کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا۔تحریر ستار چوہدری

علی سدپارہ دوستوں سے یہ کہتے رہے اگر وہ پہاڑ سے واپس نہ آ سکے تو اسی پہاڑ کو کھود کر اس میں رہنا شروع کردینگے۔ کیاکوءی شخص ایسا بول سکتا ہے نہیں ۔۔۔۔۔ یہ وہی بول سکتا ہے جس کا روم روم عشق سے سر شار ہو، جسے صرف یہ پتا ہو کہ جو ہے یہی ہے، زندگی اگر کہیں ہے تو یہیں ہے۔ پہاڑوں پر جانا اور وہیں کا ہو جانا، یہ وہی شخص کر سکتا ہے جسے پہاڑوں سے بے پناہ محبت نہیں عشق ہو۔۔۔۔۔۔ عشق کیا ہے ؟ صاحب عشق تو سر مانگتا ہے۔ عشق تو صحراؤں میں پھراتا ہے،درگاہوں پر بٹھاتا ہے ،کچے گھڑے پر دریا پار کرواتا ہے،جگر کا گوشت کھلاتا ہے ۔۔۔ جو ہو سب چھین لیتا ہے۔ جب تک عشق میں سر نہ دو عشق کہاں ٹلتا ہے ۔۔ بس وہی ہوا۔۔علی کا پہاڑوں سے عشق،سر مانگ کر ہی رہا۔۔۔ اور علی امر ہوگیا۔تاریخ میں جب بھی پہاڑوں سے عشق کی بات چلے گی علی کا ہی نام آءے گا۔۔۔۔ لوگ جھوٹ بول رہے وہ مر گیا۔۔۔ایسے لوگ کب مرتے ہیں۔۔۔۔
کون کہتا ہے کہ موت آءی تو مر جاءوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاءوں گا
جب انہوں نے سرکش پہاڑ سر کرنے کا فیصلہ کیا تو لوگ تنقید کررہے تھے، کہہ رہے تھے، یہ پہاڑ نہیں،پہاڑوں کا بادشاہ ہے یہ تو معقول موسم میں بھی اپنی طرف بڑھنے والوں کو تگنی کا ناچ نچا دیتا ہے،اس کی طرف دیکھنے والی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اس کی طرف بڑھتے اناڑی قدم تو راستے میں ہی پست ہو کر واپس لوٹ جاتے ہیں ۔کے ٹو اتنا سر کش ہے کہ کسی سر کش کو ہی اپنی جانب بڑھنے دیتا ہے۔ باقی تو سب اس کے قدموں کی دھول تک ہی محدود رہتے ہیں علی سدپارہ ان سرکشوں میں سے ایک سر کش تھے جنہوں نے اس کی طرف پیش قدمی کی اور اس عظیم الشان پہاڑ نے کرنے بھی دی ۔۔۔۔۔ڈیتھ زون میں سب سے زیادہ وقت گزارنے کا ریکارڈ نیپال کے پیمبا گلجئین شرپا کے پاس ہے جو 2008 میں دو کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے 90 گھنٹے تک کے ٹو کے ڈیتھ زون میں رہے ۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ وہ دو کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے کیوں ڈیتھ زون میں واپس گئے اور کیوں 8000 میٹر سے زیادہ بلندی پر موت کی گھاٹی میں 90 گھنٹے کا وقت گزارا؟ان کا جواب تھا ” میں کے ٹو پر خوش قسمت تھا، آپ جانتے ہیں، میں خوش قسمت تھا” ۔۔۔۔۔۔۔علی کو تو کءی دن گزر چکے۔۔۔ بس پہاڑوں کا بیٹا،پہاڑوں میں کھو گیا۔

Leave a Reply