میری ڈائری کا ورق: عافیہ رائے

قریب ہے کہ حرم کی فضاؤں میں گونجتی اذان اور تکبیرات کی آوازیں مدھم ہو جائیں سعودی عرب میں رونما ہوتی بڑی بڑی تبدیلیاں ، شہر بھر میں بے چینی کا سبب بنتی جا رہی ہیں۔

عرب کی زمیں جو کہ شعائر اللہ کا ایک خاص خطہ ، مسلمین کا قبلہ و کعبہ جسکی فضائیں نور ہی نور سے معمور تھیں۔ جہاں تکبیرات کی صدائیں آسمان تک گونجتی تھیں وہاں اب اذان مدھم ہونے کو ہے ، نمازوں کی آواز ہواوں میں تحلیل ہو رہی ہیں۔

ان اسلامی شعائر کو جان بوجھ کر بدلنے کے اسباب ہو رہے ہیں کیونکہ جہاں اذان کی بلند آواز کو لوگوں کیلئے تکلیف کا سبب بتایا جا رہا ہے حتی کہ حفظ قرآن کے اداروں کو بھی محدود کیا جارہا ہے بلکہ بند کرنے کی تجویز رکھی گئی اور گرمیوں میں ہونے والے دورہ قرآن کو بھی ختم کئے جانے کا سوچا جا رہا ہے۔

وہاں حرمین کی پر نور فضائیں Holween جیسی تقریبات بڑے پیمانے پر منعقد کر کے ، اور رات رات بھر رقص و سرور کی محفلیں آلودہ کی جا رہی ہیں ، باحہ میں امیر حام کے میدان میں موسیقی کی آواز اتنی بلند تھی کہ دور دور تک کے باسیوں نے یہ آوازیں سنیں۔

حرمین شریفین کی ایک خاص پہچان دنیا میں شعائر اللہ پر سختی سے پابند مملکت کی حیثیت سے ہے مگر اب یہ پر نور خطہ ایک پیہم منصوبہ بندی کے تحت اپنی تہذیب و اقدار کھونے لگا ہے۔

اس سال نیو ائیر نائٹ کی
تیاریاں زور و شور سے کی
جارہی ہیں موسیقی کے پروگرام لاکھوں ڈالر خرچ کر کے منعقد کیے جا رہے ہیں ، مرد و عورت کے اختلاط پر کوئی پابندی نہیں۔

کیا اب حرمین میں آذان سے زیادہ گونج موسیقی کی ہوگی !!
بقول لالہ مادھورام جوہر؛
” اس طرف دیر، ادھر کو کعبہ
کدھر کو جاوں !”

Leave a Reply