میری ڈائری کا ورق : عافیہ رائے

پاکستان میں جہاں ہر شعبے میں کرپشن جیسی عفریت پنجے گاڑ چکی ہے وہاں مسیحائی بھی اسی عفریت کا شکار ہے۔ مسیحا کے ہاتھ میں اب مرہم نہیں بلکہ چھرا ہے۔جو غریب اور سفید پوش تنخواہ دار کے پیٹ میں گھونپا جا رہا ہے۔

برانڈڈ ادویات کا نسخہ اس کے لئے کسی ہارٹ اٹیک سے کم جان لیوا ثابت نہیں ہوتا جو طبقہ دن رات کی روٹی پوری کرنے کیلئے دیہاڑی ، مزدوری کے لئے خون پسینہ ایک کر دیتا ہے۔

9بجے سے 5 بجے دفتری اوقات میں جان کھپاتے ہیں لمحہ بھر کے لئے سوچئے وہ محنت کش مہنگی مہنگی ادویات کا خرچہ کیسا اپنی پھٹی قمیض کی جیب سے نکال سکتا ہے، اور نہ ہی سفید پوش طبقہ یہ عیاشی پال سکتا ملک عزیز میں 80 فیصد طبقہ سفید پوشی کی زندگی گزار رہا ہے۔

اس طبی واردات قتل کو روکنے کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے ، اس کے تدارک کے احکامات جاری کیئے جائیں اور ان پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

ڈاکٹر حضرات کو پابند کیا جائے کہ وہ نسخہ لکھتے ہوئے صرف دوائی کا سالٹ لکھیں کمپن یا برانڈ کا نام قطعاً نہ لکھا جائے تاکہ مریض کو میڈیکل سٹور پر اپنی معاشی استطاعت کے مطابق دوائی مل جائے نا کہ اس کی گردن پر برانڈ کا چھرا پھیرا جائے ۔

یہ ایک مافیا کی ملی بھگت اور کمیشن ایجنٹس
کا بنا جال ہے جو مرتے ہوئے غریب کے اوپر پھینکا جارہا ہے اور اپنی جیبیں بھرنے کیلئے اس نیٹ ورک کو مضبوط سے مضبوط کیا جا رہا ہے گو کہ اس کھیل میں بہت سے انسان دوست اور مسیحائی کا علم تھامنے والے شامل نہیں ، بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں، پرائیویٹ ہسپتال ڈاکٹرز کے ساتھ ساز باز کر کے ان کے ساتھ کمیشن سیٹ کر کے اپنا پنجہ گاڑے ہوئے ہیں۔

چند لوگ جو عبادت سمجھ کر اس شعبے کی خدمت کر رہے ہیں اور ادویات کی قیمت چند سو تک رکھنا چاہتے ہیں ان مسیحاوں کو کمیشن مافیا ٹکنے نہیں دیتا، ایک ڈاکٹر صاحب کے مطابق ایک ویکسین جس کی قیمت یہاں کچھ روپے ہو سکتی تھی لیکن کمیشن خوروں نے ان کا یہاں رہنا اس قدر دوبھر کیا کہ وہ بیرون ملک نقل مکانی کر گئے اور آج دوسری قوم ان سے فیضیاب ہو رہی ہے ۔

بیرون ممالک اس رویہ کی سخت مذمت کی جاتی ہے اور ان ڈاکٹرز کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جو نسخے میں سالٹ لکھنے کی بجائے کسی برانڈ یا کمپنی کی ادویات لکھتا ہے

پاکستان میں ایسے ایماندار لوگوں کا کوئی مول نہیں ڈالا جاتا کیونکہ یہاں کے بیوروکریٹس کی جیبیں بھرتی ہیں ملٹی نیشنل کمپنیاں جو ان کے بیرون ملک ٹورز ارینج کرتے ہیں۔

ان کے اکاؤنٹس بھرتے ہیں ، ان کے شاندار طرز زندگی کا خرچہ فراہم کرتے ہیں اور یہ وجہ ہے کہ حرام کا پیسہ ان کے رویے ان کے جذبے سب اس ناسور کی نظر ہو چکے ہیں اور جذبہء مسیحائی ان پر ماتم کرتی دکھائی دیتی ہے ۔

” ابن مریم ہو کرے کوئی؛ “

Leave a Reply