مری موت کا منظر: فرزانہ کوثر

روئے ،چیخے،کانپے،ٹڑپے،آ ہ بھر کے مرگئے
کتنے سپنے برف خانے میں ٹھٹھر کے مر گئے
دوش دیتے کس کو اپنے قتل کا معصوم لوگ
خود پہ اپنی مات کا الزام دھر گئے۔

دنیا کے کسی بھی خطے،ملک یا شہر میں خوفناک حادثات کا وقوع پذیر ہونا معمولی بات ہے اور ایسے حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع شاید بہت عام سی بات ہوگئی ہے۔

کیونکہ قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے لواحقین کے کرب اور ان کی اکھڑتی سانسوں کی تکلیف کا اندازہ ریاست کی نا اہل حکومت پالیسیوں اور اداروں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ جس گھر کے 7افراد کا بیک وقت جنازہ اٹھایا جاتا ہے اس کی تکلیف کی شدت صرف ان کے لواحقین کو ہی پتہ ہوتی ہے۔

ہم لوگ صرف اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر افسوس کر سکتے ہیں یا پھر چند دن سوشل میڈیا پر اودھم مچا کر اپنے اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں جبکہ ایسے قیامت خیز واقعات مرنے والوں کے ورثاء کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔

مجھے بہت حیرت ہوئی جب حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ مری میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے،اور سیاحوں کی توجہ اور دلچسپی کا جنون دیکھتے ہوئے مری میں ہوٹل مالکان اور مری انتظامیہ نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یزید کی روش کو اپنایا اور سیاحوں کے جسموں سے خون کا آ خری قطرہ بھی نچوڑ لینے کی ٹھانی۔

موت بر حق اور اٹل حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن جب انسانیت مر جائے تو یہ ایسا خسارہ بن جاتا ہے جو کبھی پورا نہیں ہوتا۔جس حکومت کے وزراء ایک لاکھ گاڑیوں کے مری میں داخل ہونے پر پریشان ہونے اور حفاظتی اقدامات کرنے کی بجائے ترقی اور خوشحالی کے ڈھول بجا رہے ہوں وہاں ملک کی بقاء کا وہم دل سے نکال دینا چاہیے۔

برفباری دیکھنے کے سپنوں کے چکر میں کتنے سیاحوں نے سفید برف کے کفن اوڑھ لیے،کتنی معصوم ننھی منی روحیں جو برف میں بھاگنے،برف کے گھر بنانے اور برف باری میں تصویریں بنانے کے خواب لیے اپنی بند گاڑیوں کے شیشو ں میں جھلکتی موت کو گلے لگا گئے۔

مری کی سفاک انتظامیہ،ٹھٹھرتی سرد رات،اور کھانے پینے کی خوردونوش کی آسمان کو چھوتی قیمتیں بلکتے اور ٹھٹھرتے بچوں کی جسم سے نکلتی روحوں پر کوئی اثر نہ کر سکیں۔مری ہوٹل مالکان نے تو کوفہ سے بھی بدتر مظاہرہ کیا،کوئی شمر بنا تو کوئی ہندہ،شمر نے پانی بند کیا تو ہندہ نے ننھے بچوں کے کلیجے چبائے،یوں لگ رہا تھا جیسے یہ سیاح مری میں قدرت کے نظارے دیکھنے نہیں بلکہ طائف سے ملتی جلتی کسی وادی میں آ گئے ہوں جہاں ان کو پتھر پڑنے ضروری تھے۔

کتنے لوگوں نے پیسے ڈال کر موت خریدی ہوگی،آ نکھوں میں کتنے سپنے اور حسین لمحات کو قید کرنے کی حسرت لیے وہ گھر سے نکلے ہونگے یہ سوچے بغیر کہ مری کے بلندو بالا پہاڑ اتنے بپھر جائیں گے کہ ان کے سپنوں کے ساتھ ساتھ ان کو بھی ننید کی اس وادی میں پہنچا دینگے جہاں سے ان کا واپس آ نا ناممکن ہوگا۔

ایسے حادثات کا فائدہ سیاسی جماعتوں،قوم کے مفکرین اور خاص طور پر سوشل میڈیا کو بہت عروج ملتا ہے کیونکہ سب اپنے اپنے بیانات اور بناوٹی ہمدردیاں کھل کر دکھا تے ہیں۔

