کہیں آپ بھی منافق

کہیں آپ بھی منافق تو نہیں ؟

کہیں آپ بھی منافق تو نہیں ؟

انسان جسے اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔ اس انسان کی بھی تین قسمیں ہیں ۔
ایک قسم مومنین کی ہے ۔
دوسری قسم کفار کی ہے ۔
تیسری قسم منافقین کی ہے ۔

پہلی قسم جن کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں ان سے راضی ہوں اور یہ مجھ سے راضی ہیں ۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ اللہ تعالی کے لیے وقف کر دیا ہے ۔ ان کا جینا ، مرنا ، کھانا ، پینا ، اٹھنا ، بیٹھنا ، ان کے شب و روز غرض ہر چیز اللہ کی رضا کے لئے ہے ۔

انسان کی دوسری قسم وہ ہیں جنہیں کفار کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ اللہ تعالی اور اس کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے احکامات سے انکار کرتے ہیں ۔ یہ لوگ دین اسلام کے سخت ترین دشمن ہوتے ہیں۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی تمام تر برائیوں کے باوجود بعض اوقات اللہ تعالی کی رحمت کے حقدار بن جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالی انہیں دین اسلام کی دولت سے مالا مال فرما دیتا ہے ۔

تاریخ میں ہم بے شمار کفار کے نام پڑھتے ہیں ۔ جن میں کچھ ایسے تھے جنہیں اللہ تعالی نے کبھی بھی ہدایت دینا گوارا نہ کیا ۔اور وہ دنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہوتے رہے اور آخرت میں بھی ذلیل و رسوا ہوں گے ۔ لیکن ان میں بعض کفار ایسے بھی تھے کہ اللہ تعالی کو ان کی کوئی نہ کوئی ادا پسند آگئی۔ اور اللہ تعالی نے انہیں دین اسلام کی دولت سے نوازا اور انہیں اسلام کے لیے چن لیا ۔ انہی لوگوں میں ایک شخص جسے دنیا وحشی کے نام سے جانتی ہے۔ اور انہی میں ایک خاتون ہندہ بنت عتبہ بھی ہے ۔

ہندہ بنت عتبہ اسلام کی شدید ترین مخالف تھی ۔ اسے اسلام سے اس قدر عداوت تھی کہ اس نے نے ایک شخص کو لالچ دیا کہ وہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دے ۔ جس شخص نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کیا ۔ اس شخص کا نام وحشی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر کے ان کی لاش کی بے حرمتی کر کے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو سخت اذیت پہنچائی تھی ۔ وحشی نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بے دردی سے شہید کیا اور ہندہ بنت عتبہ نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے جسمانی اعضاء کاٹ کر ان سے اپنے گلے کا ہار ، چوڑیاں اور دیگر چیزیں بنا کر پہنی ۔

لیکن اسلام نے وہ دور بھی دیکھا کہ جب اللہ تعالی نے ان دونوں لوگوں کو ہدایت دے دی ۔ ہندہ بنت عتبہ فتح مکہ کے موقع پر ایمان لے آئیں اور یوں وہ اپنے پچھلے تمام گناہوں سے توبہ کرکے صحابیات کی فہرست میں شامل ہوں گئیں ۔اور صرف مسلمان ہی نہ ہوئی بلکہ اسلام کو جہاں جہاں جنگوں میں بھی خواتین کی ضرورت پیش آئی ۔ انہوں نے اپنی جان تک کی پرواہ نہ کی اور خود کو اسلام کے لیے وقف کردیا ۔

اسی طرح وحشی نے بھی اسلام قبول کر لیا اور یوں وہ صحابہ کرام کی فہرست میں شامل ہو گئے ۔ لیکن انہیں عمر بھر حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنے کا غم برابر ستاتا رہا ۔ لیکن اللہ تعالی نے ان کے اس گناہ کا کفارہ ادا کرنے کا انہیں بہت جلد موقع دیا ۔ یوں حضرت وحشی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کے بہت بڑے دشمن ، نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کو جہنم واصل کر دیا ۔ حضرت وحشی رضی اللہ تعالی عنہ نے مسیلمہ کذاب کو قتل کرنے کے لیے وہی نیزہ استعمال کیا جس سے انہوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کیا تھا ۔

ایک اور صحابی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسلام کے سخت مخالف تھے ۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان بھی انہوں نے ہی پہنچایا ۔ اللہ تعالی نے ان کو بھی اسلام کی دولت سے مالا مال فرما دیا ۔ کائنات نے ایک وقت یہ بھی دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سیف اللہ کا خطاب دیا ۔

