میری ڈائری کا ورق : عافیہ رائے

ہم آج جس معاشرے میں رہ رہے ہیں ، وہاں انسان کی شائستگی کو اس کی کمزوری خیال کیا جاتا ہے گفتگو میں آپ جناب تو ناپید ہی ہوگئی ، لوگ اس قدر اخلاقی بد حالی کا شکار ہیں کہ آئے دن ہمیں
ہر شعبے میں ناروا سلوک کے مناظر دیکھنے سننے میں آتے ہیں۔

نوجوان نسل کی بے باکی اور بد لحاظی کا تو ذکر ہی چھوڑیے ، گھر کے بڑے بزرگوں کا لحاظ یہ سب کچھ قصہ پارینہ ہوگیا۔ اب جس قدر آواز اونچی ہو ، الفاظ کرخت ہوں لہجے ناروائی کا شکار ہوں۔ آپ اتنے ہی بھلے ہیں۔

لیکن جب منٹو نے اسی معاشرے کو اس کی ناروائی کا آئینہ دکھایا تو نام نہاد تہذیب یافتہ معاشرہ بلبلا اٹھا کہ کیا بیہودگی ہے، یہ شخص تو سراسر اخلاقی پستی کا شکار ہے اور معاشرے کو بیہودگی کی جانب دھکیل رہا ہے۔

در حقیقت ایک بے خبر اور بے حس معاشرہ منٹو کو جان ہی نہیں سکا ، شرافت کا لبادہ اوڑھے یہ بے جان معاشرہ ہر برائی کو سب حمام میں ننگے ہیں جان کر تہذیب و تمدن کا پاسبان بنا بیٹھا تھا مگر جب منٹو نے اپنی تحاریر میں یہ ننگ دکھایا تو سب بلبلا اٹھے در حقیقت منٹو اس معاشرے کے برعکس ایک حساس انسان تھا جو درد اور ناروائی کے زخم پر مذہب ، سیاست یا منافقت کی ریشمی چادر نہیں چڑھاتا تھا۔

بلکہ وہ اس منافقت کی چادر کو کھینچ کر تار تار کر دیتا تھا اور معاشرے کو دکھاتا تھا کہ یہ زخم تمھارے ہیں ان کا مرہم بھی تم خود کرو گے ، اس دور کی دوا بھی تمھی ہو ۔

اس نے نام نہاد شرفا کے بیچ ان بھیڑیوں کو بے نقاب کیا جو دن کی روشنی میں عزتوں کا پرچار کرتے تھے اور رات کے انھیروں میں لوگوں کی عزتیں ان کے در پر دم توڑ دیتی تھیں۔

منٹو نے ہر کردار کو حقیقی جامہ پہنایا اور معاشرے کے سامنے لا کھڑا کیا کہ یہ ہے آئینہ اس میں اپنا آپ دیکھو اور پھر کہو کہ شرافت کا کیا مول ہے، تہذیب کس بھاؤ بکتی ہے اور شائستگی کے در پردہ
اصل حقیقت کیا ہے ۔

منٹو کا ایک مضمون حاضر خدمت ہے ؛ پردہ کرنے والی عورتوں کی کئی قسمیں ہیں ، ان میں ایک قسم تو وہ ہے جو اپنے رشتہ دار مردوں سے پردہ کرتی ہے لیکن نامحرم کے سامنے بے حجابی میں ان کو کوئی مسئلہ نہیں۔

اور ایک قسم وہ ہے جن کا پردہ گلی کے مردوں کیلئے ہے اور سارے شہر میں پردہ در بغل یا پردہ فروش بنی پھرتی ہیں،لیکن سب سے خطرناک وہ قسم ہے جو پردہ کرتی ہیں لیکن در پردہ نہیں کرتیں !!

منٹو نے اپنی ایک اور تحریر میں معاشرے کو اسکا آئینہ دکھایا کہ ” جس نیت سے طوائف برقعہ کرتی ہے بالکل اسی نیت سے کچھ مرد داڑھی رکھتے ہیں” !!

Leave a Reply