کیونکہ ہم دوست ہیں.تحریر: محمد عمر بھنڈر

ہمارے معاشرے میں جس پر ظلم ہوا ہے اس پر ہوئے ظلم پر بجائے مزاحمت یا مزمت کرنے کے یہ دیکھا جاتا ہے کہ مظلوم کا تعلق کس قوم سے ہے، فرقہ سے ہے مزہب سے ہے۔ معاشرے میں یہ سوچ ہر جگہ پائی جاتی ہے کہ مظلوم کا تعلق میرے فرقے یا قوم سے نہیں تو مجھے اس ظلم پر خاموش رہنا چاہیے۔ یہ سوچ ہمیشہ ہی ظالم کو مزید طاقتور بناتی آئی ہیں۔
اس سوچ کو پروان چڑھانے میں ہماری ترقی و خوشحالی کے دشمن کا ہاتھ ہے ۔ وہ کبھی بلوچستان میں بلوچ کا روپ دھار کر پنجابیوں سرائیکیوں کا خون بہاتا ہے اور بلوچ بھائیوں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے نفرت اور بدامنی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے ۔تو کبھی دشمن محافظ کے بھیس میں بلوچ بھائیوں کو لاپتا کر دیتا ہے۔بدنام وہ حقیقی محافظ ہوتے ہیں جو دل و جان سے ملک پاکستان کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں، اسی طرح مزہبی فرقوں میں آپس میں لڑوانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ گویا ہم سب کو لڑوانے کی کوشش ہر صورت کی جاتی رہی ہے اور جاری ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ دشمن آخر ہے کون ؟ میرے خیال سے دشمن کا پتا اس وقت چلے گا جب ہم سبھی فرقوں میں بٹے ہوئے، رنگ نسل و قوم میں بٹے ہوئے۔ مل کر ہمارے معاشرے میں موجود مظلوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں۔ دشمن کا پتا چل جائے گا کون ہے یہاں امن کا دشمن ، کون ہے یہاں خوشحالی کا دشمن ہے۔ کیونکہ دشمن یہ کبھی نہیں چاہے گا ہم سب اکھٹے ہو جائیں۔آج سے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ مظلوم کا فرقہ ہمارا فرقہ ۔
آئیے یہ عہد کریں دشمن کے عزائم خاک میں ملائیں گے۔ اس ملک پاکستان کو امن و سلامتی کا دیس بنائیں گے۔

Leave a Reply