کتب بینی/ سوال یہ ہے:عمران جازب

یہ سفر نوے سے شروع ہوتا ہے جب کچہری بازار ( المعروف مچھی بازار) اوکاڑہ کے گول چوک والے کارنر پہ کتابوں کی ایک بڑی دکان مقدر بک ڈپو/الکریم نیوز ایجنسی کے نام سے ہوتی تھی۔ جب میں چوتھی ، پانچویں جماعت میں تھا۔

تو اوکاڑہ شہر کے ہر چکر پہ اس دکان کا دورہ لازمی ہوتا تھا کیونکہ کپڑے جوتی ، کھلونوں سے زیادہ میرے لیے بچوں کی دنیا، بچوں کا ڈائجسٹ ، آنکھ مچولی، تعلیم و تربیت ، پھول ، نونہال پرکشش تھے۔

کچھ سال بعد تعلیمی اور شعوری ارتقا کے ساتھ یہ کشش سسپینس، جاسوسی ڈائجسٹ، سب رنگ اور سرگزشت میں بدل گئی اور کچہری بازار کے کارنر والی بڑی دکان بھی بازار کے درمیان میں ایک نسبتاً چھوٹی دکان میں بدل گئی۔

اس چھوٹی دکان میں ڈائجسٹوں کی جگہ مستنصر تارڑ ، اشفاق احمد، ابدال بیلا ، ممتاز مفتی ،شورش کاشمیری جیسے ،،بڑوں،، کی بڑی کتابیں مرکزِ نگاہ اور محورِ مطالعہ ٹھہریں ماہ و سِن گزرتے رہے یہ سلسلہ یونہی رواں رہا ۔۔۔

یہ ٹھیک کوئی دو سال پہلے کی بات جب اس قدیم بک شاپ کی جگہ جوتوں نے لے لی اور کتابیں جوتوں کے شوکیسوں کے نیچے فٹ پاتھ پہ پڑی ایک ریڑھی میں سما گئیں۔

ایم۔یسٰین بھائی جو کتابوں رسالوں کے حوالے سے میرے بچپن کے سنگی ہیں،جس نے بتایا کہ خریدار کم ہو گئے ہیں۔ دکان کا کرایہ بڑھ گیا ہے۔مجھے کتابوں کے علاوہ کچھ اور بیچنے کا تجربہ نہیں لہذا اس سٹال پہ کتابیں رسالے رکھ کے کھڑا ہوں کہ۔۔کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے۔

سوال یہ ہے ،،کتابوں،، نے کیا دیا مجھ کو

ہمارا حال یہ ہے کہ اوکاڑہ جیسے شہر میں کتابوں کی دکان ڈھونڈے نہیں ملتی (نصابی کتب کے علاوہ) جبکہ برگر ، شوارما اور پیزا آپکی دہلیز پہ ایک فون کال پہ پانچ منٹ میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ دن آیا کہ جو ایک ادھ کتب کی دکان بقایا بچ گئی ہے۔ اس کے ماتھے پہ بھی ،،فینسی کُھسہ ہاؤس،، یا ،،یم یم شوارما،، لکھا نظر آئے۔خیر کوئی مسلہ نہیں پیٹ کی خواہش شوارما ہے پوری کریں دل دماغ کا اللہ وارث ہے۔

Leave a Reply