میری ڈائری کا ورق : عافیہ رائے

مسجد دی نہ ، مندر دی
ساری گل ہے تیرے اندر دی

دیکھنے میں آتا ہے کہ معاشرے میں اپنا مقام اور اپنی شخصیت کی پہچان کیلئے ہماری تمام تر تگو دو اپنا کردار بنانے کے حوالے سے ہوتی ہے، ہم اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتے ہیں۔

تعلیم پر اپنے رہن سہن ، چال چلن اور مناسب اطوار پر تاکہ معاشرہ ہم سے متاثر ہو اور اس سب میں خود کو دیندار ، متقی اور پرہیزگار دکھانا سب سےاہم ترین پہلو ہے۔

ان سب لبادوں کو اوڑھ کر ہم معاشرے میں اپنا مقام تو بنا لیتے ہیں، اپنی اعلیٰ تعلیم ، خوش گفتاری، شخصیت کی نفاست یہ سب اپنی حیثیت کو منوانے میں آذمودہ نسخہ تو ہے

اور سونے پر سہاگہ ہماری عبادت، خدا ترسی اور چند ایک مواقع پر مستحقین پر آٹے میں سے نمک کے برابر خرچ کر کے ہم دنیا داری کے پوزیشن بیچ تو امتیازی حثیت حاصل کر لیتے ہیں۔

لیکن ہمارے اندر کا انسان زندہ ہے! کیا ہمارے اندر انسانیت سانس لے رہی ہے کہ مردہ ہوچکی یا ہماری شیطانیت اس کو سسکنے پر مجبور کئے ہوئے ہیں ؟

ہم اپنی موٹی موٹی کتابوں کے حوالے دے کر، اپنی گفتگو کو محض پڑھ کر شیلف پر سجا دینے والی کتابوں میں لکھی جانے والی تحریروں کے حوالے دے کر، اپنی تعلیم ڈگریوں کی دھاک بٹھا کر معاشرے میں خود کو بہت بہتر انسان ثابت کرنے کی تگ و دو میں جس منافقت، عیاری اور مکاری سے کام لے رہے ہوتے ہیں۔

ہماری اس شیطانیت پر تو عزازیل بھی انگشت بدنداں رہ جاتے ہوں گے۔کاش کہ لحظہ بھر کو ہم یہ حقیقت تہہ دل سے تسلیم کر لیں کہ یہ دنیاوی کام محض دنیا میں ہی رہ جانے ہیں اور انکا فائدہ آپ کی ذات کو بھی تبھی پہنچ سکتا ہے۔

جب آپ اپنی اخلاقی کمزوریوں ، منافقتوں اور مکاریوں کو بروئے کار لائے بغیر ان پر قابو پاکر ختم کر لیں یا کم از کم دنیا کو اس مغالطے میں نہ رکھیں کہ آپ ایک اعلی ظرف نفیس شخصیت اور اعلی کردار رکھتے ہیں۔ یہ دکھاوا بھی محض دوسروں کی کم علمی یا آپ کو جان نہ پانے تک کا بھرم ہے۔

خود سوچئے اور غور فرمائیے کہ تمام وقت جو آپ نے منافقانہ رویئوں میں گزارا لمحہ بھر میں اس گھڑی میں بدل جائے کہ کوئی آپ کی اصلیت جان چکے۔

تو یہ دبیز کتب کے الفاظ ، یہ کاغذ کی ڈگریوں کے ڈھیر جن کے سنگھاسن پر بیٹھ کر انسانیت کا دیوتا بنے ہوئے ہیں پاش پاش ہو جائے گا !!

Leave a Reply