جج ، جرنیل اور سیاستدان تحریر: مطیع الرحمان بھٹی

پاکستان بنایا اس لئے گیا تھا کہ یہاں آئین کی پاسداری کی جائے گی، یہاں وہ قانون لاگو کیا جائے گا جو آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہمارے آخری نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم نے مسلم امت کو دیا۔ پاکستان کی اساس تھی لا الہ الا اللہ مگر پاکستان بنانے والے قائد کو بیماری کے وقت خراب ایمبولینس دی گئی اور قائد کی موت واقع ہو گئی ،اس کے فوراً بعد ملک بنانے والے کی بہن کو ذلیل و رسوا کرکے ملک میں زندہ رہنے کے قابل نہ چھوڑا گیا. بعد میں ملک کو ہر کسی نے اپنے باپ کا گھر سمجھ کر جو زیادتیاں کیں وہ آج تک بھلائے نہیں بھولتیں۔

اس ملک میں جب بھی کسی کی حکومت بنی وہ ہمیشہ کسی اور کے اشاروں پر چلنے والی حکومت ہی رہی۔
پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کے نام قوم تو شاید یاد نہ رکھے مگر تاریخ نہیں بھولنے دے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ زرداری پر بینظیر بھٹو کے بھائی کو قتل کروانے کا الزام لگا ، شہباز شریف پر ماڈل ٹاؤن واقعہ میں معصوم شہریوں کو قتل کرانے کا الزام ہے ، ان دونوں بڑی جماعتوں کے سربراہان پر الزامات ہیں مگر آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی۔سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی پشت پناہی ہمیشہ سے اسٹبلشمنٹ نے کی؟ پیپلزپارٹی پر ملک توڑنے کا الزام لگا تو نواز شریف پر کارگل جنگ میں جوان شہید کروانے کا مگر آج دونوں اپنے وفادار ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔

.
اسٹبلشمنٹ کے منافقانہ رویوں سے جب ملک کی دو بڑی جماعتیں باغی ہو گئیں تو اسٹبلشمنٹ نے ایک اور سیاسی بچہ پیدا کیا گیا، جس کا نام عمران خان ہے۔ اسے بھی اپنے مقصد کے استعمال کے لئے تیار کیا گیا۔اسے بھی وہ تمام حربے بتائے گئے۔
عمران خان جو سیتاوائٹ کیس میں مطلوب ہے،ہماری عدالتوں نے اسے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دیا۔وہ جب اقتدار میں آیا تو اس نے آتے ہی نہ صرف ملک بلکہ جمہوریت کا جنازہ نکال دیا۔ اس کو لانے والے بھی پچھتانے لگے تو اسے نکال دیا۔

اس ملک میں ڈیم بنانے کے نام پر ایک چیف جسٹس پیسہ اکھٹا کرتا ہے، اس پر ڈیم کے پیسوں سے بیرون ملک بیٹے کی منگنی کرنے کا الزام لگتا ہے لیکن کوئی نہیں پوچھتا ، حالیہ کیس کی بات کروں تو عدالت ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار تو دیتی ہے مگر اسے سزا نہیں دی دیتی ، سوال تو پیدا ہوتا ہے ناں اگر ڈپٹی اسپیکر نے جرم کیا ہے تو سزا اسے کیوں نہ سنائی گئی ۔

یہاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ عدالتوں میں لاکھوں اہم کیس نہیں سنے جاتے مگر پب جی گیم کا فیصلہ فوری کیا جاتا ہے۔ لاکھوں درخت کاٹ کر ملتان ڈی ایچ اے بنایا جاتا ہے ، عدلیہ کیوں نوٹس نہیں لیتی ۔

اگر کوئی مجھ سے سوال کرے گا کہ ملک کی تباہی کے ذمہ دار کون ہیں تو تو میں بنا سوچے بس یہ کہوں گا! جج، جرنیل اور سیاستدان۔

نوٹ: مندرجہ بالا تحریر بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے،ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں

جج ، جرنیل اور سیاستدان تحریر: مطیع الرحمان بھٹی” ایک تبصرہ

Leave a Reply