نظم و ضبط اور ہماری زندگی: ماریہ حلیمہ

ہماری زندگی میں ہم آہنگی ، معاملات کی درست ترتیب اور شخصیت کو جوابدہی اور احترام کا مظاہرہ کرنا سکھانے والی اہم چیز نظم وضبط ہے بچپن ہی مناسب رہنمائی اور نظم وضبط ضروری ہے جس سے خود اعتمادی حاصل ہوتی ہےیہ نہ رکنے والی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

نظم وضبط کی مشق انسان کے دل ودماغ کی نشووو نماکیلیئےمعاون ہے یہ نشوونما دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے اندرونی اور بیرونی اندرونی مستقل مزاجی ، صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت ہے۔

بیرونی ضابطہ عام توقعا ت جیسے پر مرکوز ہوتا ہے جیسے قانون کا نفاذ بہترین صلاحیتوں کا ہونا کافی نہیں ہے کیونکہ ان کو استعمال کر نے کیلیئے بھی ہمیں نظم وضبط کی ضرورت ہے ۔
نظم و ضبط با اعتبار معنی قاعدہ ، تنظیم اور مشق کے ہیں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے ہماری زندگی میں قاعدگی آجاتی ہے جو کہ بہت ضروری بھی ہے۔

مثال کے طور پر ضبط نفس زبا ن کی شائستگی کو کنٹرول یا ضبط میں رکھنا ہے اس سے مراد ہم یہ بھی لیتے ہیں کہ معاشرہ کا ہر فرد اپنے منظم طرزعمل کی حالت میں دوسروں اور اپنے لیئے باعث نفع ہو کیونکہ یہ خود پر قابو پانے اور سوچ اور عمل کے سماجی طور پر منظور شدہ معیارات کی اطاعت کی عادات کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں۔

یعنی وہ صحیح طرزعمل کی اچھی سجھ رکھ سکتے ہیں نظم و ضبط ہی کہ ذریعے ہم اپنے معیارات کی پاسداری جائز اور ضروری بنا سکتے ہیں کی ،اسی سے ہم اپنے رویئےکو اس قدر مضبوط اور مربوط بنا سکتے ہیں کہ ہماری سوچ انفرادی مفادات کو گروہی ، سماجی اور معاشرتی مفادات کے تابع کرنا شامل ہے اسی وجہ سے نظم وضبط ایک مثبت معاشرے کیلئے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔

اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہم یہ دہکھتے ہیں کہ کسی بھی خطہ زمین پر جب بھی بے ضابطگیاں مقررہ حدسے بڑھ جاتی ہیں تو اسے کوئی نہ کوئی بیرونی طاقت اسے اپنی یلغار کا شکار کرلی جاتی ہے اور نتائج سنگین تر ہوتی چلی جاتی ہے۔

نظم و ضبط کی ابتدا ہمارے گھر میں ہماری تربیت کے دوران ہی ہو جاتی ہے اور ہونی بھی چایئے جس گھر میں نظم و ضبط ہو گا اس کے ہر معاملات آپ کو سلجھے ہوئے اور بر وقت نظر آیئں گے چاہے وہ گھر داری کے ہوں ، بچوں کی تربیت کے ہوں ،یا شخصیت سازی کے ہی کیوں نہ ہو۔

ہم اکثر اپنے بچون میں نظم و ضبط کی کمی کی شکایات کرتے نظر آتے ہیں لیکن ہم اپنے اندر اپنی شخصیت اسے ڈالنے کی کوشش ہی نہیں کرتےنتیجتا ہمارا ہر عمل ہمارے تمام افعال اسی کے بر خؒلاف ہوتے جارہے ہوتے ہیں اور ہمارے بچے اس سارے عمل میں براہ راست گواہ اور کہیں کہیں شکار بی ہورہے ہوتے ہیں۔

جس کی وجہ سے بے ہنگم طرز زندگی، جھوٹ ، فریب ، بد دیانتی اور بناوٹ ان کی شخصیت کا حصہ بنتی چلی جاتی ہے اور نظم وضبط کی چونکہ ہم نے تربیت ہی نہیں دی ہوتی تو ہمیں کسی سطح پر نظر ہی نہیں آتا ایک نامکمل اور بے ہنگم طرز زندگی دے کر ہم یہ بہانہ بخوبی بناتے ہیں کہ وقت کی کمی نے ہمیں صحیح تربیت نہ کرنے دی حالانکہ یہ قطعا غلط رویہ ہے جو ہم سب اختیار کر رہے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں کچھ پیشہ ورانہ زندگی کے معاملات کی تو اس میں بھی ہم نے باقی تمام لوازمات جو کہ غیر ضروری بھی ہیں جمع کر رکھے ہیں اور جو ضروری ہیں کامیاب اور منظم زندگی کیلئےوہ سب ہم نے کہیں پیچھے چھوڑ دیئے ہیں نہ ہی گھر سے صحیح وقت پر نکل پاتے ہیں نہ ہی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر پاتے ہیں اور نہ ہی اپنے خاندان، دوست ، احباب اور معاشرے کو وہ سب دے پاتے ہیں جو ہم دینا چاہتے ہیں ۔

نظم وضبط کی کمی کسی بھی غلط ردعمل کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ یہ نظم وضبط ہی ہے جو کہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اچھی ذہنیت کیسے تیار کی جائے اور دوسروں کی شخصیت کا تجزیہ کرنے اور جانچنے کی صلاحیت میں مدد ملتی ہے اور ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہمیں کس وقت اور کیا کرنا ضروری ہے۔

اسی لئے کہا جاتا ہے کہ صحیح رویہ اپنانا ایک بہت اہم قابلیت ہے جسے ہمیں معاشرے میں زندہ رہنے کیلئے تیار کرنا چایئے اور یہ ہمیں نظم وضبط پر عمل کرنے ہی سے حاصل ہوتی ہے ۔

ہم اکثر و بیشتر سنتے رہتے ہیں کہ ہمارے جدید معاشرے میں افراد میں بےچینی اور ڈپریشن جیسے ذہنی مسائل کا شکار ہورہے ہیں یہ بھی زندگیوں میں نظم وضبط کا فقدان کی وجہ سے ہیں۔

کسی بھی معاشرے میں امن وامان کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور امن وامان کے بغیر معاشرہ جنگل تصور کیا جاتا ہے یہ کسی بھی معاشرے کے زندہ و تابندہ رہنے کی بنیاد ہوتا ہے اور یہ بھی بغیر نظم وضبط کے ممکن ہی نہیں۔

جب ہم جانتے ہیں کہ نظم وضبط ہی ہمارے خیالات اور اہداف کو ہم آہنگ کر کے ہمارے جذبات اور سوچ پر قابو پانے میں ہمیں کامیاب کر سکتا ہے تو ہمیں اسے اپنی زندگی کا معمول بنا لینا چایئے کیونکہ نظم وضبط کے حامل افراد نہ صرف خود کو ایک نعمت دے رہے ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو ناکامی کی زندگی سے دور رہنے میں مدد بھی کر رہے ہوتے ہیں یہ افراد کسی بھی معاشرے میں اثاثہ تصور کیے جاتے ہیں اور تصور کیا جانا ان کا حق بھی ہے۔

Leave a Reply