سری نگر کی”ماہ پارہ” کا اہلِ دنیا کے نام ایک خط : عمران جاذب ایڈووکیٹ

میرا نام ماہ پارہ نقاش ہے میں آج سے بارہ سال پہلے کشمیر نامی وادی کے شہر سری نگر کے علاقہ لال چوک کے ایک گھر میں پیدا ہوئی، میں،،سرکار،، کے ایک سکول میں ساتویں کلاس کی طالبہ ہوں، میرے بابا ڈل جھیل کے کنارے واقع ایک ہوٹل پہ گارڈ کی نوکری کرتےتھے ۔

میری اماں ایک گھریلو خاتون ہیں جو ہم تین بہن بھائیوں کی اب نہ صرف پرورش کی اکیلی ذمہ دار ہیں بلکہ اب گھر کی اور ہماری گارڈ اور محافظ بھی اکیلی وہی ہیں۔کیونکہ بابا کو ایک سال پہلے کرفیو کی خلاف ورزی کے بہانے اکٹھی نو گولیاں مار دی گئیں اور بابا گولیوں سمیت قبر میں لیٹے ہیں۔

میرے بابا شہید ہونے سے پہلے چھ ماہ سے مجھے خود سکول چھوڑنے جاتےتھے کیونکہ یہ حبسِ بے جا جسے آپ لوگ لاک ڈاؤن کہتے ہیں، سے سات ماہ پہلے جنوری 2019 کی ایک یخ اور دھندلی سہ پہر کو جب میں اپنی ہمجولیوں کے ہمراہ سکول سے واپس آ رہی تھی۔

کسی قابض فوجی کی پیلٹ گن سے نکلے ایک چَھرے نے میری آنکھوں کو دھندلا دیا تھا پورا ایک مہینہ میں اور میری داہنی آنکھ اسی خوش فہمی میں رہے کہ جب آنکھ سے سفید پٹی اترے گی تو میری آنکھ کا نور باہر کے منظر سے دیوانہ وار ملاقات کرےگا لیکن جب سفید پٹی اتری تو پتہ چلا کہ اب سیاہی اور تاریکی میری دائیں والی آنکھ کا ہمیشہ کا مقدر ہے۔

جس کے بعد پورے چھ ماہ میرے بابا مجھے رستے کی ٹھوکروں سے بچانے کی خاطر خود سکول چھوڑنے جاتے اور خود واپس لے آتے یہاں تک کہ وہ خود پوری نو مشین گن کی گولیوں کی ٹھوکر کی زد میں آگئے۔

آپ لوگ اپنے گھر کی عافیت میں بستروں پہ نیم دراز ٹی وی کی سکرین پہ شاید کبھی سری نگر،بارہ مولا یا پلوامہ کے سنسان بازاروں اور بند دکانوں مکانوں کو دیکھتے ہوں گے اور ان آسیب زدہ سے بازاروں میں اگر کوئی زی روح نظر آتا بھی ہوگا تو وہ بھارت کا بندوق بردار فوجی یا پھر کوئی آوارہ کتا۔۔

آپ نے سنسان بازار اور مکانوں کے بند کواڑ دیکھے ہیں ان بند کواڑوں کے پیچھے ان قیدی روحوں کو نہیں دیکھا جن کے اجسام کے بعد ان کی روحوں اور ازہان کو بھی ایک کالے کڑوے قانون کے زریعے اسیر کرنے کی کوشش کی گئی۔

اور ان بند مکانوں میں بھوک سے بلکتے بچوں کے لاچار ماں باپ چوبیس گھنٹے اسی گھڑی کے آنے کی گھڑیاں گنتے رہتے ہیں جب زرا سا لاک ڈاون کا آسیب ٹلے اور وہ بچوں کی بھوک مٹانے کو کچھ لائیں۔

آپ آزاد لوگوں نے شاید ہی کبھی ان بے بس بیماروں کا تصور کیا ہو جن کی مسیحائی کرنے والے اب خود کسی مسیحائی کے منتظر ہیں،میرے گھر کا میرے شہر کا بلکہ میری پوری وادی کا مواصلاتی نظام چودہ ماہ سے بندہے۔

لیکن میں نے اور میری اماں نے اڑتی اڑتی خبر سنی تھی کہ تین چار ماہ پہلے کسی انجان ان دیکھے سے وائرس نے آپ سب کو بھی لاک ڈاؤن کر دیا تھا اور آپ آزاد دنیا کے لوگ اس حد تک خوفزدہ تھے کہ ایک دوجے سے ہاتھ ملانے کو بھی آفت قرار دے دیا گیا تھا ۔

ایک وائرس جو پچھلے تہتر برس سے میرے لوگوں اور میری وادی پہ حملہ آور ہے اب اس کے تدارک کا بھی شاید آپکو خیال آ جائے شاید۔۔شاید
آپ لوگوں تک ہمارے خوبصورت جوانوں کے کٹتے پھٹتے جسموں کے خون کے چھینٹے تو نہیں پہنچ سکے اور نہ ہی جوان لاشوں سے لپٹی ماؤں کے بین آپ سن سکے نہ ہی میری اور مجھ جیسے کئی معصوم پھولوں کی آنکھوں کی مرجھائی پنکھڑیاں کبھی آپکو نظر آئیں۔

ہمارے سروں کی فصل پکنے سے پہلے ہی کٹتی رہی لیکن آپ کو دنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ سے تجارت کی پڑی رہی، ہماری مسجدوں کو جلایا گیا ہمارے محرم اور میلاد کے جلوسوں پہ بم گرائے گئے لیکن ہمارے پاسبانانِ حرم اس غاصب کو بلا بلا کر تمغے پہناتے رہے اور اعزازوں سے نوازتے رہے۔

آپ کو ہمارا بہتا خون نظر نہ آیا نہ سہی ہماری آنکھوں میں منجمد آنسوؤں کو ہی دیکھ لیں۔آپ ہماری آہ وبکا ہماری چینخیں نہ سن سکے اب ہماری حشر اٹھاتی خاموشی پہ ہی لبیک کہہ دیں،میری اماں نہیں چاہتی کہ میرے دونوں چھوٹے بھائیوں کے ہاتھ میں آٹھ دس سال بعد قلم کی بجائے بندوق ہو جس طرح آپ سب کی آنکھوں میں اپنے بچوں کے بارے سنہرے خواب ہیں۔

ہماری ماؤں کی آنکھوں میں بھی سنہرے نہ سہی لیکن خواب ضرور ہیں،میری جنت نشان وادی کی پانچ نسلوں کے خواب اجاڑ دیے گئے لیکن خدارا اس نسل کے خواب نہ اجڑنے دیں اس غارت گر خواب شکن کے ہاتھ کو خدارا روک دیں جو کہ آپ روک سکتے ہیں یہ آپ آزاد دنیا کے باسیوں پہ ہمارا قرض ہے اور قرض چکانے کا مطالبہ کرنا ہمارا حق ہے ۔۔

فقط
کشمیر کی ایک محبوس بیٹی
” ماہ پارہ”

Leave a Reply