میں پاکستان ہوں: محمد زبیر مظہر پنوار

میرے آباؤ اجداد کا تعلق پاکستان کی محسن اور ملک میں شامل ہونے والی پہلی ریاست ( بہاول پور ) سے تھا، لیکن میں پاکستانی پیدا ہوا، مجھے میرے ملک نے ہی پالا ہے۔

لیکن دوسری طرف ریاست نے میرے پیٹ پہ خنجر سے اتنے وار کیے کہ زخم ہیں جو بھرنے کو نہ آسکے ہیں، ہر روز نیا گھاؤ، نہ تعلیم و تربیت، نہ کوئی اصول نہ قانون اور نہ کوئی حقوق، اوپر سے شعور و آگہی یا سوال کرنا فتنہ و انتشار کہلانے لگا، میری کردار کشی اور شناخت پہ سوال اٹھنے لگے، غدار ، ہلا ہوا، پاگل، کافر ، متعصب، بدتمیز و بدتہذیب اور انتہاء پسند مجھے تم نے پکارا، مجھے سند کی ضرورت تو نہیں اگرچے ہاں مگر سنو ، میرا ملک پاکستان سے رومان، کتابوں میں درج لیلی مجنوں کے ماورائی عشق کی داستان سے بھی آگے کا ہے۔

یہ پنجابی، سرائیکی، سندھی، پشتون, بلوچ, مہاجر, کشمیری, ہندکوہی، پوٹھوہاری، گلگتی بلتی اور کشمیری تم نے بنائے، نفرت و تعصب تم نے پھیلایا، جب کہ ہم آج بھی ایک دوسرے کا جھوٹا پانی پینے” پگڑیاں اور دوپٹے سانجھے رکھنے جیسی روایات اپنائے ہوئے ہیں۔

ہم مسجد مندر درگاہ امام بارگاہ کلیساء و گوردوارے کا احترام کرتے ہیں۔ ہم ساتھ ہنستے روتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے لیے جیتے مرتے ہیں۔ لیکن تم کیا ہو کچھ بھی تو نہیں۔ تمہارا وجود ہم سے ہے۔ اسی لیے تم کو بدلنا ہو گا اور ہم جیسا بننا ہو گا۔

ہاں تم مجھے خاموش کروانے کی طاقت رکھتے ہو۔ میری آواز دبانے کے ہنر سے خوب واقف ہو۔ لیکن سنو” کیا تم سچ میں نہیں جانتے کہ میری لکھتیں اور آواز سرحدوں اور سمندر پار جا پہنچی ہیں۔ تمہیں اب ادراک ہو جانا چاہیے کہ اب ایک نہیں بائیس کروڑ لوگ پنوار بن چکے ہیں۔

غضب کر رکھے جو تو نے حقوق ہمارے واپس کرو۔ ہماری تعلیم ہماری زمین ہماری شناخت ہماری خوشیاں ہماری آزادی اور ہمارے جینے کا احساس واپس کرو۔ سنو” اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔ ہوش کے ناخن لو۔ انسانوں کے اس پاک دیس میں، انساں بن کر رہو ۔

خیر اب تمہیں جو کہنا ہے؛ کہتے رہو مگر یہ بات اچھے سے یاد رکھنا۔
میں عوام ہوں اور میں ہی پاکستان ہوں ۔
پاکستان زندہ باد ۔

Leave a Reply