پریشانی یہ ہے کہ: نعمان ذوالفقار

پریشانی اس بات کی نہیں ہے کہ لوئر کلاس کے لیے بچوں کی معمولی تعلیم بھی ایک خواب ہے۔ ان کی سب سے بڑی جدوجہد 2 وقت کی روٹی، سال بعد ایک نیا لباس (سستا سا) اور ایک عدد جوتا حاصل کرنا ہے۔ ان کے لیے سب سے زیادہ غمگین وقت “خوشی” کا ہوتا ہے کہ بچوں کی چھوٹی سی خوشیاں روٹی کے بجٹ میں سے کیسے نکالیں گے

پریشانی اس بات کی بھی نہیں ہے کہ مڈل کلاس والا جیسے تیسے کر کے 4 جماعتیں پڑھ تو لیتا ہے لیکن اس کی زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہونے کی عمر اور جوتیاں۔۔۔ تلاشِ روزگار میں گھس جاتی ہیں اور اس کے بعد جو تھوڑی بہت توانائی بچ جاتی ہے وہ اپنی اولاد کے مستقبل پر صرف ہو جاتی ہے۔

پریشانی اس بات کی بھی نہیں ہے کہ
ہماری آبادی مسلسل اور غیر ضروری طور پر بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور اس بڑھتی آبادی نے ہماری ہریالی، تازہ ہوا اور کھلا ماحول ہم سے چھین کر متبادل میں ہمیں کنکریٹ، دھواں اور گھٹن زدہ تنگ ماحول دیا ہے ۔

پریشانی اس بات کی بھی نہیں ہے کہ
یہاں لوگوں کا دھیان اپنی ذات سے زیادہ دوسروں کی ذات اور ٹانگیں اپنے کام سے زیادہ دوسروں کے کاموں میں ہے۔ یہاں لوگوں کی عزت کا دارومدار ذاتی صفات سے زیادہ ان کی معاشی حالت پر ہے اور جہاں آج بھی عورت کو فرد تسلیم نہیں کیا جاتا اور اُس کی رائے اور خواہش بے معنی ہے۔

پریشانی اس بات کی بھی نہیں ہے کہ
ہمارا معاشرہ عدم برداشت کا شکار ہو چکا ہے۔ رشتے دار ایک دوسرے کی جڑیں کاٹتے ہیں، بھائی ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں اور دوست ایک دوسرے کا قتل تک کر دیتے ہیں۔ اس معاشرے میں کسی کی سوچ سے ذرا سا اختلاف رکھنا اپنی جان کا جوا کھیلنے جیسا ہے اور یقین ناپید ہو چکا ہے۔

پریشانی اس بات کی بھی نہیں ہے کہ
خواب دیکھنے پر پابندی ہے اور اگر کوئی خواب دیکھ بیٹھتا ہے تو معاشرہ اس کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے اور ذاتی خواہش اور پسند کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا۔

لیکن پریشانی اس بات کی بھی نہیں ہے پریشانی تو اس بات کی ہے کہ یہ ساری “پریشانیاں خاکم بدہن اگلے 100 سال میں بھی ختمبہوتی نظر نہیں آتیں(سال 2021 کے اختتام پر اس امید میں لکھی گئی تحریر کہ میری آخری بات جلد از جلد غلط ثابت ہو جائے)

Leave a Reply