خود باختگی سے خود یابی تک: شبیر احمد

قیام کا وقت ختم ہوا۔ اختتام بالآخر آن پہنچا۔ دزدیدہ نگاہوں سے عجیب وغریب مناظر کا ایک پے درپے سلسلہ تھا جس کا میں خاموش تماشائی تھا۔ انگشت بہ دنداں، چشم دید اور وسعت قلب کے عالم میں انقلاب ایران کا سیر کرکے آیا ہوں۔ پچھلے جمعہ رخت سفر باندھا۔ سفر کی دعا پڑھی اور چل دیا۔ معمول کا حساب لگایا جائے تو ناممکن ہے کہ کتنے واقعات بنتے ہیں۔ بس دیکھتا گیا اور آہیں بھرتا گیا۔

جاتے جاتے پہلا قیام ایران کے اس دور میں ہوا جہاں ایران خود کفیل ہوا۔ 1973 کے عالمی تیل بحران نے اسکے پنجے قوی کردئیے۔ خود پسندی کے شامیانے بجائے گئے۔ اہل اقتدار اچل کھود رہے تھے۔اس دور سے قبل ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی کا پاکستان کے ساتھ خوب مراسم ہوا کرتے تھے۔ ادارہ برائے علاقائی ترقی آر سی ڈی کے سلسلے میں پاکستان آنا جانا رہتا تھا۔

1950 اور 1965 کے انکے دورۂ پاکستان تو خوب شہرت کی بلندیوں پر ہے۔ مگر اس محبت کو نظر لگ چکی تھی۔ اب چراغوں میں وہ روشنی باقی رہی نہ تیل کا کوئی بندوبست معلوم دکھائی دیتا اور کیونکر معلوم ہوتا سارا ذخیرہ تو ایران کے حق میں نکلا۔ اب شہنشائے ایران پرواز کرتے ہوئے پاکستان کو خلا سے ہی جھانک کر اڑان کی رفتار تیز کرلیتے ہیں۔جیسے پاکستان میں کسی ذخیرہ کی تلاش میں ہو مگر چہ ندارد۔

یہاں سے تمام چھوٹے بڑے واقعات کا معائنہ کرکے کچھ برس پیچھے چلے گئے۔ یہ 1963 کا دور تھا جب شہنشائے ایران نے ” انقلاب سفید” کے نام سے اصلاحات متعارف اور منظور کروائے، جو اہل جبہ و دستار کو ناگوار گزریں۔ انکے نزدیک اس کا نام سفید اسلئے رکھا گیا ہے کہ یہ مسودہ وائٹ ہاؤس کا تیار کردہ ہے۔اس میں جو توانا آواز تھی وہ خمینی کی بانگ تھی۔ جہاں انہوں نے تقریروں اور اپنے خطابت سے سماں بنایا۔البتہ جذبات کے عناصر انکے خطابت کا عمومی طور پر حصہ نہ تھے۔

اعتراض کا زور توڑنے کیلئے شاہ نے مدرسہ فیضیہ پر حملہ کیا اور یوں وقتی تحریک خمینی کی قیادت میں وقوع پذیر ہوا۔جہاں سے انہیں مزاحمت کی بناء پر ملک بدر کیا جاتا ہے۔کچھ عرصہ ترکی میں بسر کرکے ایران جا پہنچتا ہے اور تیرہ سال پر طویل دور گزارتا ہے۔ وہاں سے پیرس کا رخ کردیتا ہے۔ادھر ڈاکٹر شریعتی عمارت حسینہ ارشاد کو مرکز بناکر انقلاب کیلئے فکری آبیاری میں مگن ہوجاتے ہیں۔

علی شریعتی انقلاب ایران کے مفکر تھے۔ انقلاب ایران کیلئے راہ ہموار کرنے کا سہرا انکے سر جاتا ہے۔ ڈاکٹر مرحوم سوشیالوجی کے پروفیسر تھے اور مشہد یونیورسٹی میں خدمات سر انجام دیتے تھے۔ اتنی کم عمری میں خوب کام کیا۔مگر زندگی نے وفا نہیں کی اور وہ چوالیس برس کی عمر میں اگلی جہاں میں خدا کے سامنے ان ناخداوں کی شکایت لگانے جاپہنچے۔

سراغ رسانی کا سلسہ یہیں نہیں رکا۔ بغاوت اور خانہ جنگی کا خون آلود باب بھی ملاحظہ کیا۔ ساواک کی ستم ظریفی کے ابواب چھانٹ مارے۔ انقلابیوں کے خودساختہ عدالت میں ظہور ہونے والے فیصلے اور سروں کا تنوں سے جدا ہوتے دیکھا۔ مرگ بر شاہ، درود بر خمینی کے نعروں سے محظوظ ہوئے۔ شاعر بھی کہہ چکے ہونگے؛

“لکھوں کس کے نام میں یہ ، جو الم گزر رہے ہیں
میرے شہر جل رہے ہیں، میرے لوگ مر رہے ہیں”

اسی طرح امام خمینی کی آمد پر ایئر پورٹ اور تہران شہر میں مخلوق کا امڈا ہوا سمندر دیکھا۔ بہشت زہرا میں جذبات سے خالی خمینی کی تقریر سنی۔

یہ سب ہوا اور فقط ایک ہفتہ لگا۔ سال 2020 سے سال 1979 تک گھوم پھر کر آیا۔ لوگ پروان چڑھ کے آگے بڑھتے ایک ہم ہے کہ پیچھے چلے گئے۔ یہ سب مختار مسعود صاحب کے مرہون منت ہوا۔ خود تو آر سی ڈی کے سلسلے میں ایران ان دنوں چار سال قیام کیا،ساتھ ہمیں انگلی سے پکڑ کر اپنے ہاں لے گئے۔جہاں خود رخ کیا وہی ہماری توجہ بھی چاہی۔ آخرکار واپس لوٹے اور رہنمائی کے فریضے سے فارغ ہوتے ہی ہماری انگلی جو تھام رکھی تھی، اب چھوڑ دی ہے۔

اب مختار مسعود صاحب کی سحر انگیز تحریر کا ایک سلطنت ہے جس کی کوئی فصیل نہیں اور میں اس میں غوطے لگا رہا ہے اور تعریفوں کے پل باندھ رہا ہوں۔ دل کہہ رہا ہے کسی دن یہ پل عبور ہوہی جائے گا۔ کتاب کے آخر میں مختار صاحب عثمانیہ یونیورسٹی کے کسی الیاس برنی صاحب کے سفر نامۂ حج کی تعریف تو کرتے ہیں کہ انکے ساتھ میں بھی حج کرچکا ہوں۔ مگر شاید ہی انہیں معلوم ہو کہ وہی کام وہ بھی کرگئے۔ بس فرق حج اور انقلاب کا ہے۔ وہ حج کرکے آئے تھے ہم انقلاب کے چھوٹے بڑے واقعات دیکھ کر آگئے ہیں۔

Leave a Reply