خصوصی افراد فری لانسنگ کو ذریعہ معاش بنا سکتے ہیں: ثاقب لقمان قریشی

محمد عالیان کا تعلق کامونکی سے ہے۔ مسکولر ڈسٹرافی کا شکار ہیں۔ اینیمل نیوٹریشن میں ایم-فل کیا ہے۔ فری لانسنگ کرتے ہیں اور خصوصی افراد کو انٹرنیٹ سے کمانے کے گر سکھاتے ہیں۔ خصوصی افراد کے حقوق کے حوالے سے ملک کا سب سے بڑا پیج چلا رہے ہیں۔ چھوٹا سا کلینک کھولا ہوا ہے جہاں جانوروں کا علاج کرتے ہیں اسکے علاوہ ایک فارم ہاؤس بھی بنایا ہے جہاں قیمتی نسل کے پرندے اور پالتو جانور تجارتی مقاصد کیلئے پالے جاتے ہیں۔

والد صاحب مقامی تاجر تھے۔ خاندان چھ بھائی اور دو بہنوں پر مشتمل ہے۔ سب شادی شدہ ہیں اور خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عالیان پیدائشی طور پر نارمل تھے۔ عام بچوں کی طرح بھاگنا دوڑنا، کھیلنا کودنا سب کچھ نارمل تھا۔ 2011ء میں جب عالیان میٹرک میں تھے۔ ایک دن دوست کے ساتھ سکول سے واپس آ رہے تھے۔ دوست کھیلوں کا بہت شوقین تھا عالیان کی چال دیکھی تو کہنے لگا کہ یار کیا کوئی چوٹ لگی ہے۔ عالیان نے کہا نہیں۔ دوست کہنے لگا کہ تمھاری چال میں کچھ فرق ہے۔ چوٹ لگی ہوگی لیکن تمھیں محسوس نہیں ہوا ہوگا۔ گھر جا کے آرام کرو ٹھیک ہو جاؤ گے۔

ایف-ایس-سی تک معاملہ مزید بڑھ گیا۔ گھر والے، دوست اور رشتہ دار عالیان کی چال دیکھ کر انھیں سیدھا چلنے کو کہتے۔ لیکن عالیان کی چال انکے کنٹرول میں نہیں تھی۔ خیر ایک دن گھر والے عالیان کو آرتھوپیڈک کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر نے عالیان کی چال کو ریشہ اور کمزوری قرار دیا۔ والد صاحب دل کے مریض تھے 2013ء میں اپنا چیک اپ کروانے گئے تو ڈاکٹر عالیان کے مسئلے کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر نے نیروفزیشن کو چیک کروانے کا مشورہ دیا۔

عالیان نے یونیورسٹی آف ایگریکلچر میں بی-ایس میں داخلہ لے لیا۔ ساتھ ہی علاج کیلئے لاہور بھی جاتے رہے۔ اس وقت تک اکیلئے سفر کر لیا کرتے تھے۔ لاہور کے فاطمہ جناح میموریل ہسپتال کے نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ڈاکٹر عدنان اسلم نے دیکھتے ہی مرض کو مسکولر ڈسٹرافی قرار دیا۔ مرض کی تشخیص کو تین چار ماہ لگے۔ ہر پندرہ دن بعد سی-پی کا ٹیسٹ ہوتا۔ دو تین مرتبہ ای-ایم-جی بھی ہوئی- 2014ء میں مسکولر ڈسٹرافی کی دو اقسام کی تشخیص ہوئی۔ گھر والوں اور دوستوں کے رویے نے عالیان کو پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ 2015ء میں والد صاحب کی وفات ہوئی جس نے عالیان کو مزید پریشانی سے دو چار کردیا۔ والد کی وفات کے بعد عالیان کو سنبھلنے میں ایک سال کا عرصہ لگا۔ والد کے بعد بڑے بھائیوں کا رویہ نہایت دوستانہ ہوگیا۔ گھر والوں نے عالیان سے کہا کہ آپ جو کرنا چاہیں کرسکتے ہیں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔

بی-ایس کے بعد عالیان کے پاس نوکری اور مزید پڑھنے کے آپشن موجود تھے۔ لیکن گھر والوں کے اصرار پر عالیان نے ایم-فل میں داخلہ لے لیا۔ عالیان کہتے ہیں انکی ڈگری یونیورسٹی اور دوستوں کے بھر پور تعاون سے مکمل ہوئی۔ عالیان نے جب یونیورسٹی میں داخلہ لیا اس وقت پوری یونیورسٹی میں کل تین خصوصی افراد زیر تعلیم تھے۔ جن میں سے ایک عالیان بھی تھے۔ افراد باہم معذوری کیلئے ریمپس اور رسائی کے حوالے سے عالیان جہاں بھی آواز اٹھاتے یونیورسٹی کی انتظامیہ بھر تعاون کرتی۔ عالیان کی ڈگری جب مکمل ہوئی اس وقت تک یونیورسٹی میں مزید چالیس کے قریب خصوصی افراد تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ڈگری حاصل کرنے والے سٹوڈنٹس میں خصوصی خواتین کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی۔

