میری ڈائری کا ورق : عافیہ رائے

دنیا کے گلوبل ویلج بننے کے ساتھ ساتھ اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے پرانے وقتوں کی کئی خوبصورتیاں ہماری زندگی سے ختم کر دیں، گو کہ ڈیجیٹل کی اختراع نے زندگی میں آسانیاں تو بہت کئں جہاں پورے 24 گھنٹوں کے انتظار کے بعد حالات حاضرہ کا علم ہوتا تھا وہاں اب نیوز ویب سائٹس پل پل کی خبر دے رہی ہیں۔

موبائل سے بنائی ہوئی وڈیوز کے وائرل ہوتے ہی معاملے کی اصل حقیقت سب جان جاتے ہیں ایک رائی کے برابر بھی کوئی ابہام یا غلط فہمی کا جواز نہیں باقی رہا ۔

جہاں ہم اپنے پیاروں ، عزیز و اقارب کی خیر خیریت کیلئے ہفتوں چٹھی کا انتظار کرتے تھے اور چٹھی آجانے پر خوشی کی خبر پر دوری کے باعث خوشی ادھوری رہ جاتی تھی اور غم کے موقعہ پر اپنے پیاروں کا دلاسہ نہ ملنے پر تشنگی کا احساس ہوتا تھا اب وڈیو کال نے احساسات کی تشنگی بھی مٹا دی۔

لیکن اس احساس کی تشنگی دے دی جو کسی
پیارے کے خط پڑھنے کے ساتھ آپکے جذبات کے اتار چڑھاو کی خوبصورتی تھی ، محبوب کا خوشبو سے سنوارا ہوا خط ، وہ نام کے ساتھ بنایا گیا چھوٹا سا دل۔

اسی خوبصورتی اور لطیف جذبات کو واپس زندگی میں لانے کیلئے پاکستان پوسٹ آفس نے ایک مہم شروع کی ہے جس کے تحت نوجوان نسل کو جو کہ ڈیجیٹل دور کی پروردہ ہے اسے اس جانب راغب کرنے کی کوشش ہے کہ آپ ٹویٹ کریں ، ای میل کریں، ٹیکسٹ کریں مگر
“written word ”
کی خوبصورتی اور اس کے رومانس کو بھی اپنی زندگی میں شامل کریں ،جب آپ کسی کو سالگرہ مبارک یا اور کوئی جذباتی پیغام بھیجتے ہیں تو وہ کسی بھی لمحے ڈیلیٹ ہو سکتا ہے مگر اپنی تحریر میں لکھا ہوا پیغام یہ ایک خوبصورت یاد بن کر ہمیشہ آپ کے پاس محفوظ رہتا ہے اور زندگی کے کسی بھی دور میں ایک خوبصورت جگنو کی طرح آپ کے ہاتھ لگتا ہے۔

“کیا کیا فریب دل کو دیئے اضطراب میں ،
ان کی طرف سے آپ لکھے خط جواب میں ؛”

یہ ایک ادبی سرگرمی بھی ہے ، فنون لطیفہ کی یہ قسم ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ نئی نسل پرانے وقت کی اس میراث سے محروم ہو کر رہ گئی ہے، لیٹر رائٹنگ ایک فن ہے ، خوبصورت لکھائی اور خوبصورت قلم کا دور معدوم ہو کر رہ گیا۔

جب لوگ اعلی سے اعلی قلم کا انتخاب کرتے اپنے ذوق کے مطابق فاؤنٹین پین، پارکر پین کے متوالے خوبصورت الفاظ رقم کرتے اردو اور انگریزی لکھنے کیلئے علیحدہ سے “پین نب” کا انتخاب کیا جاتا
اور کبھی کھویا ہوا کوئی خوبصورت پیار بھرا خط کسی کتاب یا رسالے سے سوکھے ہوئے پھول اور کسی خوشبو سے ہلکا معطر کیا گیا برآمد ہوتا تو آپ اسی لمحے اور عمر میں جینے لگتے ہیں۔

” ایک مدت سے نہ قاصد ہے، نہ خط ہے ، نہ پیام؛”

Leave a Reply