میری ڈائری کا ورق: عافیہ رائے

جلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سے
تیری تاریک راہوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا؛
اقبال رح

اقبال کے افکار ، اقبال کا سخن محض شعر و شاعری کی حد تک مقید نہیں، اقبال کا سخن درس انسانیت ہے، ایک ضابطہ حیات ہے ۔ان کا سخن تاریک دلوں کو جلا بخشنے کیلئے اکسیر ہے، وہ دل جو صرف اپنی زندگی جیتے ہیں۔

اگر اقبال کے فلسفہ حیات کو جانیں تو یہ زندگی محض زندگی صبح ، شام کرنے کا نام نہیں زندگی وہی امر ہوتی ہے جو دوسروں کی زندگیوں سے تاریکیاں دور کر تی ہے۔ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں روشن راہوں پر کھینچ لاتے ہیں۔

اقبال کے فلسفہ حیات کی جیتی جاگتی تصویریں تھیں ایدھی مرحوم اور بلقیس ایدھی مرحوم و مغفور جن کی حیات کا نصب العین تھا لاوارث اور مجبور زندگیوں کے انھیروں کو اپنی خدمت، لگن اور احساس انسانیت کی روشنی سے دور کرنا۔

28 سالہ رابعہ نورین جسے ایدھی کے جھولے میں چھوڑ دیا گیا اور بلقیس ایدھی کو ملنے والی اس بچی کی زندگی میں محبت اور احساس کا چراغ روشن کیا اس درویش صفت عورت نےبلقیس ایدھی نے اس بچی کو اپنی والدہ کا نام دیا ، اپنی مامتا دی اور محبت کا احساس دیا۔

اور آج رابعہ نورین دنیا کی سب سے بڑی جوتوں کی کمپنی” نائکی” میں اعلی عہدیدار ہے اور اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کے وقار میں اضافہ کا باعث بنی، بلقیس ایدھی مرحوم کی محبت کو رابعہ نے زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے اور
بیگم بلقیس کے انتقال پر اپنے پیغام میں رابعہ نوریں نے اپنی اس کامیاب زندگی کا سر چشمہ اپنی بڑی اماں(بلقیس ایدھی مرحوم) کو ٹھہرایا ہے ۔

فرشتے سے بڑھ کر ہے انساں بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ ؛
حآلی

Leave a Reply