صبر: ارسلان خالد سندھو

کسی کو بھی اس طرح کی آزمائش میں ، تکلیف میں یا پریشانی میں مبتلا نہ کریں کہ اسے یہ سب سہتے سہتے صبر آ جائے۔۔۔۔!

اگر اسے صبر آ گیا نا تو وہ خاموشی کی ردا اوڑھ لے گا ، یاد رکھنا تب معاملہ تمہارے اور اس کے درمیان سے نکل کر پروردگارِ عالم کی بارگاہِ عظمیٰ ، مبنی بر عدل میں پہنچ جاتا ہے ، اور وہاں کسی سے نا انصافی نہیں ہوتی۔۔۔!

میں حیراں و ششدر رہ جاتا ہوں انہیں دیکھ کر ، جو دوسروں کا دل جلا کر ، کڑھا کر ، دُکھا کر چین کی نیند سوتے ہیں۔۔۔!

مان لیں دنیا میں ہم چلاکی ہشیاری دکھا کر بچ ہی جائیں ، لیکن کیا کبھی سوچا کہ روز محشر اللہ کے سامنے ہم کس منہ سے جائیں گے ؟ تب کہاں بھاگیں گے ، کہاں چھپیں گے ؟

سنیے صاحب۔۔۔۔! اگر ہم نے ایسا کیا ہے تو ہمارا انجام بہت برا ہونے والا ہے ، وقت وقت کی بات ہے صاحب کہیں ایسا نہ ہو کوئی اللہ کے سامنے ہمارے خلاف یہ کہہ رہا ہو۔۔۔! یہ جو میں سب کچھ صبر سے سہہ گیا ہوں ، اس میں اے میرے سوہنے اللہ تیری کتنی بڑی مصلحت و حکمت تھی۔

ایک تکلیف کے بدلے آج مجھے پورا پورا بدلہ ملنے والا ہے ، میرا مقام بھی بڑھایا جانے والا ہے اور عزت بھی ، آج میرے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہو گی۔

وائے ناکامی پھر تمہارے میزان سے نیکیاں نکال نکال کر اس کے میزان میں ڈالی جائیں گی۔ صاحب پھسلتے بھی ہیں ہم مگر سنبھلنا ناممکن تو نہیں ہے سنبھل جاؤ ، کامیاب ہو جاؤ گے۔

Leave a Reply