سفید ہاتھی جو میرے پیسوں پہ پل رہے ہیں: عمران جاذب ایڈووکیٹ

اگر معمولی سی تحقیق اور ذرا غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ پاکستان ان معدودے چند ممالک میں شامل ہے جہاں تمام امورِ زندگی کے متعلق قانون سازی legislations اور کاروبارِ ریاست و مملکت کو سرانجام دینے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پہ بلا مبالغہ سینکڑوں محکمہ جات موجود ہیں جن میں کچھ وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں میں اور باقی ضلع وتحصیل لیول پہ موجود ہیں۔
https://en.m.wikipedia.org/wiki/Category:Pakistan_federal_departments_and_agencies
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر قانون سازی اور countless departments & institutions کے ہونے کے باوجود نظامِ زندگی اور کاروبارِ ریاست بے ہنگم کیوں ہے ؟ آپ جونہی گھر سے باہر تشریف لے جاتے ہیں گلی بازار سڑک سے لے کر دکان ہسپتال اور دفتر تک نظام درہم مزاج برہم کی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔

میں معاشرتی جرائم یا لاقانونیت کی بات نہیں کر رہا یہ موضوع کسی اور دن پہ اٹھا رکھتے ہیں مجھے آج صرف یہ کہنا ہے کہ میرے ٹیکس کے پیسوں سے بننے والی ایک سڑک جب کسی جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے تو وہ ٹوٹ پھوٹ اول تو اس بات کی بیّن شہادت ہوتی ہے کہ اس سڑک کے لیے دیے گئے میری جیب سے پیسے سارے اس پہ خرچ نہیں کیے گئے وہ کہیں اور چلے گئے تھے۔

خیر کرپشن کو بھی آج کچھ دیر کے لیے بغلی الماری میں رکھ چھوڑتے ہیں،اب وہ سڑک جس پہ کھڈے ہیں ان کھڈوں کی مرمت کے لیے ذیلی فنڈ محکمہ شاہرات کے پاس ہر وقت موجود ہوتا ہے لیکن سالہا سال گزر جاتے ہیں ٹوٹ پھوٹ پورے روڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے تب جاکر نئے ٹینڈر نئے ٹھیکے منظور کروا کر عجب کرپشن کی غضب کہانی نئے سرے سے شروع کر دی جاتی ہے ۔

انہی شاہرات پہ چلنے والی ٹرانسپورٹ کو monitot کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کا vehicle inspection and certification system موجود ہے لیکن اسکے باوجود ہزاروں کی تعداد میں مکینیکلی اَن فِٹ گاڑیاں سڑکوں پہ رواں دواں ہیں اور روزانہ حادثات کا باعث بن رہی ہیں۔اوگرا کی طرف سے LPG سلینڈر پہ پابندی کے باوجود ہر شہر اور قصبے میں کھلے عام LPG بھرواتی گاڑیاں دوڑتی پھرتی ہیں۔
https://www.dawn.com/news/1498263#:~:text=Apart%20from%20ban%20on%20CNG,accordingly%20by%20law%20enforcement%20agencies%E2%80%9D
سڑک سے اب زرا بازار میں داخل ہوں تو ناجائز تجاوزات کا نظارہ سامنے ہے،میں دعویٰ سے یہ بات کہہ سکتاہوں کہ کسی ہوٹل یا فوڈ پوائنٹ کا کھانا اس سٹینڈرڈ کے مطابق نہیں جو pure food regulations کے مطابق ہو ملک کے تمام صوبوں میں فوڈ اتھارٹی کا محکمہ ہر ضلع میں موجود ہے جوکہ ایک طاقتور ادارہ تصور کیاجاتا ہے۔

لیکن بڑے بڑے ریسٹورینٹس ، سویٹ ہاؤسز وغیرہ کو اس محکمہ کی طرف سے ،،خصوصی،، استثنیٰ میسر ہے اس کا زور زیادہ سے زیادہ موٹر سائیکل پہ دودھ لے جانے والے گوالے یا سڑک کنارے پکوڑے تلنے والے پہ چلتا ہے۔

ایک اور قدیمی محکمہ ، محکمہ جنگلات جس کے نام سے تو بچہ بچہ آگاہ ہے لیکن اس سفید ہاتھی کا کام سوائے ڈی سی آفس، ڈی پی او آفس یا سیشن کورٹس وغیرہ میں مون سون کے دوران بڑے صاحب کے ہاتھوں رسمی شجرکاری یعنی ایک عدد پودا لگانے اور اسکے فوٹو سیشن کے سوا کچھ نہیں ۔

ٹمبر مافیا ملکی جنگلات کو جس طرح کھائے جارہا ہے وہ اگر میں اور آپ جانتے ہیں تو محکمہ جنگلات اس سے بے خبر کیسے ہو سکتا ہے۔
https://www.insight247.news/2020/07/destruction-of-forests-in-pakistan-and.html?m=1
اگر کوئی فرد واحد پودا لگاتا ہے تو وہ اسکی نگہداشت تب ہی کرسکتاہے کہ وہ گھر میں یا ایسی جگہ پہ لگائے جو اس کے زیرقبضہ ہو سڑکوں کے اطراف ، نہروں کے اطراف یا دیگر ایسی جگہوں پہ شجرکاری کیوں نہیں کی جاتی؟

کیونکہ ایسی جگہوں پہ محکمہ کے علاوہ عام آدمی پودا تو لگا سکتا ہے لیکن اسے پانی نہیں لگا سکتا لیکن محکمہ جنگلات یہ کام کر سکتا ہے جو اسے کرنا چاہیے اگر محکمہ جنگلات اپنی زمہ داری پوری کرلے تو کسی وزیراعظم کو بلین ٹری پروجیکٹ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اس ضمن میں مزید زمہ داری ،،محکمہ تحفظ ماحولیات،، کو تفویض کی جائے ،محکمہ تحفظ ماحولیات کے تو شاید نام سے بھی اکثر لوگ ناواقف ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے یہ محکمہ کام کس حد تک کر رہا ہے۔

محکمہ ماحولیات کو اگر محکمہ جنگلات میں ضم کر دیا جائے تو الگ سے ایک سفید ہاتھی پالنے کے اخراجات کم کیا جاسکتے ہیں اسی طرح ،،سول ڈیفینس ڈیپارٹمنٹ،، کے تحت فائر برگیڈ اور محکمہ زراعت میں ،،محکمہ آبپاشی ،، کو ضم کردیا جائے تو نہ صرف عوام الناس کے لیے سہولت پیدا ہوسکتی ہے بلکہ ریاستی اخراجات میں بھی خاطرخواہ کمی لائی جاسکتی ہے۔

دیگر کئی ایسے محکمہ جات موجود ہیں جن کا کام ماہانہ تنخواہیں وصولنے کے سوا کچھ نہیں لیکن اس ملک کی بدقسمتی یہ رہی کہ اسے نہ تو مخلص قیادت میسر آسکی نہ مخلص افسر شاہی اور نہ مخلص قوم۔۔۔۔۔

Leave a Reply