میری ڈائری کا ورق : عافیہ رائے

آج تک ہم اسی نقطے پر بحث مباحثے کرتے رہے کہ سوشل میڈیا ہمارے بچوں پر کیا اثرات مرتب کر رہا ہے ، ہمارے بچے ہماری نوجوان نسل کب کب منفی رحجانات کی طرف مائل ہوتی جا رہی ہے ،
نابالغ بچے منفی ویب سائٹ کی تباہ کاری کی زد میں پھنسے جا رہے ہیں۔

نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سوشل میڈیا پر رابطے میں اتنے آزاد ہیں کہ یہ آزادی انھیں کس دلدل کی جانب دھکیل رہی ہے اس کا اندازہ لگتے لگتے بات اختیار سے باہر ہو چکی ہوتی ہے۔

لیکن ایک پہلو جو ان سب پہلوؤں سے زیادہ خطرناک ہے سوشل میڈیا پر شادی شدہ خواتین اور مرد حضرات کے روابط ، اس اختلاط کے نتائج میں ہنستے بستے گھر اجڑ رہے ہیں ، خاتون خانہ گھریلو مصروفیات سے فارغ ہو کر جب سوشل میڈیا کے گلوبل ویلج میں داخل ہوتی ہیں ہیں تو ایک ذہنی اور جسمانی تناو سے آزادی کا ایک لطیف جھونکا انھیں ایک طمانیت کا احساس دلاتا ہے۔

شاید ایسی طمانیت ہی انھیں بلا سوچے سمجھے کسی ایسے در پر دستک دینے لیجاتی ہے جہاں پہنچنے کا انجام ایک خاندان کی تباہی پر آکر دم لیتا ہے۔

انسانی فطرت ہے کہ وہ نئے ماحول اور نئے روابط کو اپنی زندگی میں ایکدم اتنی اہمیت دینے لگتا ہے کہ وہ قدرت کے اس قانون کو بلائے تاک رکھ دیتا ہے۔

“سہج پکے سو میٹھا ہو ” سہج پکنے کے دوران آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس چیز کی کمی یا بیشی آپ کے لئے فائدہ مند یا نقصان دہ ہو سکتی ہے اور اسی طرح سوشل میڈیا پر ہوائی گھوڑے پر سوار ہو کر اندازہ نہیں رہتا کہ اس کی سواری میں بے احتیاطی آپ کے لئے اندھیری کھائیوں میں لے گرے گی۔

کسی شادی شدہ خاتون کا دوسرے مرد سے اختلاط گو کی وقتی طور پر اس شائبے سے خارج از امکان نظر آتا ہے کہ بس ہلکی پھلکی سی گفتگو کہاں اتنی تباہی لا سکتی ہے !!

مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس گلوبل ویلج کی سیاحت عورت کو اتنی بھاتی ہے کہ اپنا شوہر ، بچے اور خاندان ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں اور وہ اپنی ذات کو خاندان کے پنجرے سے چھڑا کر ان انجان وادیوں میں اڑان بھرنے لگتی ہے اور دن بدن پرواز اونچی رکھنے کی خواہڈ میں اس کا اپنا گھر ، اپنا خاندان ، اپنی ذمہ داریاں چیونٹی کی مانند نظر آتے آتے غائب ہو جاتیں ہیں اور یہیں سے تباہی کے سلسلے
شروع ہوتے ہیں۔

دور کے ڈھول سہانے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں اپنے شور سے معدوم کر دیتی ہیں،
قدرت کے قانون پس پشت ڈالنا اور اس کے مخالف دلائل لانا ہماری تباہی کی راہ استوار کرتی ہے بھلے گردش زمانہ کتنی تیز ہو جائے لیکن خدا ک قانون ساتھ لیکر چلنا ہی ہماری عافیت کا باعث ہے ، اگر عورت اور نامحرم کے درمیان رابطے تاریک راہوں پر نکل گئے تو خانگی زندگیاں گہری گھاٹیوں میں جا گرتی ہیں۔

آئے دن ناچاقیاں ، غیر مردوں کی جانب سے خوف و ہراس ، ان کی نفسانی خواہشات کی بھر مار یہ خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اللہ کے لاگو کئے دائرہ حیات سے نکل کر سوشل میڈیا کو استعمال ضرور کریں اپنی زندگی میں جدت پیدا کریں ، جہاں سے استفادہ حاصل ہو ضرور کریں لیکن سوشل نیٹ ورکنگ میں اسقدر غوطہ زن نہ ہو کہ پھر نارمل زندگی میں ابھرائی نہ ہو سکے ۔۔۔ اور ڈوب کر خدا کے سامنے ابھریں تو شنوائی نہ ہو سکے !!

Leave a Reply