بیٹی ایک رحمت.سید حسن شاہ

زمانہ جاہلیت کی بات ہے ، جہالت کا دور دورہ ہے ، لوگ لڑکی کی پیداٸش پر اس قدر شرمندہ ہوتے اسے اپنے لیے اس قدر باعث شرمندگی سمجھتے کہ بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے زمین میں زندہ درگور کر دیا کرتے تھے ۔ لڑکی کی پیداٸش پر لڑکی کا باپ منہ چھپاٸے پھرتا تھا ۔ بیٹی کی پیداٸش کو نحوست کا نام دیا جاتا تھا ۔ بیٹی کی پیداٸش پر ان لوگوں کا کیا حال ہوتا تھا قرآن نے اس حوالے سے واضح بیان کیا ہے ۔

اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی ( کی پیدائش) کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے۔ اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔ (سورۃ النحل:58)

اسلام کا بیٹی پر ہمیشہ یہ خاص احسان رہے گا کہ اسلام نے بیٹی کو اللہ پاک کی رحمت قرار دیا ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عملی ثبوت دے کر دنیا والوں کو دکھا دیا کہ بیٹی کو بوجھ سمجھنے والو بیٹیاں تو رحمت ہیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں تشریف لاتیں تو ہمارے پیارے نبی ﷺ ان کے لیے کھڑے ہوجاتے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دیتے ، اور اس طرح نبی کریم ﷺ نے دنیا والوں کو بتایا کہ بیٹی کی عزت کرنا اس کی عزت بڑھانا بھی سنت ہے ۔ جبکہ بیٹیوں کی پیداٸش پر شکلیں بھگاڑے پھرنا ، یہ سب اہل کفار کا طریقہ ہے ۔
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز سے پرورش کرے(اور جب شادی کے قابل ہو جائیں تو ان کی شادی کردے) تو میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح داخل ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں ۔
(ترمذی، باب ماجاء فی النفقہ علی البنات

بیٹی ایک رحمت ہے ۔ اسی لیےتو بیٹی کی پرورش پر اللہ کے نبی ﷺ جنت کی ضمانت دے رہے ہیں ۔ جی ہاں بیٹی ایک رحمت ہے اسی لیے تو اللہ پاک جس انسان سے خوش ہوتا ہے اسے بیٹی سے نواز دیتا ہے تا کہ اللہ کا وہ بندہ بیٹی کی بہترین طریقے سے پرورش کر کے جنت کا حق دار ہو جاٸے ۔ جب اس شخص کے اعمال اسے جہنم کی طرف دھکیل رہے ہوں تو یہ بیٹی اپنے باپ اور جہنم کے درمیان آڑ بن جاٸے ۔

بیٹی ایک رحمت ہے تبھی تو اپنے ماں باپ کا ان کے بڑھاپے میں مضبوط سہارا بنتی ہیں ۔ جہاں بیٹے اپنے ماں باپ سے غافل ہوجاتے ہیں وہاں بیٹی آگے بڑھ کر ماں باپ کو سہارا دینا اپنا فرض اولین سمجھتی ہے ۔ دکھ درد کا مارا باپ جب چاروں طرف سے بے بسی کی تصویر بن جاٸے تب بیٹیاں ہی ہو تو اپنے باپ کے دکھ درد بانٹنے والیاں ہوتی ہیں ۔ ماں کی ہم راز ماں کا دکھ درد بانٹنے والی بیٹیاں رحمت ہی تو ہوتی ہیں ۔

بیٹے کی اہمیت اپنی جگہ ،بیٹوں کا پیار اپنی جگہ لیکن جانتے ہو بیٹی کو لوگ کبھی کبھی بیٹا کہہ کر بھی پکارتے ہیں ۔ جانتے ہو کیوں کیونکہ بیٹی ہی وہ واحد رشتہ ہے جو ضرورت پڑنے پر بیٹا بھی بن جاتی ہے ۔کمانے سے لے کر گھر چلانے تک،اپنے چھوٹے بہن بھاٸیوں کی فکر سے لے کر اپنے ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا بننے تک ، اپنی ذات سے لے کر اپنے ساتھ منسوب سبھی رشتوں تک بیٹی کو جب جہاں جدھر ضرورت پڑے وہ وہاں بیٹی نہی ںبیٹا بن کر دکھاتی ہے ۔
جانتے ہو بیٹی رحمت اور بیٹا نعمت کیوں ہے ۔ کیونکہ بیٹے ہم اللہ پاک سے رو رو کر ، گرگڑا کر مانگتے ہیں اس لیے وہ اللہ کی نعمت ہوتےہیں ۔جب کہ بیٹی ہمیں بن مانگے ،بغیر روٸے ،بغیر گرگڑاٸے عطا ہوتی ہے اس لیے بیٹی رب کی رحمت ہوتی ہے ۔

اللہ پاک سب کو بیٹی اور بیٹے جیسی نعمت سے نوازے ۔ ہمیں بیٹیوں کی عزت اور بہترین پرورش کرنے والی سنت پر عمل کی توفیق دے ۔ اللہ پاک سبھی بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے ۔ آمین

Leave a Reply