زنداں: آفاق حنیف

لمحوں میں قید دل ناکام حسرتوں کی چاہ لیے اپنی ذرا سی حرکت کو آزادی سمجھنے لگتا ہے اور پھر نادانیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے، جس کا انجام اُس قیدی سا ہے جو صرف اتنا آزاد ہے کہ زنداں کی دیواروں پر اپنی جبیں کے بہتے ہوئے لہو سے اپنی بے بسی کا نوحہ لکھ سکے، اور دیوار کے کسی کونے پر اپنے خوابوں کی نقش طرازی کر سکے۔

   مگر یہ کیا میں تو یہ تک نہیں کر سکتا؛کیونکہ میرے خواب زنداں کی دیواروں سے کہیں بڑے ہیں۔سمجھنے کی کوشش کرو، میرے بدن میں لہو کی صرف ایک بوند باقی ہے، جس سے کوئی تصویر نہیں بنائی جا سکتی ۔

   ہاں مگر ایک آنکھ بنائی جا سکتی ہے ۔جو اس جسم کے فنا ہونے کے بعد میری روح کو ان دیواروں سے ٹکراتا ہوا دیکھ سکے، میرے لہو سے لکھا ہوا نوحہ پڑھ سکے اور میری باتوں کی تصدیق کر سکے، جو میں نے دلِ ناداں سے کہیں، کہ تم صرف اتنے آزاد ہو کہ اِن دیواروں پر سر پٹک سکو، ایک نوحہ لکھ سکو ۔۔۔۔اپنی بے بسی کا نوحہ۔ اور لہو کی آخری بوند سے ایک آنکھ بنا سکو، جو اپنی حدوں کی زد میں ہو، جو اپنے زنداں میں مقید مگر تمہاری حقیقت کو خوب دیکھتی ہے۔

کہ تم آزاد نہیں ہو، یہ زنداں ہی حقیقت ہے۔ مگر کہہ نہیں سکتی وہ یہ سچ چیخ چیخ کر بتانا چاہتی ہے ۔مگر نہیں بتا سکتی کیوں کہ وہ خود آزاد نہیں وہ خود کسی قید میں سب اپنی اپنی قید میں ہیں پھر بھی نہ جانے کیوں سب کو سبھی سے خطرہ ہے ۔
 
آنکھ سے؟ 
آنکھ سے کیسا خطرہ، وہ تو صرف دیکھ سکتی ہے ۔
اُس میں زباں نہیں ۔
ہاں ہاں یہ سچ ہے مگر 
مگر؟
مگر آنکھ سے خطرہ ہے ۔
کسے؟ 
اُس یزداں کو جس نے یہ نظامِ زنداں ترتیب دیا ۔
کیسے؟ 

کیوں کہ کچھ شرپسندوں نے اپنے اظہارِ فن سے ایسی آنکھیں بنا ڈالی ہیں جو اپنے زنداں سمیت دوسروں کے زنداں میں بھی جھانک سکتی ہیں ۔
اور اب ان شرپسندوں کے لہو سے بنی آنکھیں خدا کے زنداں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

خدا کو خطرہ آنکھوں سے ہے اور مجھے خدا سے۔
خدا سے؟ خدا سے کیسا خطرہ ۔
بس یہی کہ کہیں وہ انسانوں سے لہو کی آخری بوند سلب نہ کر لے ۔
اگر ایسا ہوا تو مجھے، وہ آنکھ۔۔۔۔
میرے بعد میری روح کی ساتھی 
خدا کے حکم پر قربان کرنا ہوگی ۔اور اس قربانی کے بعد میں پھر سے اپنے زنداں میں تنہا رہ جاؤں گا ۔ جو یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ آزاد نہیں ۔

Leave a Reply