کیا کسی سیاسی جیت میں عوام کے مسائل کا حل ہے؟ محمد راشد عمران

سیاسی اکھاڑے میں کشتی جاری ہے، اس باہم ہاتھا پائی کی بنیادی وجہ پہلوانوں کی ساکھ ہے۔ اس ساکھ کے لیئے ہر داؤ پیچ آزمایا جارہا ہے۔ اس لڑائی میں کوئی جیت بھی حتمی ثابت نہیں ہوتی مگر زور آزمائی جاری ہے۔ اس سارے تماشے میں جب دھول چھٹے گی تو پھر عام آدمی کی حالت واضح ہوگی۔ پھر پتہ چلے گا کہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی میں کوئی بہتری آئی ہے یا پھر ہلکارے، نعروں سے بیٹھا ہوا گلہ ہی بچا ہے، ان تالیوں میں کسی درد کا مداوا بھی ہے یا پھر محض اپنے ایک ہاتھ سے دورے ہاتھ کی پٹائی کرتے رہے۔

سیاسی منظر نامے جتنے قائدین ہیں وہ خود کو مہان بنائے بیٹھے ہیں۔مگر انکی اپنی ہی کہی ہوئی باتوں میں آپکو بے شمار تضادات نظر آئیں گے۔ عام آدمی کبھی مزہب کے نام پہ بیوقوف بنتا ہے، کبھی غیرت اور کبھی لفظ نظریئے پہ کہ جسکا عملی وجود کوئی نہیں مگر نظریہ دماغ میں بیٹھ گیا ہے اور بس اسے کے سامنے دوزانو ہیں۔ جزباتی استحصال کی یہ روش نئی نہیں بلکہ پاکستان بننے سے لیکر اب تک ہر نام نہاد قائد نے عوامی درد میں مبتلا ہونے کا اظہار کیا مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ پاکھنڈ تھا۔ لوگوں کی روزمرہ کی زندگی تنگ ہوتی گئی، ہر جگہ عام آدمی نے دھوکہ اور دھکا کھایا۔ اسکا علاج کیا ہے، اسکا علاج کوئی نہیں سوائے اسکے کہ سیاسی اشرافیہ اور افسر شاہی کے مکر کو سمجھا جائے۔ دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے رہنما پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں، وہ کیا نمائندگی کریں گے۔ وہ ہمیشہ اپنے طبقے کی عیاشیوں کے لیئے آئی ایم ایف سے جان لیوا معاملات طے کرتے رہیں گے۔ یہ قرض کسی صورت بھی اترنے والا نہیں بلکہ کسی نہ کسی وقت ریاست سمجھوتے کرکے اسکو معاف کروائے گی۔ نو آبادیاتی نظام میں غلامی کا یہی طریقہ رکھا گیا کہ ان پہ ہمیشہ ایسی اشرافیہ اور افسران مسلط کیئے گئے کہ جو عالمی اداروں کے شرائط پہ پورا اتریں۔ لہذا کسی بھی سیاسی نتیجے میں عوام نہیں جیتتی بلکہ استعمال ہوتی ہے۔ خود کو پہچانیے اور اپنے حقوق کے مارے آگاہ ہوں، ہر طرح کے بیانیے میں چھپے ارادوں کو پہچانیئے۔ یہ دور شدت پسندی اور انتہائی قومیت پرستی کا نہیں بلکہ مہارت کا دور ہے، علم کی ترویج کا عہد ہے۔ اس وقت دنیا میں ان ممالک کی قدر ہے جو کچھ پیداوار دے رہے ہیں، جو ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیئے کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دریافتوں اور نئی ایجادات کا دور ہے۔ یہ رجعت پسندی کے خاتمے کا زمانہ ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوان کے ٹیلنٹ کو دنیا میں متعارف کروائیں۔ اس دن ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں ایک آدمی کا کہنا تھا کہ یورپ کے لیے ویزٹ ویزہ کے لیے ہمارے ہاں جو شرائط ہیں وہ باقی ایشائی ممالک کے لیے نہیں ہیں۔ دنیا سے خود کو بیگانہ یا تنہا کر کے ترقی کرنا بہت مشکل ہے۔ ابھی یہیں سے اندازہ کیجیئے کہ ہم جن ممالک کو اپنے تمام تر مسائل کا زمہ دار سمجھتے ہیں، ہماری زیادہ مشینری ان ممالک سے آتی ہے اور زیادہ قابل بھروسہ ہوتی ہے، اسی طرح ادویات کا معیار بھی وہاں زیادہ ہے بہ نسبت ہمارے۔۔۔ ہم نے دنیا سے سیکھنا ہے اور وہ خود کو آئیسولیٹ کر کے ممکن نہیں۔ یہ ہتھیاروں میں خود کفالت سے آگے کی دنیا ہے۔

مگر ایک بات کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں کہ لوگ اب زیادہ عرصہ مزہب کارڈ اور قومیت پہ بیوقوف نہیں بنیں گےکیونکہ بھوک کو مزہب اور قومی غیرت کے نعروں سے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔

Leave a Reply