یہ عادتیں بھی نا: ارسلان خالد سندھو

کتنی عجیب ہوتی ہیں ، کہیں کسی کے ساتھ کو تو کہیں کسی سے بات کو ترستی ہیں۔۔۔!

کہیں دل سے بندھے رشتوں کو تو کہیں روح میں گھسے لوگوں کو روتی ہیں۔۔۔!

کبھی چاہتوں سے فریب تو کبھی الفتوں سے دغا کھاتی ہیں۔۔۔!

کبھی کہیں بے سبب گڑگڑاتی تو کہیں سسکتی تڑپتی پھڑکتی بے دم ہو جاتی ہیں۔۔۔!

کبھی مجبور ہو کے منتیں تو کبھی بے بسی میں کچھ بول بھی نہیں پاتی ہیں۔۔۔!

یہ عادتیں بھی نا بہت عجیب ہوتی ہیں۔۔۔!

کبھی انجان تو کبھی جانے پہچانے دلوں سے جڑ جاتی ہیں۔۔۔۔!

اک میٹھے بول پہ تو کبھی اک نگاہ الفت پہ مر جاتی ہیں۔۔۔!

کبھی پہروں آنگن کے جھولے میں تو کبھی تنہا گھر کے کسی کونے میں بیٹھے بیٹھے کسی کو سوچتی ہیں۔۔۔!

کبھی ان دیکھی اور انجانی سی تو کبھی دیکھی بھالی محبتوں کو بنتی ہیں۔۔۔!

تو کبھی یونہی بلاوجہ اور بے سبب دن بھر تو کبھی شب بھر کسی کا رستہ تکتی ہیں ، یہ عادتیں بھی نا۔۔۔۔۔!

Leave a Reply