حضرت عمر فاروقؓ کا نظامِ حکومت و اصلاحات، تحریر: ​محمد راشد بُھٹہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلانِ نبوت کیا تو آپ نے نہ صرف ایک دین کا اعلان کیا بلکہ ایک نظام کا اعلان کیا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب اہلِ مکہ نے ظلم و ستم ڈھائے تو آپ نے مکہ سے یثرب ہجرت فرمائی. یوں نبوت کے تیرہویں سال پہلی اسلامی ریاست یعنی ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھی گئی. آپ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں اس ریاست کا بنیادی ڈھانچہ ترتیب دیا جو کہ قرآن پاک کے اصولوں کے عین مطابق تھا.آپ کے بعد خلیفۃالرسول خلیفۃ المسلمین حضرت ابوبکر صدیق نے اس نظام کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا. اس کے بعد خلافت کا منصب مرادِ رسول, انتخابِ رب العالمین, وزیرِ پیغمبر, فاتح بیت المقدس یعنی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو سونپا گیا.

حضرت عمر ن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ے 13ہجری 633ء کو حکومت سنبھالی.حضرت ابوبکر صدیق کے عہد میں مدعیانِ نبوت اور مرتدینِ عرب کا خاتمہ ہو کر فتوحاتِ ملکی کا آغاز ہوچکا تھا.حضرت عمر فاروقؓ نے ان فتوحات کو مزید وسعت دی. آپ کے دور میں عراق, ایران, شام, مصر ,آذربائیجان , آرمینیا اور بہت سے جزائر فتح ہوئے. ان تمام مفتوحہ علاقوں میں اسلام کا پرچم بلند ہوا.

حکومت یا خلافت کی بنیاد اگرچے حضرت ابوبکر کے عہد میں رکھی جا چکی تھی لیکن نظامِ حکومت کا دور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور سے شروع ہوتا ہے. آپ نے ایک طرف تو فتوحاتِ ملکی کو وسعت دی تو دوسری طرف ملک و سلطنت کا نظام قائم کیا. اس نظام کو اس قدر ترقی دی کہ آپ کی وفات تک حکومت کے جتنے مختلف شعبے ہو سکتے تھے معرض وجود میں آ چکے تھے.

آپ کا نظامِ حکومت جمہوری طرز کا تھا نہ کہ شخصی حکومت تھی. آپ نے ایک مجلسِ شوریٰ قائم کی جو انصار اور مہاجرین کے سرکردہ لوگوں پر مشتمل تھی جو عمومی مسئلے پر اپنی رائے دیتی تھی. علاوہ ازیں کسی خاص مسئلے پر اعلان عام ہوا کرتا تھا.آپ کے نظام حکومت میں رعایا کی مداخلت بھی شامل تھی. جب کوفہ ,بصرہ اور شام کے عاملین کو مقرر کیا جانے لگا تو وہاں کے لوگوں کی رائے بھی لی گئی تھی.

آپ کے دور میں ملک کو صوبوں اور ضلعوں میں تقسیم کیا گیا اور عہدے ان لوگوں کو دیئے گئے جو اس قابل تھے. آپ نے اقربا پروری کا خاتمہ کیا. رشوت سے بچاؤ کے لئے عہدیداروں کی تنخواہیں مقرر کی گئیں. احتساب کا کڑا نظام تھا. آپ جب بھی کسی عامل کو مقرر کرتے تو اس سے حلف لیا جاتا اور زمانہ حج میں اس کو طلب کیا جاتا. اگر اس کے خلاف کوئی شکایت ہوتی تو اس کی تحقیق کی جاتی بعض اوقات کمیشن تک بنایا جاتا. آپ کے دور میں خراج کا نظام رائج ہوا.آپ نے عراق کی زمین کی پیمائش کی. لوگوں پر لگان لگایا. بندوبست اور مال گزاری کا محکمہ وجود میں آیا. آپ کے دور میں محکمہ آبپاشی نے خوب ترقی کی.تمام مفتوحہ علاقوں میں نہریں کھدائی گئیں.

