میری چھوٹی سی خواہش: زینب یاسین

میرے خوابوں میں ایک پہاڑی رہتی ہے جو ہر موسم میں جنت کا منظر پیش کرتی ہے۔ اور آج کل کے موسم میں تو سفید برف کی ملائم چادر اوڑھ کر ، ہر انسان کو اپنی خوبصورتی کا شیدائی بنا دیتی ہے۔

میرے نزدیک تو وہ حسن کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ آپ اور میں اس پہاڑی علاقے کو پیر چناسی کہتے ہیں۔یہ نام سن کر، اگر آپ کا تعلق مظفرآباد سے ہے تو، آپ کے ذہن میں حیرانگی کے جذبات نے اچھل کود شروع کر دی ہوگی کیونکہ مظفرآباد سے پیرچناسی جانا ہو یا رش میں جلال آباد سے مدینہ مارکیٹ، دونوں صورتوں میں گھڑی کی سویاں ایک ہی جتنا سفر طے کرتی ہیں۔ پر آج کل رش کے حالات غیر معمولی ہونے کی وجہ سے آپ پیرچناسی جلدی پہنچ سکتے ہیں۔

یہ ہمارے اوپر ہونے والا ایک بڑا ظلم ہے اور دوسرا بڑا ظلم یہ ہے کہ مسافت اس قدر قلیل ہونے کے باوجود بھی ،میرے اور اس تسکین بخش پہاڑی میں اس قدر اجنبیت ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ آسمان میں اٹھکیلیاں کرتا ایک تارا ہو، جو صرف میری مختصر نظر تک محدود ہے۔

میں اسے تصویروں میں دیکھ تو سکتا ہوں لیکن وہاں تک پہنچنا پچھلے کچھ عرصے سے میری خواہش ہے۔ اور “خواہش” سے “نصیب میں نہ ہونے “تک کے سفر کی گاڑی کے پہیے اور ڈرائیور ، میرے احباب ہیں کیونکہ ان کے مطابق اُن کی زندگیاں پیرچناسی کے روح فرسا موڑوں سے زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اور وہ Elon Musk سے زیادہ مصروف ہیں۔

کبھی کبھار یہ خیال اکثر ذہن میں چہل قدمی کرتا ہے کے کیسے قائد اعظم نے اپنے دوست کے خواب کو حقیقت کی اوڑھنی اوڑھا کر ایک نیا ملک بنا لیا؟ یہ تھے علامہ اقبال کے دوست پھر ایک ہیں ہمارے دوست جنہوں نے اپنی آمد سے کباب کی دکان تک پہنچنے کے سفر کو چار چاند لگانے کے بجائے ہمیشہ اپنی غیر موجودگی سے ہر منصوبے اور تدبیر سے چاند گھٹائے ہی ہیں۔

ہم ہر محفل میں کہیں جانے کا پلان بناتے ہیں اور وہ پلان محفل کی جان بن جاتا ہے پر ہم اُس بلا سے جان چھڑا کر زندگی کی مصروفیات میں ضم ہو جاتے ہیں۔

میرے نزدیک آج بھی دوستوں کے ساتھ اُس پہاڑی تک جانا ایک خواب ہے اور میرے دوست ہمیشہ مجھے نیند سے اٹھا کر حقیقت میں لے آتے ہیں۔

Leave a Reply