنے کے عہد دہرائے گئے۔ دس دن اس گہما گہمی کی نظر ہوگئے۔ اچانک ایک جگہ خودکش حملے نے تمام تر توجہ اپنی طرف مبذول کروالی۔ مذمتی بیان اور فرقہ واریت کی لعنت کو ختم کرنے کا اعادہ کیا گیا ۔

ٹاک شوز اور ادارتی صفحات پر قلم کاروں کے رخ تبدیل ہوگئے۔ اپنی صفوں میں چھپے دشمنوں کی سرکوبی کے لئے مربوط لائحہ عمل بنانے پر زور دیا گیا۔

آہستہ آہستہ حکومت کی انتھک محنت اور سیکیورٹی اداروں کی جانفشانی سے حالات پر کنٹرول کرلیا گیا۔ موسم صاف ہوچکا تھا۔ گرمی کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ ہر طرف ٹھنڈی ہوائیں چل پڑی تھی۔ اور ہاں عوام کو آٹا ارزاں نرخ پر اب ہر جگہ دستیاب ہوگیا تھا۔

Leave a Reply