موت کا منظر مرنے کے بعد کیا ہوگا مسعود احمد

موت کا منظر؛ مرنے کے بعد کیا ہوگا:‌مسعود احمد

کہتے ہیں ہمیشہ وقت ایک سا نہیں رہتا مگر ہمارے ہاں اور کچھ ہو نہ ہو سیاسی طور پر وقت کم وبیش ایک سا ہی رہتا ہے. ہمارے لڑکپن میں امیر المومنین جناب ضیا الحق صاحب نے اقتدار پر قبضہ کیا تو اسلامی انقلاب کا چرچا ہونا شروع ہوا. سادگی کا درس دیتے ہوئے انہوں نے ایک آ دھ دن سائیکل پر سواری کرتے ہوئے مثال قائم کی. صلواۃ کمیٹیاں بنائی گئیں. انہیں دنوں کھڈیاں کے ایک مولوی صاحب کی کتاب “موت کا منظر: مرنے کے بعد کیا ہوگا” کا بڑا چرچا تھا . شاید ہی کوئی دیوار ایسی ہوگی جس پر اس کتاب کی وال چاکنگ نہ ہو .

موت کا منظر: کتاب اس لنک سے پڑھیں

لڑکپن کے دن اور اس کتاب “موت کا منظر” کا نام پڑھ کر پورے بدن میں خوف کی لہر اٹھنے لگتی. جمعہ کی نماز میں محلہ کے مولوی صاحب اس کتاب کے چند اقتباسات بیان کرنا ضروری سمجھتے اور پھر مسجد کمیٹی کے چند ارکان چادر کو کونوں سے پکڑ کر نمازیوں کی صفوں میں سے گزرتے عاقبت سے سہمے ہوئے ہم جیسے گناہ گار جزا کی ترغیب میں اپنی خالی جیب مزید خالی کر دیتے.

اگرچہ ان واقعات کو گزرے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے. وال چاکنگ کی جگہ تشہیر کے لیے کیبل، نیٹ، سوشل میڈیا جیسی چیزیں متعارف ہو چکی ہیں. دنیا گلوبل ویلیج کی حد تک سکڑ گئی ہے. انداز بدل گیا ہے مگر ہمارے ذہنوں پر وہ خوف ویسے کا ویسا ہی ہے. فرق صرف اتنا ہے کہ اب ہمیں ہمارے ہی ملک میں بیٹھے آ ئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندے ہماری حکومتوں سے ملکر ڈراتے ہیں کہ کہ اگر خدانخواستہ زندہ رہے تو کیا ہوگا کچھ دن پہلے تک وزیر اطلاعات اور سرکاری ترجمانوں نے میڈیا پر خاصا شور برپا کیا کہ وزیراعظم کو قوم کا بڑا خیال ہے. وہ پاکستانی تاریخ کا بہت بڑا معاشی پیکیج دینے جارہے ہیں مگر وزیراعظم صاحب کی معاشی پیکیج والی تقریر بھی کھڈیاں کے مولوی صاحب کی تحریر جیسی نکلی. اسی رات تیل کے نرخوں میں اضافہ فرما دیاگیا.

وزیراعظم کی اس خوبی کی تو پوری قوم مداح ہے کہ جس بات کا نوٹس لیتے ہیں، عوام کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں. جس طرح بڑے زلزلے کے آ فٹر شاکس کئی کئی روز آ تے رہتے ہیں اسی طرح وزیر، مشیر میڈیا پر آ کر ہمارے تراہ نکالتے رہتے ہیں . کبھی حماد اظہر صاحب بجلی کے نرخوں کے بڑھنے کی بشارت دیتے ہیں تو کبھی شوکت ترین صاحب زیر لب مسکراتے ہوے بجلی کے بلوں میں اضافہ کی خوش خبری دیتے ہیں. کبھی وزارت پیٹرولیم گیس نہ ہونے کا مژدہ سناتی ہے کبھی آ ئی ایم ایف کے اصرار پر سٹیٹ بینک کی خود مختاری کی منصوبہ بندی.

یہ بھی پڑھیں: پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق: مسعود احمد

دروغ بر گردن راوی، ہمارے سٹیٹ بینک کے گورنر ورلڈ بینک کے نمائندے کے طور پر مصر کی معیشت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر آ رہے ہیں. اب اور ان کی کارکردگی سے متاثر ہوکر یہی ٹارگٹ انہیں پاکستان میں دیا گیا ہے. جو تقریر انہوں نے لندن میں اوور سیز پاکستانیوں کی دلجوئی کے لیے فرمائی، معشیت کی الف ب سے واقف بھی ایسی حرکت کا تصور نہیں کر سکتا. ہم نے بھی تھوڑی بہت بینک کی نوکری کی ہے. اگر معشیت کا یہی حال کرنا تھا تو ہم کیا برے تھے اور ہم تو اس ملک کے ووٹر بھی ہیں.

ایک کھرب پتی کے بیٹے نے کسی کو قتل کر دیا. والدین نے تگڑا وکیل کیا. بھاری فیس دی مگر بیٹے کو سزائے موت ہوگئی. ایک ہم جیسے نالائق وکیل نے فیصلے کے بارے میں استفسار کیا تو معلوم ہوا لڑکے کو پھانسی کی سزا ہوگئی ہے. اس پر نکمے وکیل نے کہا یہ کام جس کے آ پ نے کروڑوں دیے ہیں میں نے چند ہزار میں کر دینا تھا.

ہمیں کیا ، رضا باقر جانیں اور حکومت جانے مگر بصد ادب و احترام روز روز مہنگائی کے بم گرانے والوں سے تو ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر بم گرانے والے بہتر تھے . حکومت کو پالیسیاں بناتے وقت اپوزیشن کا ڈر ہوتا ہے مگر ہمارے اپوزیشن لیڈر بھی جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں، پاکستان ان کا دل نہیں لگتا وہ اور ان کا خاندان تب ہی پاکستان میں ہوتا ہے جب حکومت میں ہو . پرانی کہاوت ہے کہ جنہاں کھادیاں گاجراں ڈھڈ اوہناں دے پیڑ
مگر ہمارے ہاں یہ مثال بھی الٹ ہے گاجریں کھانے والے تو دندناتے پھر رہے ہیں ادھر کروڑوں غریبوں کے پیٹ میں بھوک کی وجہ سے درد ہے.

Leave a Reply