سانحہ مری دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جو کہ آ ئندہ مری کا رخ کرنے والے شائقین کے لئے بہت بڑا سبق ہے،جہاں حکومت کی نااہلی اور اداروں کی ناقص کارکردگی صف اول ہے وہیں ہم لوگ خود بھی حفاظتی اقدامات کیے بغیر اور جس سفر پر روانہ ہونا ہوں اس کے بار میں موجودہ صورتحال سے آگاہ ہونا ضروری نہیں سمجھتے اور کہیں بھی چلے جاتے ہیں جو کہ ایسے خوفناک حادثات کا موجب بھی بن سکتے ہیں۔

مری کے سانحہ میں جو اموات ہوئیں وہ برفباری سے بلاک ہونے والے راستوں میں پھنسی گاڑیوں کے اندر چلتے ہیٹرز سے خارج ہونیوالی کاربن مونو آکسائیڈ تھی جو گاڑی کے اندر ذندہ جانوں کو لاشیں بنا گئیں،یاد رہے کہ جب بھی ہیٹر چل رہا ہو چاہے وہ کسی کمرے میں ہوں یا کسی بھی ایسی جگہ جہاں آ پ آ رام کر رہے ہوتے ہیں تو وہاں سے اتنی آ سانی ضرور ہونی چاہیے کہ آ کسیجن آ تی رہے اور کاربن مونو آکسائیڈ خارج ہوتی رہے،گاڑیوں پر برف جم گئی،تو گاڑیوں کے سلنسر کام کرنا چھوڑ گئے اور وہی کاربن مونو آکسائیڈ لوگوں کی موت کی وجہ بنی۔

اب آ تے ہیں حکومت کی طرف جو ایسے حادثات پر گہرے دکھ کا ہی اظہار کر سکتی ہے اس کی علاوہ کچھ نہیں۔۔سانحہ مری کی تحقیقات کے دعوے کرنے والے اس سانحہ کی طرح رفوچکر ہوگئے،کسی نے بھی مری ہوٹل ایسوسی ایشن کی انویسٹیگیشن نہیں کی،کسی نے مری کے ہوٹل مالکان پر ان قیمتی جانوں کے ضیاع کا الزام نہیں لگایا،کسی مری ہوٹل مالکان پر ایف آئی آر درج نہیں ہوئی،،،کیوں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ مری ہوٹل ایسوسی ایشن کا صدر راجہ خلیل ہے جو پی ٹی آئی کا راہنما ہے اور ہوٹل فاران کا مالک ہے،ایسوسی ایشن کا جنرل سیکرٹری راجہ حنیف ہے جو صداقت عباسی کا سسر ہے اور ایک یونین کونسل کے پٹواری سے موون پک کا مالک بن چکا ہے۔راجہ حنیفPTI کا سپانسر ہے مری ہوٹلز کے ریٹس وٹس ایپ گروپ میں طے کیے جاتے ہیں۔

راجہ حنیف کا بیٹا راجہ ارسلان صداقت عباسی کا سالا ہے اور PTI کی جانب سے مری ٹورازم کا ایڈوائزر ہے اور یہ مری کا مشہور قبضہ گیر ہے۔۔
عثمان بزدار کی تحقیقات اگر ختم ہوگئیں ہوں تو براہ کرم ہم عوام کو اس مافیا گروپ کی جانب سے کوئی قابل فہم تفصیلات مہیا کی جائیں تاکہ ہمیں بھی پتہ چلے کہ پی ٹی آئی کرپشن سے پاک صاف ہے۔

کچھ آ فیسرز کی معطلی اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے کافی نہیں ہیں عثمان بزدار صاحب۔اس کے لیے عوام آ پ سے صاف شفاف نتائج کی منتظر ہے اور بہت خوشی ہے کہ عوام نے مری کا بائیکاٹ کیا ہے اس سے مری ٹورازم آرگنائزیشن اور ہوٹل مالکان کی کچھ نہ کچھ آ نکھیں ضرور کھلیں گی۔۔

ہم مری کے مقامی لوگوں کو کوس کوس کر تسکین کرنا چاہتے ہیں لیکن در حقیقت یہاں بھی ہوٹل مافیا کے سرپرست PTI والے خود ہیں۔

یہ قوم کبھی کسی سانحہ کو خاطر میں نہیں لاتی،ذندہ دل قوم ہے ،ہر سانحہ کے بعد نئے جذبے سے انسانیت سوزیوں کے لیے صف آ را ہو جاتی ہے۔

میرے قاتل کو پکارو کے میں ذندہ ہوں ابھی
پھر سے مقتل کو سنوارو کہ میں ذندہ ہوں ابھی
قبر سے آ ج بھی محسن کے یہ آ تی ہے صدا
تم کہاں ہو میرے یارو کہ میں ذندہ ہوں ابھی۔۔

Leave a Reply