آفتاب اقبال اور عمران خان ایک مطالعہ:وقاص عزیز

دوستو ! اردو صحافت کی تاریخ میں دبنگ اور واضح رائے رکھنے والے صحافیوں نے آئندہ نسلوں کو تاریکی سے بچایا ہے۔میں اگر نام مرتب کرنے لگوں تو شاید کئی صفحات بھر جائیں اور اس سے بڑھ کر میں اپنے موضوع سے قاری کو ہٹا دوں۔

سئینیر اینکر،دانشور،ہشت پہلو شخصیت جناب آفتاب اقبال نے حال ہی میں سابق وزیر اعظم عمران خان صاحب کا انٹرویو کیا ہے، جو سوشل میڈیا اور چائے خانوں ،سیاسی تھڑوں میں شد و مد کے ساتھ زیربحث ہے۔

میں شاید اس حوالے سے قلم نہ اٹھاتا لیکن اک طویل عرصے کے بعد پاکستانی صحافت میں کسی انٹرویو نے اپنی دھاک بٹھائی ہے لہذا اس کا بطور طالب_علم اک جائزہ لینا بنتا ہے جو آپ کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

سب سے پہلے تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے آفتاب اقبال کی صحافیانہ شخصیت اس مناظرے میں کیسے کھل کر سامنے آئی عموماً یہ دیکھا جاتا ہے، کہ جب پاکستان میں جب سیاسی لیڈران کے انٹرویوز کئیے جاتے ہیں، تو سوالنامے پہلے سے مرتب ہوتے ہیں یا صحافی حضرات دبے دبے نظر آتے ہیں۔

آفتاب اقبال صاحب کے تمام سوال تعارف سے یعنی آغاز سے لے کر اختتام تک اک اک حرف فی البدیہہ تھا جس کی سب سے بڑی مثال تاریخی حوالہ جات کا دیا جانا ہے۔یہ ہم سب جانتے ہیں کہ عمران خان صاحب کی کرشماتی شخصیت کے سامنے بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔

مگر یہ آفتاب اقبال کا بے باکانہ صحافیانہ لہجہ تھا جس نے ان کے طرز حکومت سے لے کر اقتدار کے خاتمے تک تمام اچھے برے پہلووں پر خوشہ چینی کی مزید برآں اس میں خان صاحب کے تحمل کی بھی داد دینا بنتی ہے ( بہت سی جگہوں پر) جہاں مکمل بات کو سننے کے بعد وہ سیاسی فاش غلطیوں سے پہلو تہی کرنے کی بجائے ان پر بات کرتے نظر آئے

کچھ بونوں کو جب اس گفتگو میں سے “یاواگوئی” کرنے کو کچھ نہیں ملا تو انہوں نے اینکر کے بیٹھنے کے انداز سے لے کر سوالوں کو بریکٹ کرنا شروع کر دیا ہے تو صاحب اگر آپ نے تاریخ پڑھ رکھی ہو اور ایم آر ڈی کی تحریک،ایوب دور میں چلںے والی تحریک کا مطالعہ کیا ہو تو آپ کو معلوم ہو سکے گا کہ مادر وطن کا درد رکھنے والا صحافی “نڈر” ہو کر سامنے آتا ہے۔

اس کے لیئے شخصیت نہیں ملک اہم ہوتا ہے اور اس کے لئیے وہ کسی بھی خشک و تر سے گریز نہیں کرتا ہے،ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اردو صحافت کے “عہد آفتاب اقبال” میں سانس لے رہے ہیں۔ پاکستانی صحافت کے بیوست زدہ منظر نامے میں یہ انٹرویو تازہ ہوا کی حیثیت رکھتا ہے۔

لہذا اس انٹرویو کے پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ تو وقت بتائے گا لیکن عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی سیاست اگر آفتاب اقبال کے سوالوں اور اہم نکات کی روشنی میں اگر چلنے کی کوشش کرے تو آئندہ الیکشن میں واقعی ” نیا پاکستان” بن سکتا ہے۔

Leave a Reply