انسانوں کی تیسری قسم وہ ہے جنہیں منافق کہا جاتا ہے ۔ منافق وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے چہرے پر کئی چہرے لیے پھرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دعوے تو بہت بڑے بڑے کریں گے ۔ لیکن عملا الٹے پاؤں پھر جائیں گے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے چہرے سے ایک خول اترے تو نیچے کئی خول مزید نظر آئیں گے ۔ اور جیسے جیسے ان کے چہرے سے ایک چہرہ اترے گا تو دوسرا چہرہ پہلے سے بھیانک ہو گا ۔ دوسرا اترے گا تو تیسرا دوسرے والے سے بھی زیادہ بھیانک ہو گا ۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بظاہر تو اسلام قبول کر لیا لیکن عملا اسلام سے دور رہے ۔ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہے ۔ دعوے تو بڑے بڑے کیے لیکن جب عمل کی باری آئی تو صحابہ کرام کو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو میدان جہاد سے چند قدم کے فاصلے پر ہی چھوڑ کر واپس آگئے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دعوے تو بہت بڑے بڑے کیے لیکن جب عمل کی باری آئی تو الٹے پاؤں پھر گئے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھے تھے کہ جیت انہی کی ہوگی ۔

چشم فلک نے بہت جلد یہ نظارہ دیکھا کہ یہ لوگ مسجد نبوی شریف سے نام لے لے کر نکالے گئے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کبھی ہدایت نصیب ہی نہ ہوئی ۔ یہ اپنے نفاق کے ساتھ زندہ رہے اور اپنے نفاق کے ساتھ ہی مر گئے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے سکا ۔ عبداللہ بن ابی جو منافقین کا سردار تھا ۔ جب فوت ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم یہ منافق ہے ۔ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں ۔

لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی منافق کے مسلمان بیٹے کی خاطر عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ بھی پڑھائی ، کفن کے لیے اسے اپنا کرتا بھی دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستر مرتبہ عبداللہ بن ابی کے لئے دعائے مغفرت بھی کی لیکن اس کے باوجود وہ رئیس المنافقین ہی رہا ۔

دراصل یہ وہ منافق تھے جو خود کو بہت شاطر سمجھا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ان کی یہ چالاکیاں انہیں بہت فائدہ دیں گی۔ لیکن در حقیقت ان کا نفاق اس قدر غلیظ ثابت ہوا کہ یہ دن میں کم از کم پانچ مرتبہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی زیارت کرنے ، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے کے باوجود بھی منافق ہی رہے ۔ خود کو شاطر سمجھ کر دوسروں کو دھوکا دینے والے ، اور بے وقوف سمجھنے والے خود ہی عمر بھر دھوکے میں رہے ۔ اور انہیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی زیارت کرنا بھی ان کے نفاق سے نہ بچا سکا ۔

یہ تو تھی انسانوں کی قسمیں ۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ میرا اور آپ کا تعلق انسانوں کی کس قسم سے ہے ؟ کیا آپ نے کبھی غور کیا یا کبھی اپنے آپ کو پرکھا تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ ہمارا تعلق انسانوں کی کس قسم سے ہے ؟ کیا ہم بھی لوگوں کے ساتھ چالیں چل کر یا انسانوں کے جذبات سے کھیل کر خود کو عقل مند تو نہیں سمجھتے ؟ کیا ہم بھی بڑے بڑے دعوے کرنے کے بعد الٹے پاؤں پھر جانے والے نہیں ؟ کیا ہم نے اپنے چہرے پر کئی چہرے نہیں سجائے ہوئے ؟ کیا ہم اپنے اندر کی غلاظتوں پر فخر نہیں کر رہے ؟

ہم نے بھی تو کئی لوگوں کے ساتھ عمر بھر چلنے کی قسمیں اٹھائی ہوں گی ، کبھی کسی کے ساتھ وفا نبھانے کا عہد کیا ہوگا ۔ کسی کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کا وعدہ کیا ہو گا ۔ کیا ہم تو الٹے پاؤں نہیں پھر گئے ؟ کیا ہم نے تو کسی کو منزل سے چند قدم کے فاصلے پر نہیں چھوڑ دیا ؟ کیا ہمارے چہرے پر اتنے خول نہیں کہ ہمارا چہرہ ایک انسان کے سامنے کچھ اور ہوتا ہے اور دوسرے انسان کے سامنے کچھ اور ہوتا ہے ؟ اپنا مطلب نکل جانے سے پہلے کوئی اور چہرہ سجائے پھرتے ہیں اور اپنا مطلب نکل جانے کے بعد ایک اور چہرہ دکھا دیتے ہیں ۔

