معاشرے میں تعلیم یافتہ عورت کا کردار : ثمینہ تقی

لفط “تعلیم” علم سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں “جاننا”۔ وہ علم جس کی اہمیت قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث مبارک سے لگایا جا سکتا ہے۔

“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے”۔مندرجہ بالا حدیث سے کہیں بھی یہ بات ثابت نہیں ہو رہی ہے کہ علم صرف مرد کی میراث ہے۔ ہم اس بات سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ کسی بھی قوم کی تعمیر وترقی کا انحصار اس کی تعلیم پر ہوتا ہے۔

تعلیم ہی قوم کے احساس شعور کو نکھارتی ہے۔ انسان کی شخصیت سنوارتی ہےاور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ “تعلیم ” ہی آنے والی نسل کو زندگی سنوارنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔

اب سوچنایہ ہے کہ کیا تعلیم یا علم صرف مرد کی میراث ہے اور کیا صرف مرد کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے جس سے اس معاشرے کی بقاء ہے۔نہیں، اگر یہ کہا جائے کہ عورت اور مرد وہ اہم ستون ہیں جن پر یہ معاشرہ قائم ہے تو غلط نہ ہوگا ۔

مرد اور عورت گاڑی کے وہ دو پہیے ہیں جن میں سے ایک نہ ہو تو گاڑی نہیں چل سکتی یعنی دونوں لازم و ملزوم ہیں اس معاشرے کی تاقی اور بقاء کے لئے ان میں سے کسی ایک کے بغیر یہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔

اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ کسی بھی ملک و قوم یا معاشرے کی ترقی و خوشحالی کا انحصار مرد و عورت کی تعلیم پر مبنی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ” کیا لڑکیوں کو تعلیم دلوانا ضروری ہے؟” آخر کیوں تعلیم نسواں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

آج بھی اس ترقی یافتہ دور میں ہمارے معاشرے میں لڑکی کی تعلیم پر ذیادہ توجہ نہیں دی جاتی اس کے برعکس فکر صرف لڑکوں کی تعلیم کی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہماری سوچ آج بھی اس حد تک محدود ہے کہ لڑکیوں کو صرف گھر سنبھالنا ہے اور صرف مرد ہی معاشرے کی تشکیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اچھا روزگار، گھر کی کفالت، بچوں کی تعلیم و تربیت، معاشرے میں اچھا مقام صرف مرد ہی اچھی تعلیم حاصل کر کے کر سکتا ہے۔آج بھی ایک عام انسان کا خیال یہی ہے کہ تعلیم اس لئے ضروری ہے کہ اس سے اچھی ملازمت مل سکے گی جبکہ “تعلیم” کا اصل مقصد انسان کو باشعور بنانا ہے تا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچان سکے انہیں اجاگر کر سکے۔

مثبت انداز میں سوچ سکے۔میرے خیال میں آج کے اس تیز رفتار دور میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ عورت مرد کے شانہ بشانہ زندگی کے ہر شعبے میں ساتھ ساتھ کھڑی ہے جو کہ اس تعلیم کی بدولت ہے۔جو ہر مسلمان مرد عورت پر فرض کی گئی ہے۔

پھر لوگ تعلیم نسواں کو اہمیت کیوں نہیں دیتے جبکہ آنے والی نسلوں کی پرورش ایک عورت کی گود میں ہوتی ہے اگر عورت تعلیم یافتہ اور باشعور ہو گی تو آنے والی نسلیں بھی باشعور ہوں گی۔

سب سے بہترین اور پہلی درس گاہ “ماں” کی گود میں ہوتی ہے اور پہلا سبق بچہ ماں سے ہی سیکھتا ہےجب ماں تعلیم یافتہ، با اخلاق اور باشعور ہوگی تو نئی نسل کو اور آنے والی نسلوں کو اس قابل بنائیں گی کہ وہ ایک بہترین اور تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکیں ۔

ایک مضبوط تعلیم یافتہ ماں جو کہ اس معاشرے کا ایک اہم رکن ہے اور ایک بہترین کردار ادا کر رہی ہیں تو یقینا وہ اپنے بچوں کی پرورش اس انداز میں کریں گی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں گے۔ اپنے اخلاق وکردار کو سنوار سکیں گے اور معاشرہ کا ایک بہترین فرد بن سکیں گے۔

ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کے لئے ذریعہ معاش، ان کی کفالت ، اپنے بچوں کو ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیار کرنا ، ان میں خود اعتمادی پیدا کرنا، اپنے اور دوسروں کے لئے مثبت انداز میں سوچنے کے قابل بنانا،اپنے اور دوسروں کے حقوق و فرائض کو پہچاننا، فرائض کوایمانداری سے اداکرنا، اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو نکھارنے جیسی خوبیاں پیدا کرنا ایک ” تعلیم یافتہ” ماں بہتر ین طریقے سے انجام دے سکتی ہے۔

بحیثیت ماں ، بیٹی اور بہن کا تعلیم یافتہ ہونا اور معاشرے میں اہم کردار ادا کرنا بھی ضروری ہے۔اس مقصد کے لئے آوازیں تو وقت کے ساتھ ساتھ بلند ہو رہی ہیں لیکن میدان عمل میں کارکردگی حوصلہ افزاء نہیں ہے۔

ان کوششوں کو تیز کرنے کے لئےآئیےآپ اور ہم مل کر یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اس معاشرے کی ہر بیٹی ، بہن کو تعلیم یافتہ بنا کر اس معاشرے کو ایک بہترین ماں دیں گے۔ اہل مغرب میں ایک معروف دانشور نے کیا خوب کہا تھا۔
” تم مجھے ایک تعلیم یافتہ ماں دو ،میں تمہیں مہذب معاشرہ دوں گا”

2 تبصرے “معاشرے میں تعلیم یافتہ عورت کا کردار : ثمینہ تقی

Leave a Reply