امید کا کوئی دیا: ارسلان خالد سندھو

اداسیوں میں گھرے ہوئے ہو ، پریشاں و آفت زدہ ہوئے کھڑے ہو ، غم چڑھ کے سینے پہ کود پھاند رہا ہے نا ۔۔۔۔؟ ہائے صدقے جو دیپ آنکھوں میں جلائے ہوئے تھے ، جو خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے ، بجھنے لگے ہیں نا وہ دیپ ؟ ٹوٹنے لگے ہیں نا وہ خواب ؟ جلتی سلگتی کڑھتی آنکھوں سے آسمان کی جانب مدد کی آس میں ٹکٹی باندھے دیکھے ہی چلے جا رہے ہو نا ؟ ہائے میں صدقے واری جاؤں۔۔۔!

آنکھیں دھندلا گئی ہیں نا حالات کے خوں رنگ مناظر سے اور ساری کائنات ہی بکھری بکھری لگ رہی ہے نا۔۔۔! امید کا کوئی دیا ، کہیں بھی روشن دکھائی نہیں دے رہا نا ، کوئی آس کا قمقمہ کوئی سکوں کی کرن دور دور تلک نظر نہیں آ رہی نا۔۔۔! تو میرے سوہنے یہ کیوں بھول جاتے ہو تم۔۔۔۔!

تمہارے حالات کتنے ہی کشیدہ کیوں نہ ہو جائیں اور تمہیں کتنا ہی کبیدہ خاطر کیوں نہ کر ڈالیں ، خلوصِ دل سے مانگی ایک دعا ان برے حالات میں بھی تمہاری زندگی کے سارے مصائب کا خاتمہ کر کے پورے کا پورا زندگی کا دھارا ہی بدل سکتی ہے۔

نصیب بنانے والے کا کہنا ہے۔۔! میں تمہاری تقدیریں اور نصیب تمہاری دعاؤں کے بدلے بدل ڈالوں گا ، میری تو منشا ہی یہی ہے کہ تمہیں اپنی چاہتوں سے گزار کر تمہاری چاہتوں تک لاؤں۔۔! یہ تو تم ہو ، جلد باز ، عجلت پسند ، ورنہ میرے ہاں کہاں کی اندھیر نگری اور کہاں کی دیری۔۔۔۔؟

میرے سوہنے چندن کیوں پریشاں ہو ، سنو وہ جانتا ہے تمہاری دعاؤں کو کب اور کیسے شرف قبولیت بخشنا ہے ، ان کے بدلے فوراً تمہیں کچھ عطانا ہے یا مصائب کو ٹالنا ہے جن سے تم ناواقف ہو یا پھر انہیں ذخیرہ آخرت کرنا ہے۔

میرے چندن۔۔! یہ جو رابطے بنائے ہیں نا اللہ سے ان میں تعطل نہ آئے ، جو ربط ضبط قائم کیا ہے نا ان مشاکل میں اللہ سے ، یہ کبھی صرف اس وجہ سے ٹوٹنے نا پائے کہ تمہیں تمہارا گوہر مقصود نہ مل پایا ، تمہارا تمہارے دل عزیز لوگوں سے رابطہ بحال نہ ہو سکا ، جن سے تم بحال رکھنا چاہتے تھے

یہ تیرے حق میں اچھا ہوا ہے میرے چندن۔۔! اوئے میرے چندن دیکھ نا تجھے تیرے اس مالک نے جس سے تو نے رابطے بنائے کیسا پیارا ، کیسا خوبصورت ، کیسا پڑھاکو ، کیسا ہنس مکھ ، کیسا دل نشین آواز والا ، کیسا حالات و واقعات کی سمجھ بوجھ رکھنے والا ، کیسا ٹوٹ کر چاہنے والا ، کیسا قدر کرنے والا محبوب عطایا ہے۔

اسی لیے کہہ رہا ہوں یہ رابطہ اب خالق دوجہاں سے ٹوٹنے نہ پائے ، شکرانے بنتے ہیں بہت سارے ، اور مان لے میرے چندن کہ۔۔! تجھے یہ عطاوے ایویں شویں نہیں دیے گئے تمہیں شکر کرنا ہے۔ سستی چھوڑ دے چندن۔۔۔! مستقبل کی فکر کر۔۔

دیکھ میرے چندن دوام و ہمیشگی اور مستقلانہ دعائیں ہی ناممکنات کو ممکن بناتی ہیں ، میرے چندن جتنا زیادہ یقیں اتنا ہی زیادہ جلدی سکوں ، جس پہ یقیں ، وہ پھر وہ وہ دروازے بھی کھول دیتا ہے ، جن کو کھولنا کائنات کی کسی شے کے بس میں نہیں ہوتا ، یہ صبر کے گھونٹ پینا ہے تو خاصہ مشکل ، ایک دم کڑواہٹ پورے وجود میں پھیل جاتی ہے ، لیکن دیکھ چندن یہی صبر تمہیں معجزوں سے ملواتا ہے ، اور کن سے فیکون تک کی ہر اُدھوری کہانی مکمل ہو جاتی ہے۔

میرے چندن ، یہ بیماری ، یہ بے رخی ، یہ چھوٹے چھوٹے جھگڑے ، یہ عداوتیں ، نفرتیں ، سازشیں ، یہ تو تجھے مضبوط بنانے آتی ہیں ، یہ کبھی مت سوچنا کہ اﷲ رب العزت تمہیں بے یار و مددگار چھوڑنے والا ہے ، یا تم مانگو گے تو وہ تمہیں خالی ہاتھ موڑنے والا ہے ، ایک وہی تو ہے جو میرے چندن جو تم سے اتنی محبت کرتا ہے۔۔۔۔! جتنی نہ تو تم سے کسی نے کی ہو گی اور نہ ہی تم نے کسی کو دی ہو گی۔

اوئے چندو۔۔! منہ اٹھا نا اوپر ادھر دیکھ ، سوہنے میری جانب ، ملا نظریں میری نظروں سے اور سن۔۔۔۔! جب وہ تمہارے ہاتھ میں کوئی غم مثل ایٹم بم تھماتا ہے تو اُس غم کو سنبھالنے کی قوت و ہمت بھی دے دیتا ہے ، بس یقین رکھنا…!

وہ خود اعلان کرتا ہے ، تمہارے رب نے نہ تمہیں تنہا چھوڑا ہے اور نہ وہ تم سے بیزار ہوا ہے ، اور تیرا رب بُھولنے والا نہیں اور بات کرنے کے اعتبار سے وہ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے ، وہ اپنے وعدوں کا پابند ہے ، وہ جو فرما دیتا ہے اسے کوئی بھی نہ موڑ سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ بی بریو چندن ، اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے ، پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔

Leave a Reply