عالیان کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران انھوں نے فری لانسنگ کے بارے میں سنا تو سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ یوٹیوب کے بہت سے چینل سبسکرائب کیئے۔ فری لانسنگ کی دنیا کو سمجھنے اور اس سے پیسہ کمانے کے عمل کو سمجھنے میں چھ ماہ لگے۔ ٹائم ٹیبل بنا لیا اور روز اسے دو گھنٹے دینے لگے۔ چھ ماہ بعد عالیان اس نتیجے پر پہنچے کہ فری لانسنگ کی دنیا میں صرف وہی لوگ کامیاب ہوسکتے ہیں جو کچھ نیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عالیان نے ورڈ پریس سے ڈومین اور ہوسٹنگ سروسز پر کام کرنا شروع کیا۔ کچھ ویب سائٹس بنائیں جن میں نیوز ویب بھی تھیں۔ ایک دن عالیان اپنے دوست سے بات کر رہے تھےکہ کیا ویب سائٹس فروخت بھی کی جاسکتی ہیں؟ پھر دونوں پتہ کرنے کیلئے فیصل آباد کے جھنگ بازار چلے گئے جہاں بہت سے مقامی اخبارات کے دفاتر تھے۔ ایک مقامی اخبار کے دفتر گئے انھیں اپنی ویب سائٹ کے بارے میں بتایا۔ اخبار والے بہت متاثر ہوئے کہنے لگے کہ یہ ویب سائٹ واقعی آپ کی ملکیت ہے تو ہم اسے خریدنے کیلئے تیار ہیں۔ عالیان نے لیپ ٹاپ کھولا اور انھیں سائٹ کھول کر دکھائی۔ عالیان کو اس پراجیکٹ پر اپنی انویسٹمنٹ سے بیس گنا زیادہ پیسوں کی پیش کش ہوئی جسے انھوں نے قبول کر لیا۔ اسطرح عالیان کے فری لانسنگ کے کیرئیر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

عالیان جانوروں کا ایک کلینک بھی چلا رہے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ ایک فارم ہاؤس بھی بنا رکھا ہے جہاں فینسی پرندوں اور مال مویشیوں کی افزائش کی جاتی ہے۔ عید لاضحٰی سے چند ماہ قبل بکرے اور گائے خرید لی جاتی ہیں پھر انھیں تیار کر کے عید کے موقع پر فروخت کیا جاتا ہے۔

2019ء میں مرض کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ کمزوری بڑھنے لگی اور یہ ویل چیئر پر آگئے۔ اسی سال حکومت کی طرف سے الیکٹرک ویل چیئر بھی ملی۔ عالیان اپنی صحت کی طرف سے بہت پریشان رہنے لگے۔ اب عالیان نے انٹرنیٹ پر مختلف علاج معالجوں پر تحقیق شروع کر دی۔ فری لانسنگ اور جانوروں کے کلینک کو ٹائم دینا کم کر دیا۔ چار ماہ کی ریسرچ کے بعد سٹیم سیل تھراپی کو اپنے لیئے موضوع ترین قرار دیا۔

عالیان نے کراچی کے آغا خان ہاسپٹل اور راولپنڈی کے ڈاکٹر سلمان سے معلومات حاصل کرنے کے بعد لاہور کے عفت انور میڈیکل کمپلکس کے ڈاکٹر انور شہزاد سے رابطہ کہا جنھوں نے ایک چارٹ کے ذریعے طریقہ علاج سمجھانے کی کوشش کی۔ جولائی 2020ء میں علاج شروع ہوا اور آٹھ اگست کو مکمل ہوگیا۔ اس کے بعد سے عالیان ہر تین ماہ بعد لاہور چیک اپ کیلئے جاتے ہیں۔ اگلے چکر میں عالیان کو مستقبل کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ عالیان ملک کے ان چند خوش نصیب افراد میں سے ہیں جنھیں سٹیم سیل تھراپی سے بہت فائدہ پہنچا ہے۔

عالیان کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں خصوصی افراد کو عام لوگوں کے برابر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ جس کی وجہ سے خصوصی افراد زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ این-جی-او اور سوشل ورک کے ادارے بھی خصوصی افراد کو قابل رحم مخلوق بنا کے پیش کرتے ہیں۔ عالیان ملک میں ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں جہاں خصوصی افراد کے حقوق کو عام لوگوں کے برابر تسلیم کیا جائے۔ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے عالیان کالمز اور سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ اسکے علاوہ خصوصی افراد کو خود مختار اور با اختیار بنانے کیلئے فری لانسنگ کے گر بھی سکھاتے ہیں۔ عالیان اس حوالے سے ریسرچ کر رہے ہیں اور مستقبل میں مشن کو جاری رکھنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

عالیان کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پر خصوصی افراد کے حقوق کا سب سے بڑا گروپ چلا رہے ہیں۔ جس کے ممبرز کی تعداد 7500 سے تجاوز کر چکی ہے۔گروپ میں خصوصی افراد کو اپنے مسائل پر کھل کر بات کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور روزگار کے حوالے سے بہترین معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

فری لانسنگ کی دنیا میں قدم رکھنے کیلئے بہت سے خصوصی افراد عالیان سے رابطے میں رہتے ہیں۔ عالیان کہتے ہیں کہ خصوصی افراد میں تعلیم اور خود اعتمادی کی شدید کمی پائی جاتی ہے جسکی وجہ سے انکے ہر بیج میں چند افراد ہی فری لانسنگ میں قدم رکھ پاتے ہیں۔

عالیان کا خصوصی افراد کو یہی پیغام ہے کہ اپنی تعلیم کو مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ پروفیشنل ڈگریز اور ڈپلومے حاصل کریں۔ اپنے اندر سیکھنے کی جستجو کو ختم نہ ہونے دیں۔ اگر آپ کی صحت ایک دن کا کام ایک دن میں کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو ایک دن کے کام کو دو یا چار دن میں مکمل کر لیں لیکن ہمت نہ ہاریں ۔

خصوصی افراد فری لانسنگ کو ذریعہ معاش بنا سکتے ہیں: ثاقب لقمان قریشی” ایک تبصرہ

Leave a Reply