آپ کے دور کا شاہکار یعنی آپ کا بہترین عدالتی نظام تھا.آپ نے عدلیہ کو انتظامیہ سے جدا کیا. آپ حقیقی معنوں میں ظلِ الٰہی کہلائے. لوگوں کو قانون کے بارے میں بتانے کے لیے محکمہ افتاء قائم کیا گیا. آپ نے پولیس اور فوجداری کا محکمہ بنایا. جیلیں بنوائیں. جلاوطنی کی سزائیں متعارف کروائیں. بیت المال کا قیام عمل میں مہمان خانے تعمیر کیے گئے. سڑکیں اور پل تعمیر کئے گئے.ان پر چوکیاں اور سرائیں بھی بنائی گئی تھیں. آپ کے دور میں بہت سے شہر آباد ہوئے.جن میں کوفہ اور بصرہ سرِفہرست ہیں. آپ کے دور میں محکمہ فوج نے بھی خوب ترقی کی. فوج کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا.ان کے لئے چھاونیاں بنوائیں گئیں. رسد کے انتظام کے لیے علیحدہ محکمہ اور دفاتر قائم کیے. آپ ہی کے دور میں یہ اصول قائم کیا گیا کہ ہر فوجی کو تین ماہ کے بعد لازمی چھٹی پر بھیجا جائے.

آپ کے دور میں تعلیم کی ترویج ہوئی. حفاظت قرآن پر بھی کام ہوا.شاعری کی اصلاح کی گئی.حدیث کی تدوین پر بھی کام ہوا. آپ نے اماموں اور موذنوں کا تقرر کیا.مساجد کی تعمیر ہوئی.حج کی قافلہ سالاری کی گئی. حرم اور مسجد نبوی کو وسعت دی گئی سنِ ہجری کا اجرا کیا.آپ کے دور میں پہلی مرتبہ مردم شماری کی گئی.

آپ کے دور میں ذمی رعایا کو وہ حقوق دیئے جو ان کو اسلام سے پہلے حاصل نہ تھے. ان کو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی. ذمی رعایا سے متعلق معاملات میں انہی سے مشورہ کیا کرتے تھے. ان کی عزت و تکریم کا خیال کیا گیا .آپ کے دور میں غلامی کا رواج ختم ہوا. اصولِ مساوات قائم ہوا. غرور و تکبر کا استحصال ھوا.حق گوئی نے پرورش پائی. آپ کے دور میں شراب پر پابندی یقینی بنائی گئی.

یوں یکم محرم الحرام 644ء کو 10 سال 6 ماہ 4 دن کی خلافت کے بعد 22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل کا حکمران اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا.آپ ظاہری طور پر تو اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن آپ نے دنیا اور انسانیت کیلئے ایسی خدمات سر انجام دیں جو سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں.آج نہ صرف مسلمان بلکہ بہت سے غیرمسلم ممالک میں آپ کے قوانین ‘عمر لاز’ کی صورت میں موجود ہیں.

یہ بھی پڑھیں: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا یوم شہادت آج عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے

آپ کی ان انتظامی اصلاحات کو دیکھا جائے تو یقینا یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ایک وقت تھا کہ عمر فاروق میدانِ عرفات میں اونٹ پکڑنا چاہتے تھے لیکن نہ پکڑسکے. ایک وقت آیا کہ آپ اس وقت کی سپر پاور کی حکمرانی کر رہے تھے. یہ کیسے ممکن ہوا؟ تو لامحالہ ماننا پڑتا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ہی نتیجہ تھا.

محمد کے صحابی کا وہ زمانہ یاد آتا ہے
بدل کر بھیس گلیوں میں وہ جانا یاد آتا ہے
نجف اس عہد کی مائیں جب آٹے کو ترستی ہیں
عمر! تیری خلافت کا زمانہ یاد آتا ہے

نوٹ: ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

حضرت عمر فاروقؓ کا نظامِ حکومت و اصلاحات، تحریر: ​محمد راشد بُھٹہ” ایک تبصرہ

Leave a Reply