ن لیگ کی غلطیوں کا سفر بہت طویل ہے: بابر وڑائچ

نون لیگ کی غلطیوں کا سفر بہت طویل ہے اور ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

1997 کے الیکشن سے پہلے شریف برداران اور چوہدری خاندان (گجرات) کے درمیان تعلقات بہت حد تک مثالی تھے۔ بینظیر کے دوسرے دور اقتدار میں جب نواز شریف صاحب کو پولیس ڈھونڈتی پھر رہی تھی تو وہ ظہور الٰہی پیلس گجرات میں آرام سے سو رہے تھے۔ 1997 کے الیکشن سے پہلے شریف برادران اور چوہدری برادران میں ڈیل ہوئی کہ جیت کی صورت میں نواز شریف وزیر اعظم اور پنجاب کا وزیر اعلی چوہدری پرویز الٰہی ہو گا۔ مگر جب الیکشن مسلم لیگ جیت گئی تو نواز شریف صاحب نے وفاق اور پنجاب میں ہاتھ اپنے پیٹ پر ہی مارا۔ خود وزیراعظم اور شہباز شریف کو وزیر اعلی بنا دیا۔ جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کو سپیکر پنجاب اسمبلی کا عہدہ دے دیا۔ شاید یہ چوہدری پرویز الٰہی برداشت کر جاتا پھر شہباز شریف نے چوہدری برادران کی پنجاب شوگر ملز پر پولیس کی مدد سے دھاوا بول دیا۔ جہاں سے باہمی تقسیم مزید گہری ہوتی گئی۔

جب مشرف نے 1999 میں مارشل لا لگایا تو چوہدری برادران نواز شریف کی سعودیہ روانگی کے بعد مسلم لیگ میں بننے والے ہم خیال گروپ کو جوائن کیا اور بہت جلد مشرف کے ساتھ معاملات نبٹا کر 2001 کے بلدیاتی الیکشن میں مشرف حکومت کا حصہ بن گے۔ پھر 2002 میں ق لیگ کا جنم ہوا اور چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر بیٹھ گئے۔ پھر 2018 میں محض 9 سیٹیں جیت کر پنجاب میں حکومتی اتحاد میں شامل ہو کر سپیکر پنجاب اسمبلی بنے اور آج جولائی 2022 میں ایک بار پھر مسلم لیگ نون کے مقابل وزیر اعلی پنجاب صرف 10 سیٹوں کی بدولت بننے میں کامیاب ہو گئے۔
1997 میں چوہدری برادران اور شریف خاندان کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑ آج تک قائم ہے۔ اگر نواز شریف صاحب 1997 میں اپنے بھائی شہباز شریف کی بجائے پرویز الٰہی کو وزیر اعلی پنجاب منتخب کرتے تو شاید آج پنجاب میں صورت حال قدر مختلف ہوتی۔
شریف خاندان جدید دور کے تقاضوں کو آج بھی سمجھ نہیں سکا اور پھر 2022 میں 1997 والی تاریخ دھراتے باپ بیٹا وزیراعظم اور وزیر اعلی کے منصب پر براجمان ہو کر نوجوان نسل کی آنکھوں میں مزید گراوٹ کا شکار ہو گئے۔ پرویز الٰہی جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو عمران نیازی نے کہا۔ آج اسی پی ٹی آئی کے سپورٹ محض اس لیے پرویز الٰہی کے وزیر اعلی بننے پر خوشیاں منا رہے ہیں کہ وہ ایک خاندان کو حق حکمرانی نہیں دینا چاہتے۔ انسانی زندگی ہمیشہ ارتقائی سوچ کا سفر جاری رکھتی ہے۔ پہلے انسان بادشاہوں کے قصیدے پڑھتے تھے۔ مگر اب انسان ایک ہی خاندان کو جمہوریت کے دور میں بھی زیادہ عرصہ تک اقتدار میں دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ یہ ایک حقیقت ہے، جس کو تسلیم کرنے والے آگے چل سکیں گے۔ جو اس سسٹم سے جڑے رہنے پر بضد رہے وہ سیاست کے نقشے سے اوجھل ہو جائیں گئے۔

ساتھ شہباز شریف کو اقتدار کی لالچ، شیروانی کے شوق اور جیل کے خوف نے 4 ماہ کی حکومت میں انتہا درجہ کا بزدل ثابت کیا۔ اس کا وزیر احسن اقبال دوسرے ممبران کے حلقوں کے ترقیاتی بجٹ ریلیز نہیں کر سکا۔ کہ کہیں نیب اس پر مقدمات نہ بنا دے۔ سیاست خوف سے نہیں حوصلے اور ہمت سے کی جا سکتی ہے۔
(نوٹ: مندرجہ بالا تحریر بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے ، ادارے کا اس متفق ہونا ضروری نہیں)

Leave a Reply