لال بادشاہ کا برگد: رائے عمران جاذب

فقیر کے آستانے کا عمر رسیدہ برگد خود پہ صدیوں کے شب و روز گزار چکا ہے۔راوی کہتا ہے کہ فقیر کا ڈیرہ آباد ہونے سے پہلے گوگیرہ خاص نامی قدیم قصبہ راوی کے مضافات میں واقع تھا لیکن جب فقیر کا ڈیرہ آباد ہوا تو راوی گوگیرہ کے مضافات میں شامل ہو گیا۔

فقیر کے مرقد پہ جلتے دیوں کی ٹمٹماتی ملجگی روشنی میں بوڑھا برگد زمانے گزار چکا۔ اس نے قدم قدم چلتے ہوئے بچوں کو اپنے تنے کے ساتھ چمٹے کلکاریاں مارتے اور پھر انہی کے سالخوردہ بوڑھے جسموں کو فقیر کی درگاہ سے متصل قبرستان میں گور اندر اترتے دیکھا ہے۔ عرس کے موقع پر درگاہ پہ ڈھول کی تھاپ پہ دھمال ڈالنے والے بدلتے رہے لیکن ڈھول کی تھاپ اور دھمال آج بھی وہی ہے اور وہیں ہے۔

اس چھتنار برگد پر کبھی پنچھیوں کا ایک جہان آباد تھا مگر عرصہ ہوا کہ وہ پکھیرو کہیں ھجرت کر گئے ۔۔۔ پتہ نہیں کہاں چلے گئے ۔۔
اور نہیں معلوم اب ڈھول اور دھمال لال بادشاہ کے برگد کا ساتھ کب تک نبھاتے ہیں۔

Leave a Reply