کانٹوں کی سیج: قاسم علی

دوستو ایک مشہور معقولہ ہے کہ زندگی کانٹوں کی سیج ہے،یہ ضرب المثل اب نئی بننے والی حکومت کے وزیراعظم میاں شہباز شریف پر پوری اترتی ہے،ہم نے جب نوے کی دہائی میں ہوش سنبھالا تو نون لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست پورے عروج پر تھی۔

ن لیگ کا بیانیہ یہ ہوتا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کو دو ٹکڑے کر دیا اور ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے اس دور میں آصف علی زرداری صاحب مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے مشہور تھے۔

جبکہ پیپلزپارٹی کا بیانیہ تھا کہ نون لیگ کی جماعت ڈکٹیٹر ضیاءالحق کی گود میں پلنے والی جماعت ہے جس نے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا نے میں بہت اہم کردار ادا کیا، موجودہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف صاحب تویہ کہا کرتے تھے کہ میں زرداری کا پیٹ پھاڑ کر ملک کی لوٹی ہوئی دولت نکالوں گا اور اس کو لاڑکانہ کراچی لاہور اور اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔

پھر وقت بدلہ اور دونوں پارٹیوں کی حکومتوں کی باری ختم ہوئی اور پہلی دفعہ کسی تیسری جماعت پاکستان تحریک انصاف کی 2018 کے الیکشن میں حکومت قائم ہوئی۔اقتدار کے نشے نے درجن بھر جماعتوں کو اکٹھا ہونے پر مجبور کر دیا، اور بیرونی قوتوں کا سہارا لیتے ہوئے عمران خان کی حکومت کو ختم کر دیا۔

اب جب کھانے کی باری آئی ہے تو ان کے درمیانی اختلافات کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں پیپلزپارٹی نے حسب روایت نون لیگ کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا ہے اور چاروں صوبوں کی گورنر شپ مانگ لی ہے نہ صرف یہ بلکہ صدر پاکستان کے لیے تو آصف علی زرداری نے اپنے آپ کو پیش کردیا ہے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان صاحب اپنی آنکھوں میں صدر پاکستان بننے کے خواب سجا کر بیٹھے ہیں، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتیں بھی زیادہ سے زیادہ وزارتیں لینے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

میاں شہباز شریف صاحب کے لیے یہ وزارت عظمی کانٹوں کی سیج سے کم نہیں ہے ہے، عمران خان کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کے باعث اس حکومت پر مزید دباؤ بڑھتا جا رہا ہے ہے اس ساری افرا تفریح کا واحد حل جلد سے جلد جنرل انتخابات ہی ہے۔

وزیر اعظم میاں شہباز شریف، اسٹیبلشمنٹ اور دیگر اہم اداروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس ساری افراتفری سے سے پاکستان کو نکالیں اور وسیع تر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں جلد از جلد انتخابات کروائیں۔

Leave a Reply