محبت کے منافق: ثمینہ محمدیہ

محبت کے منافق، جی ہاں! محبت کے منافق. یہ جو محبت کے منافق ہوتے ہیں نا ، یہ بھی اسلام کے منافقین جیسے ہوتے ہیں ۔ وہ کیسے ؟ آئیں میں آپ کو بتاتی ہوں ۔

منافق کی نشانیاں کہ جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے ، جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو امانت میں خیانت کرتا ہے ، اس کے علاوہ بھی منافق کی ایک نشانی ہوتی ہے منزل کے بالکل قریب تک جانا اور پھر ڈیڑھ میل کے فاصلے سے دغا دے کر واپس لوٹ آنا ، اپنی مجبوریوں کا ، حالات کا رونا رونا ۔

آئیں اب بات کرتے ہیں محبت کے منافقین کی ۔ اسلام کے منافقین اور محبت کے منافقین میں ہر چیز مشترک ہوتی ہے ہر چیز مشترک ۔ محبت کے منافقین بھی پہلے بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں ، بڑی بڑی چھوڑتے ہیں، ہر بات ہر معاملے میں جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں . یہاں تک کہ انہیں یہ پتہ چل بھی جائے کہ سامنے والے انسان کو ان کی اوقات ان کی حقیقت کا واضح علم ہو چکا ہے وہ پھر بھی اپنے جھوٹ پر قائم رہیں گے اور سامنے والے کی آنکھوں دیکھی باتوں کو بھی جھوٹی قسمیں اٹھا اٹھا کر جھوٹا ثابت کر دیں گے ۔ اور جھوٹی قسموں میں اس حد تک چلیں گے کہ کہیں گے کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو مرتے وقت کلمہ بھی نصیب نہ ہو ۔ محبت کے منافقین بھی ہر بات پر وعدے کریں گے ، اپنانے کے وعدے کبھی ساتھ نہ چھوڑنے کے وعدے ، زندگی کی آخری سانس تو دور کی بات ہے قبر ، حشر اور جنت تک ساتھ نبھانے کے وعدے اور پھر انہیں وعدوں کی سر عام خلاف ورزی ، اپنے ہی وعدوں سے مکر جانا ۔ اب آگئی بات امانت میں خیانت کی تو اس میں بھی محبت کے منافقین اپنی مثال آپ رکھتے ہیں ، پہلے فرماتے ہیں کہ میرا جسم ، میرا دل ،میری روح ، میری محبت ہر چیز آپ کی امانت ہے اور پھر خود ہی اس امانت میں ہر جگہ ، ہر موقع پر خیانت کرتے ہیں ۔

کمال کی بات جو اسلام اور محبت کے منافقین میں مشترک ہے وہ ان کا منزل کے بالکل پاس جاکر وفا والوں کو دغا دینا ہے ۔ اسلام کے منافق بھی ساتھ چلتے ہیں لیکن پھر مقام شوک پر جاکر اچانک دغا دے دیتے ہیں اور واپس پلٹ آتے ہیں ۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آج وفا والوں کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ یہی حال کچھ محبت کے منافقین کا ہوتا ہے یہ بھی تو منزل کے بالکل قریب جاکر دھوکہ دیتے ہیں ، واس پلٹ آتے ہیں ، دغا دے جاتے ہیں ، اور واپس ایسے پلٹتے ہیں جیسے کبھی آشنا ہی نہ تھے حالانکہ محبت کے منافقین یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ وفا والوں کو آج ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ، لیکن محبت کے منافقین بھی اسلام کے منافقین کی طرح اپنی ہر قسم ، ہر وعدہ مٹی میں ملا دیتے ہیں وہ بھی صرف اس لیے کہ انہیں حسن میں ، یا دولت میں کوٸی اور بہتر مل گیا ہوتا ہے ۔

یاد رکھیں منافق چاہے اسلام کے ہوں یا محبت کے جیسے ان کی نشانیاں بالکل ایک جیسی ہیں ویسے ہی ان کا انجام بھی ایک جیسا ہو گا ۔ ان کے انجام میں بھی زرا برابر فرق نہیں آئے گا ۔ محبت کے منافقین بھی چن چن کر اسلام کے منافقین کی طرح زلیل و رسوا ہوں گے ۔ بس یاد رکھنا اگر کبھی محبت کے منافقین آپ کے پاس واپس پلٹیں تو ان کی باتوں میں نہ آنا ، ان کی جھوٹی قسموں میں نہ آنا کیونکہ یہ بھی اسلام کے منافقین کی طرح ہیں ۔ اسلام کے منافقین تو نبی کریم ﷺ کی دن میں کم از کم پانچ بار زیارت کر کے ، نبی ﷺ کے پیچھے پانچ نمازیں پڑھ کر بھی منافق ہی رہے تھے ، یہاں تک کہ ان کے جنازے بھی نبی ﷺ نے پڑھا دٸیے پھر بھی یہ منافق ہی رہے ، تو جب منافق نے ہمیشہ دونوں جہانوں میں رہنا ہی منافق ہے تو پھر آپ اس دھوکے میں نہ آٸیں کہ شاید آپ کی محبت اور آپ کا خلوص محبت کے منافقین کو بدل دے گا ۔ محبت کے منافقین بھی ہمیشہ منافق ہی رہیں گے ۔

اہل وفا آپ لوگ ان منافقین کے بے نقاب ہونے پر پریشان مت ہونا کیونکہ ان شاء اللہ محبت کے منافقین کا بھی وہی انجام ہوگا جو اسلام کے منافقین کا ہوا ہے ۔ بس اللہ کا شکر ادا کریں کہ اللہ نے آپ کو منافقین کے شر سے محفوظ رکھا ، اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا کہ منافقین نہ تو آپ کو کوئی نقصان پہنچا سکے ہیں نا آپ کی عزت میں کمی کر سکے ہیں ۔ اے اہل وفا آگے بڑھتے رہنا ان شاء اللہ تم ہی دونوں جہانوں میں سرخرو رہو گے اور عزت پاٶ گے ۔ اے اہل وفا تسلی رکھنا ان شاء اللہ محبت کے منافقین بھی ان شاء اللہ بہت جلد اسلام کے منافقین کی طرح دنیا وآخرت میں زلیل و رسوا ہوں گے ۔ اے اہل وفا تم بھول بھی گئےتو تمہارا رب ، تمہارا اللہ بھولنے والا نہیں ۔

محبت کے منافق: ثمینہ محمدیہ” ایک تبصرہ

Leave a Reply