جمہوریت کی بے توقیری : امجد طفیل بھٹی

یُوں تو ہم ہر دور میں یہ سُنتے آئے ہیں کہ پاکستان اس وقت شدید معاشی، سیاسی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہے مگر آج تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ واقعی اس وقت تو یہ بات دو سو فیصد درست ہے کہ پاکستان دو راہے پر کھڑا ہے اور ہمارے ارباب اختیار کو سمجھ نہیں لگ رہی کہ کون سی راہ اختیار کی جائے۔

ویسے تو پاکستان نے اپنی پچھتر سالہ زندگی میں طرح طرح کے نظام حکومت دیکھے ہیں، عوام نے مارشل لاء بھی برداشت کیے، جمہوریت بھی برداشت کی ، فوجی آمروں کے نیچے جمہوریت بھی برداشت کی، جمہوریت نما آمریت اور آمریت نما جمہوریت بھی برداشت کی مگر عوام کی مشکلات ہیں کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ کبھی کوئی نعرہ دے دیا گیا تو کبھی کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کسی کو معلوم ہی نہیں کہ ملک میں جمہوری حکومت قائم ہے یا پھر جمہوریت کو صرف مذاق بنا دیا گیا ہے۔ مہذب جمہوری معاشروں میں عوامی نمائندے اپنی وفاداری تبدیل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے جبکہ پاکستان میں سیاستدانوں نے سیاست کو کاروبار سمجھ رکھا ہے، جہاں پر ذاتی مفاد نظر آیا ادھر ہی ہاتھ ملا لیا۔

اس سے نہ صرف جمہوریت کمزور ہوئی بلکہ عوام کا جمہوریت پر سے اعتماد ہی اٹھ چکا ہے ۔ کیونکہ انکے منتخب نمائندے کسی پارٹی سے منتخب ہوتے ہیں جبکہ اسمبلی میں پہنچ کر اپنی مخالف پارٹی میں شامل ہو کر عوام کے ووٹ کی بے توقیری کرتے ہیں۔

جب جمہوری حکومتیں ہی مانگے تانگے کے اراکین اسمبلی کے بل بوتے پر وجود میں آئیں گی انکی اخلاقی قدر کیا ہو گی ؟ کیا جو اراکین اسمبلی آج ایک جماعت کے ساتھ ہیں وہ کل کسی اوعمر جماعت کے ساتھ نہیں مل سکتے ؟ کیا وہ اراکین اسمبلی جو خرید کر اپنے حق میں استعمال کیے گیے وہ کل کو کسی اور کے ہاتھوں نہیں بِک سکتے ؟

سپریم کورٹ نے منحرف اراکین اسمبلی کے بارے میں اپنی رائے دے دی ہے کہ انکا ووٹ اپنی جماعت کے علاوہ کہیں اور نہیں گنا جائے گا لہٰذا منحرف اراکین اسمبلی کا اسمبلی میں رہنے کا اخلاقی جواز ختم ہو چکا ہے۔

پاکستان میں ہمیشہ سے طاقتور حلقوں کی کوشش رہی ہے کہ کمزور سے کمزور جمہوری حکومتیں ہی بنیں تاکہ انہیں ہر فیصلے میں مشکل صورتحال کا سامنا ہو اور وہ دوسرے اداروں کی جانب دیکھیں ۔ اس وقت پاکستان کے لیے فیصلہ کن وقت ہے کہ آزمائے ہوئے اتحادی امریکہ کو پھر سے آنا ہے یا پھر روس اور چین کی دوستی کا امتحان لینا ہے۔

اُدھر امریکہ بھی کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان میں کوئی طاقتور اور خود مختیار حکمران آئے کیونکہ اس طرح خطے میں اسکی اجارہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ آج پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور معاشی پالیسی میں آزاد نہیں ہے کیونکہ بین الاقوامی ادارے اور جو ممالک قرضہ دیتے ہیں وہ اپنی پالیسیاں نافذ کرواتے ہیں نہیں تو دیوالیہ کرنے کی دھمکی لگاتے ہیں جو کہ کسی بھی آزاد ملک کے لیے نا قابل قبول ہے۔

پاکستان میں عوام کی جانب سے شروع سے ہی امریکہ کو اپنا دشمن تصور کیا جاتا رہا ہے مگر حکمران طبقہ اور صاحب اختیار ہمیشہ سے عوام کی رائے کے خلاف چلتے ہوئے امریکی پالیسیوں پر پاکستان کو چلاتے آئے ہیں ۔

آج عوام میں شدید بے چینی ہے کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہے ؟ ہمارے ریاستی ادارے کیا سوچ رہے ہیں ؟ ہمارے سیاستدانوں کے پاس ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کا کوئی لائحہ عمل بھی ہے یا پھر یونہی آپس کی سیاسی لڑائیوں میں وقت گزارنا ہے ؟

حکومت بدلنے پر عوام کو امید ہوتی ہے کہ شاید اب کی بار عوام کے مسائل کو ٹھوس بنیادوں پر حل کیا جائے گا مگر ہر بار ذاتی مفادات کے حصول اور مفادات کے تحفظ کے سوا حکمران کچھ نہیں کرتے اور نتیجتاً عوام کا جمہوری نظام پر سے یقین ہی اٹھتا چلا جا رہا ہے، اسی لیے کہیں سے صدارتی نظام کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو کہیں سے مارشل لاء کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

Leave a Reply