اگر ہم بھی ایسے ہی ہیں تو پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا فرق آیا ہم میں اور منافقین میں ؟ منافقین تو دن میں پانچ مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نمازیں پڑھتے تھے ۔ لیکن انہیں ان کا نفاق کسی قسم کا فائدہ نہ دے سکا ۔ کیا ہماری منافقت قیامت کے دن ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں کھڑا ہونے دے گی ؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہم منافقوں کے لیے شفاعت کرنا ہمیں فائدہ دے گا ؟ کیا ہمارا نفاق ، ہماری منافقت ہمیں پل صراط پار کرنے دے گی ؟ کیا ہماری منافقت ہمیں حوض کوثر پر پہنچنے دے گی ؟ یقینا نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں
محبت کے منافق: ثمینہ محمدیہ

تو پھر کیوں نا منافقت کو چھوڑ دیا جائے ، خود کو شاطر اور دوسروں کو بیوقوف سمجھنا چھوڑ دیا جائے ؟ کیوں نہ اپنا مطلب نکل جانے کے بعد بھی ہم ویسے ہی حسن اخلاق کا مظاہرہ کریں۔ جیسے ہم اپنا مطلب نکل جانے سے پہلے تھے ۔ منافقانہ طرز عمل اختیار کرنے سے تو بہتر ہے کہ انسان کافرانہ طرز عمل اختیار کر لے کیونکہ کافرانہ طرز عمل میں ہو سکتا ہے کبھی نہ کبھی ، کہیں نہ کہیں اللہ تعالی ہمارے دل کو حق کی طرف پھیر دے ۔ ہمارے دل کو اپنے لیے مخصوص کر لے ، ہمارے دل کو اپنا عرش بنا دے ۔ لیکن منافقانہ طرز عمل میں تو کچھ بھی کام نہیں آتا ۔

منافقانہ طرز عمل میں تو انسان نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے کرتے کا کفن پہن کر بھی رئیس المنافقین ہی رہتا ہے ۔ منافق انسان کے لیے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ہاتھ اٹھا کر مغفرت کی دعا کریں تو بھی انسان رئیس المنافقین ہی رہتا ہے ۔ کوشش کیجئے کہ آپ جیسے ہیں ۔ ویسے ہی اللہ کی مخلوق کو نظر آئیں ۔

ضروری نہیں کہ اگر آپ منافق نہیں ہیں تو پھر منافقین کو اپنے دل میں ، یا اپنی زندگی میں ، یا اپنے آس پاس کہیں جگہ دیں۔ کیونکہ اگر منافقین کو اتنی ہی اہمیت دینی ہوتی تو پھر یہ لوگ مسجد نبوی سے کیوں نکالے جاتے ؟ کیوں ان کا نام لے لے کر انہیں رسوا کیا جاتا ؟ اگر آپ منافق نہیں ہیں تو پھر بھی آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنی زندگی میں آنے والے منافقین کو چن چن کر اپنی زندگی سے نکال دیں ۔ یہی اسلامی طرز عمل ہے اور اسی کے عمل کا ہمیں حکم ہے ۔ یہ منافقین جب تک ہمارے اردگرد یا ہماری زندگی میں یا ہمارے دل میں موجود رہیں گے ۔ وہ ہمیں ایسے ہی بے وقوف سمجھ کر استعمال کرتے رہیں گے ۔ ایسے ہی ہمارے ساتھ شاطرانہ طرز عمل اختیار کرتے رہیں گے ۔ اور ہماری زندگی کو تکلیف دہ بناتے رہیں گے ۔

اپنے خلوص کو منافقین کی نظر مت ہونے دیں ۔ یقینا کچھ باتوں کی وقتی طور پر تکلیف ہوگی ۔لیکن یہ تکلیف محض وقتی ثابت ہوگی ۔ اللہ تعالی جب کوئی ایک چیز لے لیتا ہے تو بدلے میں ہمیشہ اس سے بہتر ہی عطا کرتا ہے ۔ اس لئے اپنے رب پر بھروسہ کیجیئے ۔ جلد از جلد ان منافقین کو اپنے دل اور اپنی زندگی سے نکال دیجئے ۔ یقینا اس سے آپ کی زندگی میں بہت سی خوشیاں ، امن اور سکون آئے گا ۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں منافقت کی ہر قسم سے اور ہر قسم کے منافق سے محفوظ رکھے ۔ آمین

Leave a Reply